• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کے پہلے سیاہ فام ٹرین ڈرائیور کی یاد میں تختی کی نقاب کشائی

لندن (پی اے) برطانیہ کے پہلے سیاہ فام ٹرین ڈرائیور کی یاد میں گزشتہ روز یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی گئی، جمیکا میں پیدا ہونے والے ولسٹن سیموئیل جیکسن نے 1952 میں برطانیہ آنے کے فوری بعد ٹرینوں کی دیکھ بھال کا کام شروع کردیا تھا اور 10سال بعد ڈرائیور بن گیا تھا، وہ طویل عرصے تک ریلوے سے وابستہ رہے اور انھوں نے مشہور فلائنگ اسکاٹس میں انجن بھی چلایا تھا۔ پیر کو لندن کے کنگ کراس اسٹیشن پر اپنی تختی کی نقاب کشائی کے موقع پر جیکسن کی سب سے چھوٹی بیٹی پولی جیکسن نے کہا کہ میرے والد نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ریلوے کیلئے وقف کردیا تھا، انھوں نے متعدد چیلنجوں کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود کبھی ناغہ نہیں کیا اور کبھی لیٹ نہیں ہوئے، انھیں اپنے اس کام پر فخر تھا، آج ان کی خدمات کا بالکل صحیح اعتراف کیا گیا ہے۔ جیکسن جو Bill کے نام سے مشہور تھے، ابتدائی طورپر ٹرینوں کی صفائی اور دیکھ بھال کے کام سے کیریئر کا آغاز کیا اور ٹرین بوائلرز کے منیجر کے عہدے تک پہنچ گئے، وہ سارا دن نامساعد موسم شدید گرمی اور گرد آلود موسم میں انجن میں کوئلہ ڈالتے تھے اور گھر واپس جانے کے بعد ٹرین ڈرائیور کے امتحان کی تیاری کرتے تھے۔ وہ ٹرین ڈرائیور کے عہدے پر پہنچنے والے پہلے سیاہ فام فرد نہیں تھے بلکہ بہت سے سیاہ فام افراد کی درخواستیں نسل پرستی کی وجہ سے روک لی جاتی تھیں۔ 1962 میں ٹرین ڈرائیور کی حیثیت سے ان کی تقرری پر ان کے سفید فام ساتھیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا لیکن وہ کسی سفید فام کو ان کی ماتحتی میں کام کرنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 2 سال بعد سگنل مین کی غلطی کے سبب ہونے والے ٹرین کے ایک حادثے میں ان کے دونوں پیر ٹوٹ گئے، طویل عرصہ صاحب فراش رہنے کے بعد وہ دوبارہ ریلوے میں واپس آئے، بعد ازاں وہ اپنی فیملی کے ساتھ زمبیا چلے گئے، جہاں وہ لوگوں کو ٹرین چلانا سکھاتے تھے۔ ستمبر 2018 میں 91 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ نیٹ ورک ریل کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو Haines نے کہا کہ ولسن کی زندگی اور کیریئر کے بارے میں جان کر مجھے حیرت ہوئی، وہ ہماری انڈسٹری کا وقار تھے اور ان کی خدمات کے پیش نظر ہم ان کے مقروض ہیں، یہ یا دگار تختی ان کےکیریئر کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ٹرین ڈرائیورز اور ریلوے ورکرز کی اگلی نسل سبق حاصل کرے گی کیونکہ کچھ پیش رفت کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری انڈسٹری میں ان کی نمائندگی کم ہے۔ ٹرین ڈرائیورز یونین Aslef کے مطابق برطانیہ میں سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ٹرین ڈرائیورز کی شرح صرف 10 فیصد ہے۔ اسلیف کے جنرل سیکرٹری مک وہیلن نے کہا کہ ہمیں ولسن پر فخر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کم وبیش 60 برس بعد ولسٹن کو ان کا صحیح مقام دیا گیا ہے۔
یورپ سے سے مزید