• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ دنیا میں اس وقت حلال فوڈکا رواج عام ہورہا ہے ۔غالباً پچھلی حکومت نےحلال اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بھی تشکیل دیا تھا۔پاکستان میں وزارت سائنس کے تحت کچھ ادارے ہیں جو حلال وحرام کے متعلق قوانین بناتے ہیں ۔میں ان قوانین کی حدود جاننا چاہتا ہوں کہ کس حد تک کوئی ادارہ اس سلسلے میں قانون بناسکتا ہے، کیونکہ حلال وحرام کے احکام تو واضح ہیں؟

جواب :۔ حلال وحرام سمیت تمام شعبوں کے متعلق شریعت نے قانون سازی کی حدود متعین کردی ہیں، جس کاحاصل یہ ہے قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہو یا اس پر مبنی ہو ۔

ایک دوسرے پہلو سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ جن احکام کی شکل وصورت اور روح وحقیقت دونوں کو شریعت نے متعین کردیا ہو اوردونوں ہی مقصود ہوں، ان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی، قانون میں وہ جوں کے توں برقرار رکھے جائیں گے ،جن کی صرف حقیقت اور غایت متعین ہو، مگر شکل وصورت متعین نہ ہو ،ان میں حکم کی روح کو باقی رکھتے ہوئے قانون سازی ہوسکتی ہے، مثلاً: جہاد کی غرض ’’اعلاء کلمۃ اللہ‘‘ ہے اور یہ متعین ہے، مگر اس کی کسی خاص شکل کو شریعت نے لازم نہیں کیا ہے،اس لیے جہاد چاہے تیروں اور تلواروں سے ہو یا توپوں اور جہازوں سے ،جہاد کہلا ئے گا۔

ایک تیسرے زاویے سے یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے جو احکام لچک دار نہیں ،وہ تو ابدی اور حتمی قسم کے ہیں،قیامت کی صبح تک یوں ہی رہیں گے، چاہے زمانہ کتنی ہی کروٹیں بدل لے اورتمدن چاہے جتنی ہی ترقی کرلے،مگر جو لچک دار احکام ہیں، ان میں قانون سازی ہوسکتی ہے۔شریعت کی زبان میں اول کو ناقابل تغیر اور منصوص احکام اور ثانی کو قابل تغیر اور غیر منصوص احکام کہتے ہیں۔

حلال فوڈ کےبارے میں شرعی قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگرکوئی ادارہ شرعی حدود کے اندر یہ خدمت بجالاتا ہے تو ملک وملت کی اہم ترین خدمت بجالارہا ہے اور شکریہ کا مستحق ہے، کیونکہ اگرچہ حلال وحرام کے احکام واضح ہیں، مگرخاص حلال فوڈ کے متعلق بھی بعض مسائل ایسے ہیں جو قانون سازی چاہتے ہیں ،مثلاً حلال وحرام کے پہلو سے درآمدات وبرآمدات کے احکام ،فوڈ کی مارکیٹنگ کے لیے شرعی ضوابط ،زرعی پیداوار میں ناپاک کھاد یا استعمال شدہ پانی کاحکم ، حلال انڈسٹری کے لیے مالیاتی طریقہ کار وغیرہ ۔