شیماء فاطمہ، کورنگی، کراچی
آج سے قریباً تین چار دہائی قبل تک بہت سی باتوں کا تصوّر بھی محال تھا،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بہت کچھ بدلتاچلاگیا، چیزوں میں جدّت آگئی۔اب لوگوں کو کم وقت میں پہلے سے زیادہ سہولتیں اور آسانیاں میسّر ہیں۔ لیکن تیز ترٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں زندگی میں آسانیاں آئی ہیں، وہیں یہ جدّت بہت سے مسائل کا سبب بھی بن رہی ہے۔ جیسے، جرائم پیشہ عناصر جدید طریقوں سے فائدہ اُٹھاکر شریف، سیدھے سادے لوگوں کی زندگیاں جہنّم بنا رہے ہیں، جب کہ اربابِ اختیار بس قوانین ہی بناتے رہ جاتے ہیں۔
ویسے تو روزانہ ہی کی بنیا د پر لاتعداد جرائم کی خبریں رپورٹ ہوتی ہیں، لیکن ایک انتہائی اہم معاشرتی مسئلے کی جانب کم ہی لوگوں کادھیان گیا ہے اور اسی سبب اس کے سدِ باب کی کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی اور وہ مسئلہ ہے،جعلی نکاح ناموں کا۔ یہ مسئلہ زیادہ تر اُن کنوارےخواتین و حضرات کے ساتھ پیش آرہا ہے، جو تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں اپنے ڈاکیومینٹس اور تصاویر کئی جگہوں پر دے دیتے ہیں۔ ویسے تو اصولی طور پر تمام اہم دستاویزات جیسے شناختی کارڈز، میٹرک ، انٹر کے سرٹیفیکیٹ کی کاپیز، تصاویر وغیرہ دینے سے قبل کراس لگا کر ’’For office/college/university/bank use only‘‘ لکھنا چاہیے، لیکن کئی جگہوں پر کہا جاتا ہے، دستاویزات پر کچھ تحریر کرکے مت دیں اور پھر اُن کا غلط استعمال بھی ہوجاتا ہے۔
واضح رہے، پاکستان میں نکاح نامہ فارم بآسانی حاصل کیاجاسکتا ہے، اسی طرح کسی بھی قاضی سے زبردستی یا رقم کا لالچ دے کر مُہر بھی لگوائی جا سکتی ہے۔ یعنی دستاویزات مکمل ہوتی ہیں، نکاح نامہ بھی ساتھ ہوتا ہے، تو کسی بھی یو -سی میں اسے جمع کروا کے باقاعدہ نادرا کا تصدیق شُدہ نکاح نامہ بنوایاجاسکتا ہے۔ جب کہ جس بے چارے کی دستاویزات پر اتنی بڑی جعل سازی ہورہی ہوتی ہے، اُس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ دستاویزات کس کام میں استعمال ہو چُکی ہیں۔ پتا تب چلتا ہے،جب متاثرہ لڑکے/ لڑکی کی شادی کا وقت آتا ہےکہ اس کے نام پہ تو پہلے ہی ایک نکاح نامہ رجسٹرڈ ہے۔
کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ اس قسم کی جعل سازی کی وجہ سے اب تک نہ جانے کتنے نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہو چُکی ہیں ۔کیوں کہ شادی کے وقت پتا چلے تو نکاح ہی نہیں ہوپاتا اور اگر شادی کے بعد اس بات کا پتا چلے تو شوہر اور سُسرال والے کسی صُورت لڑکی کا بھروسا نہیں کرتے بلکہ اسے بد کردار یا جعل ساز سمجھ کرفی الفور فارغ کردیتے ہیں۔ دوسری طرف لڑکی کے لیے شرعاًنکاح پر نکاح کرنےکی سزا الگ ، جب کہ مظلوم لڑکی کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ کسی نے اس کا جعلی نکاح نامہ بھی تیار کر رکھا ہے۔
اس طرح کے معاملات میں عموماً مجرموں کو پڑوسیوں اور دشمنوں کی مدد حاصل ہوتی ہے، لہٰذا ہماری علمائے کرام اور قانون ساز اداروں سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ہر صُورت کسی بھی فرد کے،خواہ وہ مرد ہو یا عورت، جعلی نکاح ناموں کی روک تھام یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز بھی گوش گزار ہیں۔
مثلاً ٭نکاح نامے کے ساتھ لڑکا ،لڑکی کے والدین کےشناختی کارڈز کی کاپیز بھی لازماً لگنی چاہئیں۔٭ نکاح خواں کاتصدیق شُدہ رجسٹریشن نمبر اور شناختی کارڈ نمبر بھی درج ہونا چاہیے۔٭نکاح نامے پر دولھا، دلہن ،ان کے والدین، گواہان اورقاضی کے فنگر پرنٹس بھی لیے جانے چاہئیں۔ ٭نادرا سے کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ بنواتے وقت تصدیق اور ریکارڈ کے لیے شادی کی ایک تصویر بھی لازماً ہونی چاہیے۔٭ جس طرح شناختی کارڈ بنوانے کے لیے ہر انسان کو خود جانا ہوتا ہے، اسی طرح کمپیوٹرائز نکاح نامہ بنوانے کے لیے بھی لڑکا ،لڑکی کی موجودگی لازمی قرار دی جائے۔٭ ایجاب و قبول کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جائے، جس میں لڑکا/ لڑکی کی آواز اور تصویر بالکل واضح ہو ،تاکہ ثابت ہوسکے کہ وہ واقعی اس نکاح کا حصہ ہیں اور ان کی مرضی بھی شامل ہے۔٭ نکاح نامہ رجسٹر کرتے وقت شادی کے وینیو، کیٹرنگ کی رسیدیں، شادی کارڈ، اگرگرائونڈ میں ہوئی ہے، تویو سی کا اجازت نامہ وغیرہ چیک کیا جائے۔
غرض یہ کہ اس قدر سخت قوانین بنائے جائیں کہ کوئی بھی شخص کسی بھی صُورت نقلی یا جعلی نکاح نامہ نہ بنا سکےکہ اس جعل سازی کی وجہ سے کسی ایک کی نہیں، پورے خاندان کی عزّت و حُرمت پر داغ لگ جاتا ہے۔