• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوگر ملز مالکان کی درخواستوں پر 10 سال بعد فیصلہ محفوظ

سندھ ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کی جانب سے دائر کی گئی 2010ء کے ایکٹ، آرڈیننس اور شوکاز نوٹسز کے خلاف درخواستوں پر 10 سال بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں شوگر ملز مالکان کی جانب سے دائر کی گئی 2010ء کے ایکٹ، آرڈیننس اور شوکاز نوٹسز کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر فریقین نے عدالت میں تحریری دلائل بھی جمع کرا دیئے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا، جس کی حکومت کی جانب سے ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی گئی تھیں، ایف آئی اے نے رپورٹ میں شوگر ملز مالکان کو بحران کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن کی رضا مندی سے گنے کی خریداری، شوگر پیداوار اور قیمت کا تعین ہوتا ہے۔

کمپٹیشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ایسوسی ایشن کے نرخ پر کنٹرول اور اجارہ داری ختم کرنے کے لیے قانون بنایا گیا۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے رپورٹ میں مل مالکان کی جانب سے دستاویزات چھپانے کا بھی انکشاف کیا۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 2010ء کا ایکٹ ختم ہو گیا تھا، شوکاز نوٹسز کا اجراء بھی غیر قانونی ہے۔

قومی خبریں سے مزید