• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایڈز کی کمی کیلئے وفاقی و صوبائی سطح پر منظم حکمت عملی مرتب نہ کی جاسکی

کراچی (بابر علی اعوان/اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں 2021میں بھی ایچ آئی وی ایڈز کو کم کرنےکے لئے وفاقی و صوبائی سطح پر کوئی نئی اور منظمحکمت عملی مرتب نہیں کی جاسکی ۔ ملک میں ایڈز کے پوشیدہ مریضوں کو تلاش کرنے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ۔ عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 1لاکھ 90ہزا ر ہے تاہم ان میں سے صرف 40 ہزار اپنے مرض سے باخبر ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ مریضوں کو اپنے مرض کا علم ہے نہ ہی ان کا کوئی ڈیٹا موجود ہے۔ سندھ میں غیر محفوظ انتقال خون پر ایڈز کی پھیلائو کی خبروں کے بعد کئی بلڈ بینکس بند کردیے گئے تھے تاہم وہ بھی دوبارہ کھل گئے، استعمال شدہ سرنجز اور طبی فضلے کو ٹھکانے کا انتظام بھی نہ ہوسکا جو ایڈز کے پھیلاو کا بڑا سبب بنتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز کےمطابق پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد1لاکھ90ہزار ہے جن میں سے صرف 40ہزار افراد جانتے ہیں کہ انہیں ایڈز کا مرض لاحق ہے جبکہ2016-17کے پانچواں قومی ایڈز سروے (آئی آئی بی ایس ؛انٹی گریٹڈ بائیولوجیکل اینڈ بیہورل سرویلنس ان پاکستان ) کے مطابق ملک میں ایڈز کے ایک لاکھ 32ہزار مریض ہیں جن میں سے 60ہزار پنجاب ، 56ہزار سندھ،11ہزار خیبر پختونخوا اور 3ہزار بلوچستان میں ہیں لیکن ان میں سے بمشکل 30 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں جن کا علاج کیا جارہا ہے۔ اس طرح قومی سروے کے حساب سے ایک لاکھ اور عالمی ادارہ صحت کے حساب سے ڈیڑھ لاکھ مریض غائب ہیں ۔ یہ مریض کون اور کہاں ہیں اس کا کسی کو علم نہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق یہی سب سے زیادہ خطرے والی بات ہے کیونکہ غیر محفوظ انتقال خون، جنسی بے راہ روی، استعمال شدہ سرنجز، بلیڈ اور دانتوں کےعلاج کے اوزار سے ایڈز منتقل ہوتا ہے اگر اس مرض کا علم ہو جائے تو اس کوآگے پھیلنے سے روکاجاسکتا ہے لیکن علم نہ ہونے پر اس کا پھیلاؤ ہولناک صورتحال اختیار کرجاتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ میں ہر کچھ عرصے بعد ایڈز کے مریضوں کا انکشاف ہوتا ہے جس پر حکومت حرکت میں آجاتی ہے لیکن قومی سروے میں ظاہر ہونے والے ممکنہ مریضوں کو تلاش کرنے کا کام مستقل بنیادوں پر نہیں کیا جارہا نہ ہی اس سلسلےمیں منظم حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔ اکتوبر 2016میں بھی چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ کے شعبہ امراضِ گردہ میں ڈائلیسس کے درجنوں مریضوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی منتقلی کا انکشاف ہوا تھا جس کا بنیادی سبب غیر محفوظ انتقال خون قراردیا گیا لیکن حکومت نے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف سخت کاروائی کے بجائے نمائشی اقدامات کیے اور چند بلڈ بینکس کو بند کر دیا جو کچھ عرصہ بعد دوبارہ کھل گئے ۔

ملک بھر سے سے مزید