• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این سی بی افسر سمیر واکھنڈے کی مسلمان ہونے کی تردید

بھارتی اداراے اینٹی نارکوٹکس بیورو ’ این سی بی‘ کے نمائندے، شاہ رُخ خان کے بیٹے آریان خان کے منشیات کیس کی قیادت کرنے والے سمیر واکھنڈے کی جانب سے مذہب تبدیل کرنے کے بعد مسلمان ہونے کی تردید کی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک کی جانب سے سوشل میڈیا پر چند ثبوتوں کے ساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سمیر واکھنڈے مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہو چکے ہیں۔

وزیر نواب ملک کا دعویٰ ہے کہ سمیر واکھنڈے نے شادی ہندو رسومات کے تحت نہیں بلکہ مسلمانوں کی طرح نکاح کیا تھا اور سمیر واکھنڈے نے بھارتی اعلیٰ سرکاری ادارے میں غیر منصفانہ طریقے سے نوکری حاصل کی ہے۔

بھارتی وزیر نواب ملک کے اس دعوے کے جواب میں سمیر واکھنڈے نے بھی اپنا رد عمل دیا ہے۔

سمیر واکھنڈے نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نکاح کرنا اُن کی ماں کی خواہش تھی، وہ پیدائش سے لے کر ہندو تھے اور ہندو ہی ہیں، اُن کا تعلق ایک دلت خاندان سے ہے، اُنہوں نے مذہب تبدیل نہیں کیا ہے، بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور اُن کے والد ہندو اور والدہ مسلمان تھیں اور وہ دونوں سے پیار کرتے ہیں۔‘

سمیر واکھنڈے کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ اُن کی والدہ کی خواہش تھی کہ اُن کی شادی مسلمانوں کی رسومات کے تحت ہو اور اُنہوں نے اسی مہینے میں اپنی شادی کو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر بھی کروایا تھا کیوں کہ  جب دو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شادی کرتے ہیں تو اُنہیں اپنی شادی میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر بھی کروانی ہوتی ہے۔‘

اس کے بعد میں اُن کی طلاق ہو گئی تھی اور اگر انہوں نے مذہب تبدیل کیا ہے تو مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک اس کا ثبوت بھی پیش کریں۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر نواب ملک کی جانب سے آج صبح سمیر واکھنڈے کا نکاح نامہ اور شادی کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید