• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صائمہ کنول، صادق آباد

دُکھ ، پریشانی ،خوف ، بیماری یا رَنج و اَلم کا عالم ہو، تو یوں لگتا ہے، جیسے وقت ٹھہر سا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت چاہے جیسا بھی ہو،گزر جاتا ہے۔ عالم خوشی کا ہو یا غم کا، کبھی مستقل نہیں ہوتا۔ کوئی برس خزاں رُتوں کی سی اُداسی میں لپٹا گزرتا ہے، تو کوئی سال بہت سی اُمیدیں، خواب اور نئی اُمنگیں ساتھ لیےآتا ہے۔ ویسے ،اگر ہم چاہیں، تو اُمید کی روشنی سے بھی خوشیاں کشید کر سکتے ہیں۔ 

یہ ٹھان کر کہ کبھی اپنی اُمیدوں کے چراغ گل نہیں کریں گے اور مایوسیوں کے اندھیرے میں خود کوغرق نہیں ہونے دیں گے۔ اُمید کو زندہ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ہمیں ایک تناور، سایہ دار درخت کی مانند دُکھوں، پریشانیوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی کڑی دُھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں بخشتی ہے۔واصف علی واصف نےکہا تھا ’’مایوسی کی دیوار میں ربِ کائنات کی رحمت اُمید کے دروازے کھولتی رہتی ہے، لہٰذا انتظار ترک نہ کیا جائے کہ وہ وقت جس کا ہمیں انتظار ہوتا ہے، آتا ضرورہے‘‘۔

ایک عجیب سا جملہ اکثر سُننے میں آتا ہے کہ فلاں کا وقت اچھا ہے،فلاں پر بُرا وقت آگیا ۔ ایسا نہیں ہے، وقت اچھا یا بُرا نہیں ہوتا، کیوں کہ اسے اچھا یا بُرا بنانے اور نہ بنانے کا اختیار کسی حد تک ہمارے پاس ہوتا ہے۔آخر یہ اچھائی و بُرائی ہم اپنے اندر کیوں نہیں دیکھتے؟ اپنے آپ کو پرکھنے اور اپنے اعمال کو جانچنے کا تو جیسےہمیں وقت ہی نہیں ملتا، کیوں کہ ہم اس کے لیے کوشش ہی نہیں کرتے۔ وقت اچھا بنانے کے لیے ہمیں اچھائی کی روش اپنانی چاہیے، کیوں کہ بُرائی ختم کرنے کا واحد ہتھیار اچھائی ہی ہے۔ 

اچھائی پر قائم رہنے اور اسے پھیلانے ہی کی ایک مثال ہے کہ ایک بزرگ دریا کنارے کھڑے تھے۔ ایک بچّھو کنارے پر چلتے چلتے دریا میں گِر گیا۔ بزرگ نے فوراً بچّھو ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکال دیا۔ بچّھو نے بزرگ کے ہاتھ پر ڈنک مارا۔ بزرگ نے اسے خشکی پر اُتارا، کچھ دیر گزری، بچّھو پھر پانی میں گِر گیا۔ بزرگ نے اسے دوبارہ نکالا اور بچھو نے اس بار بھی بزرگ کو ڈنک مارا۔جب تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا تو پاس کھڑے ایک آدمی سے، جو بہت دیر سے یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا، رہا نہیں گیا۔ 

اس نے بزرگ سے کہا،’’بابا جی! آپ کیوں ہر بار اس کی مدد کو دوڑتے ہیں، جب کہ یہ ہر بار آپ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آپ اس کے ساتھ اچھائی کر رہے ہیں اور یہ ہر بار آپ کے ساتھ بُرائی کر رہا ہے۔‘‘ بزرگ نے مُسکرا کر جواب دیا کہ جب ’’یہ بُرائی سے باز نہیں آ رہا تو مَیں اچھائی سے باز کیوں آؤں۔‘‘ اسی طرح اگرہم بھی اچھائی کو اپنا شعار بنا لیں، تو بُرائی کرنے والے کا جواب بُرائی سے دینا ترک کردیں تو یقیناً کبھی نہ کبھی بُرائی ختم ہوہی جائے گی۔

اچھی سوچ، مثبت عمل اور خالص لگن پُرخار راستوں میں بھی اُلجھنے نہیں دیتی۔ دُکھ، پریشانی اور مصائب زندگی کاحصّہ ہیں۔ اگر انہیں صبر و تحمّل سے برداشت کرنے کی کوشش کریں، تو زندگی سہل ہو جاتی ہے۔ ہمیں اپنے اِردگرد کوئی ہم درد ضرور ڈھونڈنا چاہیے، جو دِل کی بات سُن سکے، دُکھوں کا مداوا کرسکے اور تسلّی دے سکے۔ اس کے ساتھ ہمیں خود کو بھی اس قابل بنانا چاہیے کہ کوئی ہم پر اعتماد کر سکے اور بلا جھجھک اپنے دِل کی بات کہہ سکے۔ 

کسی کے ٹوٹے ہوئے دِل کو تسلّی دینا ، مایوسی کے اندھیروں میں ڈُوبے ہوئے لوگوں کو اُمید کے راستے پر چلانا ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔ آئیں،آج سے اُمیدیں تعمیر کریں، لوگوں سے محبّت کریں،اپنوں سے وفاداری نبھائیں، نہ صرف انسان بلکہ جانوروںاور پیڑ پودوں تک سے اچھا سلوک کریں۔ کیوں کہ کسی بھی مثبت کام میں خرچ کی جانے والی توانائی کبھی ضایع نہیں جاتی۔ مثبت اندازِ فکر ہی سے زندگی کو جواز ملتا ہے۔ 

ہم اپنے دِل،گھر اور رویّے میں وسعت پیدا کریں گے، تو ہی ایک بہتر ’’کل‘‘ کی تعمیر ممکن ہوگی ۔ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر کے ہی ہم محبّت وخلوص، وفاداری و صلۂ رحمی اور احساسِ ذمّے داری سے اپنے ’’آج‘‘ اور آنے والے ’’کل‘‘ کو بہترین بنا سکتے ہیں۔

تازہ ترین