• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سماعت پھر ملتوی، آریان خان کے 15 نومبر تک جیل میں رہنے کا خدشہ

بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو منشیات برآمدگی کیس میں آج بھی ضمانت نہیں ملی، کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی گئی جس کے بعد ان کے 15 نومبر تک جیل میں رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس نتن ڈبلیو سامبرے پر مشتمل بمبئی ہائی کورٹ کا سنگل بینچ اس کیس میں گرفتار آریا خان، ارباز مرچنٹ اور مونمون دھامیچا کی ضمانت کی درخواستیں سن رہے ہیں۔ 

بتایا جارہا ہے کہ بھارت میں مذہبی تہوار دیوالی کے سلسلے میں بمبئی ہائی کورٹ کی چھٹیاں یکم نومبر سے شروع ہوجائیں گی، جو 12 نومبر تک جاری رہیں گی جبکہ 13 اور 14 نومبر کو ہفتہ اور اتوار کے باعث کیس کی اگلی سماعت کم از کم 15 نومبر کو ہوگی۔ 

خیال رہے کہ بھارت کے انسداد دہشت گردی کے ادارے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ممبئی میں ساحل کے قریب کروز شپ پر پارٹی کے دوران چھاپا مارکر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان اور ان کے دوست ارباز مرچنٹ کو گرفتار کرلیا تھا۔ 

این سی بی کی جانب سے ان پر منشیات رکھنے اور استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جسے پہلے آریان نے مسترد کیا جبکہ بعد میں اس سے متعلق اعتراف بھی کرلیا تھا۔ 

مذکورہ کیس میں آریان خان اس وقت ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں ہیں جبکہ اس دوران انہوں نے مجسٹریٹ کی عدالت اور پھر این ڈی پی ایس کی عدالت میں درخواست ضمانت جمع کروائیں اور ان کی یہ دونوں درخواستیں مسترد ہوگئیں جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ 

تاہم اب آریان خان، ارباز مرچنٹ اور مونمون دھامیچا کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے جس میں آج ہونے والی سماعت کے دوران ارباز مرچنٹ کے وکیل امیت دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ آریان، ارباز اور مونمون کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ 

وکیل نے عدالت میں دلائل دیے کہ ان کے موکل کو سخت شرائط میں رکھا جاسکتا ہے لیکن انہیں سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جاسکتا، چونکہ اس جرم کی سزا صرف ایک برس ہے۔ 

آریان کے وکیل سابق اٹارنی جنرل مکول روہاتگی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا تقاضہ ہے کہ آپ کسی کی گرفتاری کا صحیح اور بالکل درست جواز پیش کریں۔ 

ارباز مرچنٹ کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ کی گفتگو اور ممبئی کروز شپ کیس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید