• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اپوزیشن کے احتجاج: کیا حکومت کو کوئی فرق پڑے گا؟

جس وقت عوام مہنگائی سے بلک رہے ہیں اور پورا ملک اس عفریت کی لپیٹ میں آچکا ہے ،اس دوران حکومت کے وزراء ایک ایسی دنیا کا نقشہ پیش کررہے ہیں ،جس میں مہنگائی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،ملتان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس بات پر زور دیتے رہے کہ ملک معاشی طورپر مستحکم ہو چکا ہے ،معیشت بہتر ہورہی ہے ،عوام کے حالات بدل رہے ہیں اور اپوزیشن کا واویلہ جو اس نے مہنگائی کے حوالے سے مچا رکھا ہے ،ایک بے وقت کی راگنی ہے ،کیونکہ اس کے پاس کوئی اور ایشو نہیں ہے۔

اس لئے وہ اس ایشو پر سیاست کررہی ہے ،حالانکہ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے اور حکومت نے اپنی کوششوں سے عوام پر اس کے کم سے کم اثرات آنے دیئے ہیں ،اب کوئی ان کی اس بات کو سنے ،تو سر پیٹ کر نہ رہ جائے ،یہ جب سے مہنگائی کو عالمی مسئلہ قرار دینے کی راہ نکالی گئی ہے اور جس طرح مہنگائی کا موازنہ دیگر ممالک سے کیا جانے لگا ہے، اس وقت سے ایسے ستم ظریفانہ بیانات اکثر سننے کو ملتے ہیں ،جب وزیر اعظم خود یہ کہیں کہ بھارت میں تیل پاکستان سے مہنگا ہے اور 250 روپے لٹر فروخت ہورہا ہے ،تو اسے اگراپوزیشن جھوٹ کہتی ہے ،تو کچھ غلط نہیں کہتی ،کیونکہ بھار ت میں تیل ان کرنسی کے مطابق 106 روپے لٹر ہے۔

ایک ہمسایہ ملک کے بارے میں ایسے اعداد وشمار دے کر وزیراعظم اپنے عوام کو طفل تسلی تو دے سکتے ہیں ،لیکن اس سے عوام کی تشفی نہیں ہوسکتی، کیونکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم نہ کرنا ایک ایسا عمل ہے ،جسے ظالمانہ ہی کہا جاسکتا ہے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی چونکہ ساری دنیا کے دورے پر رہتے ہیں اور ان کے یہ یہ دورےبھی سرکاری ہوتے ہیں ،اس لئے وہ وہاں کی مہنگائی کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان ممالک کی فی کس آمد نی کیا ہے۔

عوام کی قوت خرید اور مہنگائی کا کیا تناسب چل رہا ہے ،اس لئے وہ پاکستان آکر اسی فضا میں رہتے ہیں اور انہیں اپنے اردگر د کے زمینی حقائق کا علم ہی نہیں ہوتا ،وہ سیاسی مخالفین کو ضرور تنقید کا نشانہ بنائیں ،لیکن کم ازکم یہ کہہ کر عوام کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں کہ مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے ،عالمی سطح پر مہنگائی ہو نہ ہو ،پاکستان میں سب کچھ سامنے ہے کہ کون سی چیز کس بھاؤ ملتی تھی اور اب اس کی قیمت کیا ہوچکی ہے ،پٹرول اس وقت تاریخی طور پر مہنگا ترین ہے ،چینی ،آٹا مہنگائی میں ریکارڈ قائم کرچکے ہیں ، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ایک روپیہ اڑسٹھ پیسہ کا اضافہ کردیا گیا ہے ،اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔

صرف یہی نہیں ،بلکہ گندم کی بیجائی کے موسم کھادوں کی نایابی اور مہنگائی اور دوسری طرف سیمنٹ ، سریہ ،تعمیراتی سامان کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں ،ہرشعبہ پر اپنے اثرات مرتب کررہی ہیں ،گھی ہرنئے دن کے ساتھ مہنگا ہورہا ہے ،عوام کے چولہے واقعتاً اب ٹھنڈے ہونے لگے ہیں ،کم آمدنی یا محدود آمدنی والے طبقے اس تیزرفتار مہنگائی کے ہاتھوں زچ ہوچکے ہیں ،ان سے اگر کوئی انکار کرتا ہے اور معیشت کی بہتری و استحکام کے دعوے کرکے آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے ،تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہے ۔اس سے بڑا بھی کوئی ڈرامہ نہیں ہے ،جو عوام کو ریلیف پیکج کے نام پر رچایا جارہا ہے ،120ارب روپے اگر ایک کروڑ خاندانوں پر تقسیم کئے جائیں ،جو بقول وزیر اعظم 9 کروڑ افراد پر مشتمل ہیں ،تو یہ پیکج ویسے ہی آٹے میں نمک کے برابر نظر آتا ہے۔

پھر یہ عوام کو ملے گا کیسے اور جس طرح پہلے ایسے امدادی پیکجوں کے حوالے سے بے شمار سکینڈلز سامنے آچکے ہیں اور حق داروں تک ریلیف پہنچا ہی نہیں ہے ،تو اس بار اس پیکج کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوگا ، سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ جس دن وزیراعظم نے اس ریلیف پیکچ کا اعلان کیا ،اس سے اگلے دن پٹرول مہنگا کرکے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوالئے گئے ،صرف یہی نہیں ،بجلی کے بنیادی ٹیرف میں تبدیلی کرکے عوام پر 135 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ، یہ کیسا ریلیف ہے ،جو ملنے سے پہلے ہی دگنا کرکے وصول کیا جارہا ہے ،پھر اگروزراء یہ کہتے ہیں کہ مہنگائی ہے ہی نہیں ،تو حکومت اس قسم کے ریلیف پیکج دینے کے حربے کیوں آزما رہی ہے ،اپوزیشن نے حکومت کے اس ریلیف پیکج کو مسترد کیا ہے اور اسے عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا ہے۔

جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے ،تو ملتان سمیت کئی جگہ مہنگائی کے خلاف مظاہرے ضرور ہوئے ہیں ،مگر ایسے مظاہروں سے کیا حاصل ہوسکتا ہے ،اب پی ڈی ایم نے صوبائی سطح پر مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے ،لیکن ایسی لولی لنگڑی تحریکوں سے عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نظرنہیں آتی،لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں صرف اپنے آپ کو عوام کی نظر میں سرخرو رکھنے کے لئے یہ ہلکے پھلکے احتجاج کررہی ہے ،کیونکہ یہ بات انہیں بھی معلوم ہے کہ احتجاج اور اس قسم کے نیم دلانہ مظاہروں سے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ۔یاد رہے کہ اپوزیشن نے مہنگائی کے خلاف دو ہفتہ مظاہرے کرنے کا جو اعلان کیا تھا۔

اس دوران حکومت نے راتوں رات پٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافہ کر کے ان کی تحریک کے غبارے سے ہوا نکال دی تھی ،اپوزیشن چونکہ متحد نہیں ہے اور مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے ،اس لئے حکومت پر کوئی دباؤ نہیں پڑرہا ،ویسے بھی اپوزیشن اپنے ایجنڈے تبدیل کرتی رہی ہے ،آج اس کا سب سے بڑا ایجنڈہ مہنگائی کے خلاف احتجاج ہے ،مگر اس احتجاج کے لئے جو ایک اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ،وہ کہیں نظر نہیں آتا ،جماعت اسلامی بھی اس سارے کھیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے اور اس ہفتہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اپنی پوری جماعت کے ساتھ تین روز کے لئے ملتان آرہے ہیں ،وہ بھی یہاں جلسے کریں گے ،میڈیا سے ملاقاتیں ہوں گی اور اس کے بعد معاملہ جوں کا توں ختم ہوجائے گا ۔

ادھر پیپلزپارٹی کے وائس چئیرمین سید یوسف رضا گیلانی آئے روز مہنگائی کے خلاف ایک بیان داغ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی ہے ،وہ اس حکومت کو ناکام ترین قراردیتے ہیں ،جس نے معیشت کا بیٹرہ غرق کردیا ہے ،ان ساری باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک طرف حکومت اپنی من مانی کررہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اپنے حربے آزما کر عوام کو یہ احساس دلا رہی ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہے ،اس سارے عمل میں صرف عوام ہی ہے ،جو پس رہے ہیں اور ان کے لئے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ ادھر بلدیاتی ادارے بحال تو ہوگئے ہیں ،مگر پنجاب حکومت نے ان کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے۔

اس وقت عجیب منظر پیش آیا ، جب ملتان میں میونسپل کارپوریشن کا بجٹ اجلاس ہوا ،مگر اس میں کوئی سرکاری افسر موجود ہی نہیں تھا ،بعد میں بلدیاتی نمائندے چیف آفیسر سے توں تکار کرتے رہے ان کا گھیراؤ کیا ،جس پر انہوں نے کہا کہ آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ،کرلیں ،مگر مجھے حکم یہی ہے کہ میں اس بجٹ اجلاس کا حصہ نہ بنوں ، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے بحال تو کردیئے ہیں ، مگران کی شہ رگ پر ابھی تک اپنا انگوٹھا رکھا ہوا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید