• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ’’امور مملکت‘‘ کے حوالہ سے پائی جانے والی ’’کنفیوژن اور تذبذب‘‘ کی صورتحال کے بارے میں کئی خبریں گردش کر رہی ہیں ۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر حکومتی عہدیدار خود کو ’’سیاسی گمشدگی‘‘ کی فضاء میں محسوس کر رہے ہیں ۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ’’کچن کابینہ ‘‘ کے ارکان نجی محفلوں میں ایک دوسرے سے ’’اشاروں کی زبان‘‘ استعمال کر رہے ہیں ۔’’کرتا دھرتا ‘‘ کی شہرت رکھنے والے ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت کے لئے کئی اہم معاملات اتنی بڑی پیچیدگی کے ماحول میں مبتلا ہیں کہ ہر طرف ’’بندگلی‘‘ کا منظر دکھائی دے رہا ہے ۔ ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کا کہنا ہے کہ ’’افسرشاہی ‘‘ کے اندر بھی اضطراب پایا جا رہا ہے ۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حساس اداروں میں ’’شدید تحفظات‘‘ کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں؟

اعلیٰ افسر کی مشکوک سرگرمیاں ؟

وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں وفاقی سیکرٹری کی سطح کے ایک اعلیٰ افسر کی ناقابل برداشت اور مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں ۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ بیوروکریٹ کی بیوی اور بچے بیرون ملک میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ وہ اکیلے اپنی سرکاری اقامت گاہ میں قیام پذیر ہیں۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ایک اہم وزارت کے سیکرٹری کے عہدہ پر تعیناتی کے دوران وہ ایک بڑی سرکاری کارپوریشن کے دو ایسے افسران کی سرپرستی کرتے رہے ہیں جو کرپشن اور بدعنوانی کے کئی واقعات میں ملوث رہے ہیں ۔خفیہ ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ وفاقی سیکرٹری کے عہدہ کے اس اعلیٰ افسر کی ’’رنگین محفلوں‘‘ کے بارے میں کئی داستانیں زبانِ زدعام ہیں ۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’خفیہ ہاتھوں‘‘ کی آشیرباد پر وہ کلیدی عہدہ پر تعینات ہیں؟

سیکرٹری بلدیات کی دلیری

صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کے احکاما ت اور ان پر عملدرآمد کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں ۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے مذکورہ اداروں کی بحالی کا ابتدائی نوٹیفیکیشن دانستہ طور پر ’’مبہم انداز‘‘میں جاری کیا تھا۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ جب مذکورہ نوٹیفیکیشن کو عدالت عظمیٰ میں پیش کیا گیا تو سخت برہمی کے اظہار کے بعد ’’توہین عدالت‘‘ کے خوف سے اس میں واضح تبدیلی کر دی گئی ۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ سیکرٹری بلدیات پنجاب نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کی روح کے مطابق واشگاف احکامات جاری کرنے کے معاملہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے و الوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ بیوروکریٹ نے دو بڑے حکومتی عہدیداروں کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید