• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 ہمارے ہاں عموما بات کی جاتی ہے کہ formal sector and informal sector. یعنی وہ ادارے جن کی معاشی سرگرمیاں record کی جاتی ہیں ۔ جنھیں formal sector کہا جاتا ہے ۔ جب کہ دوسرا ہے informal sector, جس کی معاشی سرگرمیوں کا کو record نہیں ہوتا۔ کہا جاتا کہ ہمارے informal sector کا حصہ قومی پیداوار میں formal sector سے زیادہ ہے۔ لیکن ابھی تک اس کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ سب گفتگو اندازوں پہ ہورہی ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس کا GDP میں یقینا بڑا حصہ ہے لیکن یہ شعبہ ملکی خزانے میں ٹیکس کے نام ایک روپیہ بھی نہیں جمع کراتا۔ لیکن ان ٹیکسوں سے بننے والے infrastructur facilitates, amenities کو بھر پور طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ جو کہ tax papers کے اوپر ایک بوجھ ہے۔غیر دستاویزی شعبہ Informal sector : smuggling, black marketing, کے علاوہ ہر اس شعبہ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں financial transactions record

نہیں کی جاتی ہیں۔ عموما یہ عمل real estate میں بہت عام ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت میں عموما نقد یعنی cash پہ سودا طے ہوتا۔ سوچیے کتنی بڑی رقم کیش کی شکل میں ادائیگی کے لے استعمال ہوتی ہے، جس میں چھن جانے کا خطرہ الگ ہوتا ہے، صرف ٹیکس بچانے کے لیے ۔اسی طرح ایک بہت ہی منظم کاروبار بھیک مانگنے کا ہے۔ اس کہ بارے میں دو رائے ہے ۔ ایک یہ کہ لوگ ذاتی کاروبار کرتے ہیں اور یہ بزنس نسل در نسل چلتا ہے ۔ اسی

لے بھکاریوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ دوسرے غالب رائے یہ ہے کہ یہ باقاعدہ ایک منظم کاروبار ہیں۔ جس کے مالکان پردہ نشین ہیں لیکن ان کا بزنس نیٹ ورک خاصہ مضبوط اور وسیع ہیں۔ اور بھکاری محض ان کے ملازمین ہیں جو اپنے مالکان کے اشاروں پہ سر تسلیم خم کرتے۔ مجال نہیں ہوتی کہ یہ بھکاری دی گئی ڈیوٹی کے خلاف کرسکیں۔ CCTV کیمرے کی طرح ان کا سخت vigilance system ہوتا ہے۔ یہ نہ اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں نا ہی کسی سے بات کرسکتے ہیں۔ اس قدر attentive جس کو ہوشیار باشت کہتے ہیں رہنا کسی اور پرفیشن میں ممکن نہیں۔ نا ان کا لنچ بریک ہوتا نا ہی نماز بریک، نا سالانہ چھٹیاں نا ہی casual leave ، بیماری sick leave کے بارے کہہ نہیں سکتے کیونکہ مشاہدے سے پکڑنا بڑا مشکل ہے۔ اگر آپ۔ان سے بات کرنے کی کوشش کریں تو یہ ادھر ادھر گھبرا کر دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کوئی ان کو دیکھ رہا ہے۔ بعض لوگوں کا تجزیہ ہے کہ ان بھکاریوں کی باقاعدہ CCTV کیمرے سے monitoring ہوتی ہے۔ لہذا کبھی بھیک کے علاوہ۔ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال کریں تو گھبرا جاتے ہیں۔اس قدر منظم کاروبار جس میں loophole کا کوئی امکان نہیں ہو بغیر "بڑوں" کی سرپرستی کے ممکن ہے؟ کیوں یہ رات گئے کھانے پینے کی دوکانوں کے اطراف موجود ہوتے ہیں ؟ صبح سویرے کام پہ جانے والوں سے پہلے یہ سگنلز، موڑ، چوراہوں ، اور مین روڈ پہ موجود ہوتے ہیں؟ ہر سگنل ، چوراہے، موڑ بھکاری کو ملنے سے پہلے بولی لگتی ہے اور اچھے دام دینے والے کے حوالے کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب "کسی کی سرپرستی " کے بغیر ممکن ہے۔ یقینا نہیں۔ غربت کا بہت ذکر کیا جاتا ہے اب یہ دیکھنا ہے اصل میں غریب کی تعریف کیا ہے اور غربت کے نام کتنے اور کیسے کاروبار کیے جارہے ہیں لیکن قومی خزانے میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ مگر خزانے پہ بوجھ ضرور ہیں۔

minhajur.rab@janggroup.com.pk

تازہ ترین