• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: ڈاکٹر سیمسن طارق ۔۔۔ کیلیفورنیا
ضیا الحق کے آمرانہ دور کے اِقدامات کے بعد آنے والے ادوار ملک کے مختلف طبقات کو اور خصوصا مذہبی گروہوں کو اور اقلیتوں کو ایک دوسرے سے دور لے گئے، پاکستانیوں کو پاکستانیت سے بہت دور کر دیا گیا، مذہبی جماعتوں اور ان کی ذیلی تنظیموں نے انتہا پسندی سے غلبہ پالیا، قائداعظم کے افکار بھول گئے ،بھول گئے کہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے ، اس کے لئے ہم لوگوں یعنی مسیحیوں نے بھی قربانیاں دی ہیں ۔ ری ہیبلی ٹیشن میں پاکستانی ،پاکستانی اداروں ، نرسز اور مشنریوں نے جو کردار ادا کیا، امریکی مشنری لو صاحب اور لویلن صاحب کا مسلمانوں کو سکھوں اور ہندوؤں سے بچا بچا کر پاکستان لانا اور اس وقت کے ہوم سیکرٹری طارق اسماعیل خاں کے ساتھ والٹن مرکز میں نگہداشت کرنا سب بھول گئے ، اب ہمیں ہماری اولادوں سے شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے، طعنے سننے پڑتے ہیں کہ کس لئے دیئے تھے ووٹ پاکستان کے حق میں ،کیا جواب دیں ہم اپنی نسلوں کو ، کیا جواب دیں اپنے بچوں کو ،کیا جواب دیں ہم ساجد مسیح کو، کیا جواب دیں ہم پطرس کو ، کیا جواب دیں فیاض مسیح، ریاض مسیح، امتیاز مسیح، سرفراز مسیح، ثاقب میسح اور مسز ریاض کو،ہم یہ جانتے ہیں کہ کوئی مسیحی توہین مذہب کر ہی نہیں سکتا، کوئی مسیحی توہین رسالت اور توہین قرآن کر ہی نہیں سکتا ، نہ ہی کرتا ہے، جھوٹے اور مبینہ الزامات میں لوگوں کو پھنسایا جاتا ہے، یہ سراسر زیادتی اور نا انصافی ہے ، کوئی ان کے لئے آواز نہیں اُٹھاتا، آواز اُٹھائے گا تو گورنر سلیمان تاثیر اور شہباز بھٹی جیسا انجام ہوگا ۔ آواز کیوں اُٹھائے کوئی ،کیا مرنا ہے کسی کو ، سب کی آوازیں بند، نہ کسی مسیحی لیڈر کی آواز ، نہ کسی مسلم کی طرف سے ، ہر وقت آہ و فغاں کرنے اور پیٹنے والا میڈیا بھی مسیحیوں کے لئے خاموش ، ہے کوئی جواب، مسیحیوں کا اب یہ کہنا ہے کہ گھر بھی ہمارے جلیں ، چرچ بھی ہمارے جلیں یہ کہاں کا انصاف ہے، یہ کہاں کا قانون ہے ، کون ایسی حرکت کرے کہ جس سے نہ صرف کہ اس کی اپنی ذات کو نقصان ہو اس کا خاندان تباہ ہو بلکہ اس کی ساری برادری کو، ان کی عبادت گاہوں کو ملیا میٹ کر دیا جائے،تو کون ایسی جرأت کرے گا کہ وہ توہینِ مذہب کرے یا گستاخی کرنے کی ہمت کرے ـ آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے بلکہ جب اِس طرح کا کوئی واقعہ ہوا اِس کا خمیازہ بھی اُسی پارٹی ، کمیونٹی یا گروہ یا خاندان یا فرد کو ہی اُٹھانا پڑا، سیالکوٹ کا تازہ ترین واقعہ پاکِستا ن کو اور پیچھے لے گیا ،فیٹف میں سے نِکلنا نہایت دشوار بن گیا ،اب وقت آگیا ہے کہ دوسروں پر اپنے عقائد نہ ٹھونسے جائیں ، امن سے رہیں دوسروں کو بھی رہنے دیں اگر ایسا نہیں تو یہ قائداعظم کا وہ پاکِستان نہیں رہا جس میں اُنھوں نے سب کی مذہبی آزادی کی بات کی تھی اور کہا تھا ’’ کہ ان کا ایمان اور یقین ہے کہ مذہب اور ذات کبھی بھی کِسی ایک پاکِستانی کو دوسرے سے الگ نہیں کر سکے گی اور نہ کر سکتی ہے ـ آپ بھلے کِسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں نسل یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں ، آپ سب شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں اِس مملکتِ خداداد کے ، آپ آزاد ہیں اپنی مساجد میں جانے کےلئے ، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے اور آپ آزاد ہیں اپنی دیگر عبادت گاہوں میں جانے کے لئے ، گورنر جنرل بننے کے فوراّ بعد اُنھوں نے اِس نئی معرض وجود میں آنے والی مملکت کے لوگوں سے کہا تھا پر اب کِسے یاد ہیں یہ ساری باتیں، کتابوں میں سے بھی آہستہ آہستہ انھیں حذف کیا جا رہا ہے بلکہ کافی حد تک کیا جا چکا ہے ، خُدا را پاکِستان کو دُنیا میں نہ بدنام کریں نہ لوگوں کو دہشت زدہ کریں نہ جہنم میں د ھکیلیں ۔
یورپ سے سے مزید