• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شعبہ اسٹیٹ مینجمنٹ ونگ میں سکینڈل، معاملہ ایف آئی کے سپرد

اسلام آ باد (نیوز رپورٹر)سی ڈی اے کےشعبہ اسٹیٹ مینجمنٹ ونگ کے ایگرو سیکشن میں جعل سازی کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آ گیا۔سی ڈی اے نے اس معاملہ کی انکوائری کیلئے کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے تاہم ممبر اسٹیٹ مینجمنٹ نوید الہیٰ نے اسٹیٹ مینجمنٹ افسر جاوید مسیح ‘ ڈیلنگ اسسٹنٹ ظفیر عباسی اورسب اسسٹنٹ امجد کو تبدیل کرکے ان کے خلاف انضباطی کار روائی کاآ غاز کردیا۔یہ کیس کروڑوں روپےمالیت کے پلاٹ نمبر 19آرچرڈ اسکیم مری روڈ کے بارے میں ہے۔ اس پلاٹ کی فائل بھی کئی سالوں سے غائب ہے اور نئی بنائی گئی فائل کو بھی غائب کردیاگیا ہے۔ شہری نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی کہ اسے الاٹ شدہ پلاٹ پر کسی نے قبضہ کرلیا ہے۔ سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق اس پلاٹ کا قبضہ کسی کو نہیں دیاگیااس لئے انفورسمنٹ سٹاف نے آپریشن کرکے پلاٹ کا قبضہ واگزار کرا لیا۔ موقع پر قابض قیصر عزیز نے چیئر مین سی ڈی اے کو درخواست دی کہ انہوں نے یہ پلاٹ خریداہے۔ ہمیں یہ پلاٹ چھ جنوری2020کو ٹرانسفر کیاگیا اور اس کا قبضہ سی ڈی اے نے ہمیں دیا ہے۔ انکوائری کی گئی تو معلوم ہوا کہ سی ڈی اے نے نہ تو پلاٹ ٹرانسفر کیا اور نہ ہی قبضہ دیاہے۔ سب کاغذات جعلی طریقے سے تیار کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ قیصر عزیز اور سردار محمد عزیز خان نے بطور مدعی اور مدعا علیہان غلام سرور ‘ طار ق محمود ‘ ساجدہ پروین ‘محمد ادریس اور ظفر محمود راجہ نے سینئر سول جج اسلام آ باد ایسٹ کی عدالت میں جو لیٹرز جمع کرائے ہیں وہ جعلی اور خود ساختہ ہیں ۔ ان کا غذات میں ٹرا نسفر لیٹر ‘ پوزیشن لیٹر اور وراثت کاسرٹیفیکیٹ شامل ہیں۔ان کاغذات کی بنیاد پر انہوں نے حکم امتناعی بھی لے لیا جو جرم ہےکیونکہ سی ڈی اے نے یہ لیٹرز جاری ہی نہیں کئے۔ سی ڈی اے کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ مدعی اور مدعا علہیان کے خلاف کریمنل انکوائری کی جا ئے اور نتائج سے سی ڈی اے کو آ گاہ کیا جا ئے۔
اسلام آباد سے مزید