• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوہزار اکیس میں اردو کے نثری ادب کی مجموعی کیفیت یہ رہی کہ نئی کتابیں مسلسل شائع ہوتی رہیں ،سال ہائے گذشتہ کی طرح اِمسال بھی سال بھر میں شائع ہونے والی اہم ادبی کتابوں کا مختصر جائزہ نذرقارئین ہے، جو مطبوعہ اردو کی نثری کتب تک محدود ہے اور ان میں بھی ادبی، علمی و تحقیقی کتب کو ترجیح دی گئی ہے۔

 …ناول و افسانہ…

فکشن یعنی ناول و افسانہ اب بھی ادب کی مقبول ترین اصناف میں سے ہیں۔ اس سال بھی بڑی تعداد میں ناول اور افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے۔معروف ادبی شخصیت اصغر ندیم سید کا ناول دشتِ امکاں منظر ِ عام پر آیا۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں اور ناولوں کا مجموعہ حیرت کا باغ کے نام سے سنگ میل نے شائع کیا۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں کا انتخاب عرفان جاوید نے کیا جو اندر کا آدمی کے عنوان سے شائع ہوا۔ شہناز پروین کہنہ مشق ادیبہ ہیں۔ان کا ناول کتنی برساتوں کے بعد کراچی سے شائع ہوا ۔ یہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔

محمد حفیظ خان تسلسل سے ناول لکھ رہے ہیں اور اس سال بھی ان کا ناول منتارا شائع ہوا۔ حمیرا اشفاق کا سوانحی ناول می سوزم شائع ہوا۔ یہ معروف شاعرہ رابعہ خضداری( جسے رابعہ قضداری بھی کہا جاتا ہے)کی زندگی اور شاعری کا احاطہ کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے بھی کئی ناول اور افسانوں کے مجموعے منظر ِ عام پر آئے، افسوس سب کا ذکر ممکن نہیں ۔

…تنقید و تحقیق…

فتح محمد ملک کہنہ مشق اور بزرگ اہل قلم میں شمار ہوتے ہیں۔ ماشاء اللہ اس عمر میں بھی مستعد اور سرگرم ہیں اور لکھنے پڑھنے کاکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تازہ کتاب پاکستانی ادب اور واردات ِ عشق و جنوںشائع ہوئی ہے جس میں انھوں نے پاکستانی ادب میں روحانی عشق اور اس کے سیاسی پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔

ناصر عباس نیر جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور نوآبادیات جیسے اہم موضوعات پر خاصے عرصے سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی تازہ کتاب جدیدیت اور نوآبادیات کے نام سے اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کی ۔

ذوالفقار احسن کی کتاب ’’ غلام عباس کے پندرہ افسانے ‘‘

یہ کتاب تجزیاتی مطالعہ ہے، اس میں انھوں غلام عباس کے بعض اہم ترین اور مقبول ترین افسانوں مثلاً آنندی، اوورکوٹ اور کتبہ وغیرہ کا الگ الگ اور انفرادی تجزیہ کیا ہے۔ ایسے تجزیے خاص طور پر طلبہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔

مشفق خواجہ کی زندگی اور ان کے علمی ادبی کاموں کا جائزہ محمود کاوش نے اپنے مقالے میں کیاہے جو سال۲۰۲۱ء میں مشفق خواجہ’’احوال و آثار‘‘ کے عنوان سے قر طاس (کراچی) نے شائع کیا۔ طاہرہ انعام کی کتاب ’’تالیفات ِ صبیح رحمانی ’’نقد ِ نعت کی نئی تشکیل‘‘فیصل آباد سے شائع ہوئی۔اس میں صبیح رحمانی کی تنقید ِ نعت پر لکھی گئی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

پی ایچ ڈی کے گرتے ہوئے معیار کو دیکھتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے لیکن کبھی کوئی اچھا مقالہ نظر آتا ہے تو خوشی ہوتی ہے۔ پیرزادہ شرفِ عالم کا مقالہ اردو اشتہاریات کی تاریخ کا شمار بھی ان اچھے مقالوں میںہونا چاہیے۔ اس پر جامعہ کراچی نے ڈاکٹریٹ کی سند تفویض کی۔اس میں اردوزبان کے اشتہارات کی تاریخ اور اس کے لسانی و سیاسی مضمرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ایک اور نوجوان محقق ڈاکٹر سبحان اللہ کا مقالہ مغربی استعمار اور مولانا ظفر علی خان کی شاعری بھی عمدہ ہے۔اسے فکشن ہائوس نے شائع کیا۔

ڈاکٹر ریاض احمد کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ابن ا نشا : احوال و آثار انجمن ترقیٔ اردو نے شائع کیا تھا ۔ اب اس کا پہلا حصہ چلو انشا جی کے پاس چلیں کے نام سے بک کارنر (جہلم ) نے شائع کیا ہے۔ راقم الحروف کے مقالے اردو نثر میں مزاح نگاری کا سیاسی اور سماجی پس منظر کا تیسرا ایڈیشن انجمن ترقی اردو نے شائع کیا۔

…مزاح و طنز …

مزاح لکھنے والے تو بہت ہیں لیکن افسوس کہ اب معیاری مزاح لکھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں اور اشفاق احمد وِرک جیسے چند لوگ ہی ا ب اس صنف کو سنبھالے ہوئے ہیں ۔ وِرک کا نام مزاح اور طنز کے ضمن میں معروف ہے کہ وہ مسلسل لکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر مزاحیہ شخصی خاکہ نویسی میں ان کا نام آج کل نمایاں ہے۔ ان کی تازہ تصنیف خاکہ زنی کے نام سے سنگ ِ میل (لاہور) نے شائع کی ہے۔ 

اس میں بعض معروف ادبی شخصیات کے مزاحیہ قلمی خاکے شامل ہیں۔ لفظی الٹ پھیر اور اِملا کی بوالعجبیوں سے مزاح پیدا کرنا ورک صاحب کا خاص حربہ ہے اور وہ نت نئی مزاحیہ تراکیب وضع کرتے رہتے ہیں جو اس کتاب میں بھی نظر آتی ہیں۔

عظیم بیگ چغتائی کے مزاحیہ مضامین کا انتخاب نگارشاتِ مرزا عظیم بیگ چغتائی کے عنوان سے اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کیا۔ ڈاکٹر محمد طاہر قریشی اسے مرتب و مدوّن کیا۔

سوانح ، خود نوشت، رپور تاژ، خاکے

کشور ناہید کی یادداشتوں پر مبنی کتاب بُری عورت کی کتھا شائع ہوئی تو بڑی ہلچل مچی تھی۔ اب ان کی یادداشتوں کی دوسری کتاب بُری عورت کی دوسری کتھا شائع ہوئی ہے۔ اس میں بھی ان کا مخصوص انداز اور مخصوص نقطۂ نظر موجود ہے۔

معروف اقبال شناس اورمورخ محمد حمزہ فاروقی نے اپنی یاد داشتیں آثار ِ دید و شنید کے عنوان سے شائع کیں۔ اس میں بطور خاص قیام ِ پاکستان کے وقت کی گئی ہجرت اور اس میں پیش آنے والے دردناک واقعات کا ذکر ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قیام ِ پاکستان کا تاریخی پس منظر حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ معروف سیاسی رہ نما فرید احمد پراچہ کی خود نوشت عمرِ رواں منظر ِ عام پر آئی۔یہ ملکی سیاست کے اہم واقعات کا آئینہ بھی ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان نے ایک مستقل سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار کے عنوان سے شروع کیا ہے ۔ اب تک اس سلسلے میں سو (۱۰۰)سے زیادہ کتب پاکستان کے نامور اہل قلم پر شائع کی جاچکی ہیں۔ تازہ ترین کتاب ڈاکٹر طارق ہاشمی کی ڈاکٹر تحسین فراقی: شخصیت و فن ہے۔ اس میں فراقی صاحب کی ہمہ جہت علمی و ادبی شخصیت کو بڑی خوبی سے سمیٹ لیا گیا ہے۔میجر آفتاب حسن اردو کے سپاہی تھے۔ 

جامعہ کراچی کے شعبۂ تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور مقتدرہ قومی زبان کے قائم مقام صدر نشین بھی رہے ۔ محمد اسلام نشتر نے میجر آفتاب حسن کی زندگی اور خدمات پر کتاب لکھی۔ معروف ترقی پسند شاعر مخدوم محی الدین نے تلنگانہ تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا ، سید مظہر جمیل نے بہت عمدگی سے مخدوم کی زندگی، ادبی کاموں اور اس تحریک میں مخدوم کے کردار کو اپنی کتاب مغنّی ٔ آتش نَفَس میں سمیٹ لیا۔ کتاب اکادمی بازیافت نے شائع کی ہے۔

اختر وقار عظیم ایک طویل عرصے تک ٹی وی سے وابستہ رہے اور ٹی وی کی معروف شخصیات سے ان کے قریبی مراسم بھی رہے۔ انھوں نے ان شخصیات کے خاکے لکھے ہیں اور انھیں الف بائی ترتیب سے چند ہم سفر کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ کتاب سنگ میل نے شائع کی۔ ہارون الرشید بزرگ اہل قلم ہیں اور اس پیرانہ سالی میں بھی برابر لکھنے پڑھنے کا شغل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ کورونا کے دوران میں بھی لکھتے رہے اورلاک ڈائون کا احوال ڈائری کی صورت میں لکھا جو کراچی میں لاک ڈائون کے شب وروز کے عنوان سے شائع ہوئی۔

عرفان جاوید کی کتاب عجائب خانہ سنگ میل نے شائع کی۔ بے شک یہ کتاب اسم بامسمیٰ ہے اور اس میں عجیب وغریب موضوعات پر عجیب و غریب معلومات ، علمی و فکری لیکن دل چسپ واقعات اور حقائق موجود ہیں۔

…مکاتیب …

غالب کے خطوط اپنی شگفتگی اور نکتہ آفرینی کے ساتھ اپنے دل کش نثری اسلوب کے لیے بھی اردو کے شہ پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا ایک عمدہ انتخاب ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے کیا جسے اوکسفرڈ نے شائع کیا۔ اس پر ڈاکٹر صاحبہ کا مقدمہ بھی اہم ہے۔

اکبر الہٰ آبادی کی وفات کو ۲۰۲۱ء میں پورے سو سال ہوگئے۔ اس موقعے پر ایسی اور اتنی تقاریب تو منعقد نہ ہوئیں جتنی مثلاً فیض، منٹو، راشد وغیرہ کی صد سالہ برسی پر ہوئی تھیں لیکن غنیمت ہے کہ کچھ لوگوں نے اکبر جیسے بے مثل شاعر کو یاد کرلیا۔ کچھ رسالوں مثلاً قومی زبان اور اخبار اردو میں اکبر پر خصوصی گوشے شائع ہوئے۔ 

جنگ اور کچھ اخبارات نے اکبر پر مضامین شائع کیے۔ اس سال اکبر پر ایک اہم کام محمد راشد شیخ نے شائع کیا۔ یہ اکبر کے خطوط کی تدوین و ترتیب ہے۔ ان کا یہ کام، جو اکبر کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ خطوط کا سب سے بڑا مجموعہ ہے ،مجموعۂ مکاتیب ِ اکبر کے عنوان سے کراچی سے شائع ہوا۔ اس پر راشد شیخ نے مفید حواشی بھی تحریر کیے ہیں۔

مشفق خواجہ اور رشید حسن خاں کی خط کتابت کو محمود کاوش نے سلسلۂ مکاتبت کے نام سے مرتب کرکے شائع کرایا۔

…اقبالیات…

اقبالیاتی ادب پر حسب ِ سابق امسال بھی کئی کام ہوئے ہیں۔ اقبال اکادمی (لاہور) ڈاکٹر بصیرہ عنبریں کی قیادت میں سرگرم ہوگئی ہے اور اکادمی کے جرائد اور کتابیں بھی پھر سے شائع ہونے لگی ہیں ۔اکادمی کا رسالہ اقبالیات دوبارہ شائع ہورہا ہے اور اس میں بعض بہت عمدہ مضامین شائع ہوئے ہیں، مثلاً اس کے ایک حالیہ شمارے میںحمزہ فاروقی کا ایک بہت عمدہ مضمون روزنامہ انقلاب کے زبور عجم نمبر پر شائع ہوا ہے۔ 

ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے اقبال کی مثنوی پس چہ یاد کرد اے اقوام ِ شرق کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اقبال اکیڈمی نے شائع کیا۔ خود بصیرہ عنبریں کی کتاب اقبال کا نغمۂ شوق اقبال اکادمی نے شائع کی۔وسیم انجم کی کتاب علامہ اقبال اور اسلامی شریعت شائع ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی کتاب فکر ِ اقبال کے چند گوشے کوئٹہ کی مجلس ِ اقبال بلوچستان نے شائع کی۔

…زبان اور اردو زبان…

امیر مینائی کی مرتبہ فارسی لغت سرمۂ بصیرت جامعہ کراچی نے شائع کی ۔ اسے ڈاکٹر فائزہ مرزا زہرا نے بڑی قابلیت اور محنت سے مرتب کیا ہے۔خوشی کی بات ہے کہ ڈیڑھ سو سال پرانے قلمی نسخے کو تدین و حواشی کے ساتھ پیش کرکے محفوظ کرلیا گیاہے۔ فرمان فتح پوری کی دو کتب تدریس ِ اردو اور اردو املا و قواعد کے نئے ایڈیشن ادارۂ فروغ ِ قومی زبان نے شائع کیے ۔ 

اس ادارے نے شان الحق حقی کی لسانی مسائل ولطائف بھی دوبارہ شائع کردی۔ ڈاکٹر الف ۔د۔ نسیم کی قدیم اردو اور چشتی صوفیاء بھی دوبارہ شائع ہوگئی۔ مولوی امان الحق کی لغت امان اللغات ڈاکٹر ارشد محمود ناشادکی تدوین و تحشیہ کے ساتھ ادارۂ فروغ ِ قومی زبان نے شائع کردی۔ سنسکرت اردو لغت بھی دوبارہ چھپ گئی۔

ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی کتاب براہوئی اوربلوچی کے لسانی روابط ایک عمدہ کام ہے جس میں ان دونوں زبانوں کی تاریخ، صوتیات ، نحو اور اشتراکات کا جائزہ لیا گیاہے۔ کوئٹہ کی براہوئی ادبی سوسائٹی نے یہ کتاب شائع کی ہے۔ منصف خان سحاب لغت اور قواعد پر لکھتے رہتے ہیں ۔ ان کی مرتبہ قواعد کی کتاب نگارستان بہت مقبول ہوئی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں ان کی ایک اور کتاب’’ جوہرستان : اردو لسانیات ‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے جس میں لسانیات اور اردو زبان پر اظہار ِ خیال کیا گیا ہے۔

لسانیات کے پس منظر میں کیے گئے جدید ادبی مطالعوں میں اسلوبیات اور اس سے متعلقہ مباحث کی بہت اہمیت ہے اور اس میں اب سلینگ (یعنی عوامی زبان) اور فورگراوئنڈنگ بھی شامل ہیں۔ فورگرائونڈنگ کو اردو میں بعض لوگوں نے ’’انحراف‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ اس میں عام اور روایتی زبان سے ہٹ کر ایک خاص انداز میں زبان استعمال کی جاتی ہے جس کے خاص ادبی مقاصد ہوتے ہیں۔ 

جدید لسانیاتی اور اسلوبیاتی تصورات کے عنوان سے ڈاکٹر عامر سہیل (یہ ایبٹ آباد والے عامر سہیل ہیں نہ کہ ملتان والے ، اور ملتان والے عامر سہیل بھی اب بہاول پور میں ہیں) نے قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری میں صوتی، صرفی، نحوی اور معنویاتی مفاہیم کی وضاحت پر مقالہ لکھا جو فیصل آباد کے مثال پبلشرز نے شائع کیا۔ اسلوبیات کے موضوع پر یہ ایک عمدہ کام ہے۔

ہر زبان بدلتی ہے ۔زبان میں ہونے والی تبدیلیاں فطری بھی ہوتی ہیں اور کچھ لوگ زبان میں اصلاح کی مہم بھی چلاتے ہیں ۔ اردو میں بھی اصلاح ِ زباں کی تحریک مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے چلائی۔ ا یک جائزہ مقبول نثر ملک نے اپنے تحقیقی مقالے اردو میں اصلاح ِ زباں کی روایات میں لیا ہے۔ اس میں ثانوی مآخذ اور دوسرے محققین کی آرا پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ محقق نے کئی کتابیں خود دیکھنے کی بجاے دیگر اہل علم کی کتابوں میں دیے گئے اقتباسات پر انحصار کیا ہے۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ موضوع پر تمام اہم کاموں کا ذکر کردیا گیا ہے۔غازی علم الدین کی کتاب لسانی زاویے شائع ہوئی۔

پاکستانی زبانیں اور بولیاں ڈاکٹر منظور ویسیریو کی کتاب ہے جو اکادمی ادبیات پاکستان نے شائع کی۔ اس میں پاکستان میں بولی جانے والی ستر(۷۰) سے زیادہ زبانوں اور بولیوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشد ضرورت تھی۔پاکستانی زبانوں کا ذکر ہے تو کھوار کا بھی ذکر کردیا جائے جو چترال میں بولی جاتی ہے۔ مختصر تاریخ َ زبان و ادب :کھوار تصنیف ہے نقیب اللہ رازی کی جو ادارۂ فروغ ِ قومی زبان نے شائع کی۔ اسی ادارے نے عابدہ حنیف کی مرتبہ اردو ترکی لغت کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع کردیا۔

شمس الرحمٰن فاروقی کی معروف کتاب لغات ِ روزمرہ کے نام سے ہے۔ محمد عمر خان نے اس کا جائزہ لیا اور یہ کتاب لغات ِ روزمرہ کا تحقیقی و لسانی جائزہ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس عاجز طالب علم کی دو کتابیں ’’لسانیات کے بنیادی مباحث ‘‘ اور ’’صحتِ زباں ‘‘ شائع ہوئیں۔

…تراجم …

خوشی کی بات یہ ہے کہ تراجم کی اہمیت کا احساس پہلے سے فزوں تر ہے اورسال گذشتہ میں بعض اہم اور عالمی سطح پر معروف کتابوں کے اردو تراجم شائع ہوئے ۔ تراجم کے ضمن میں مونا بیکر (Mona Baker)کا نام پوری دنیا میں معروف ہے ۔ محترمہ نہ صرف یہ کہ انگلستان کی مانچسڑ یونی ورسٹی میں شعبۂ مطالعات ِ ترجمہ کی سربراہ رہی ہیں بلکہ ان کی اس موضوع پر لکھی ہوئی کتب دنیا بھر میں جامعات کے نصاب میں شامل ہیں۔ مونا بیکر کی ترجمے کے فن اور اس کی باریکیوں پر لکھی ہوئی کتاب اِن اَدَر وِرڈز (In Other Words) بہت مقبول ہے۔ 

اس کا ڈاکٹر لبنیٰ فرح نے اردو میں ترجمہ کیا جو لاہور سے دارالکتاب نے بَاَلفاظ ِ دیگر کے نام سے شائع کیا۔ لبنیٰ فرح اردو اور انگریزی میں مہارت کے علاوہ عربی پر اہل زباں جیسی دست رس رکھتی ہیں اور بطور ترجمان کئی ملکی سربراہان کے ساتھ ملک میں اور بیرونِ ملک ترجمان کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ نمل میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ یہ کتاب مترجمین اور طالب علموں کے لیے بہت مفید ہے۔

مورا ساکی شی کی بو ایک جاپانی خاتون تھیں جنھوں نے آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل جاپانی زبان میں ایک ناول لکھا تھا، کہتے ہیں کہ یہ دنیا کا پہلا ناول ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ دنیا کا پہلا ناول ہے یا نہیں، اہم بات یہ ہے کہ اس کااردو ترجمہ گینجی کی کہانی کے نام سے ۲۰۲۱ء میں شائع ہوا۔معروف مترجم اور شاعر باقر نقوی اس کاترجمہ کرچکے تھے لیکن اس مسودے کو حتمی شکل دینے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا ۔ خرم سہیل نے اس کو حتمی شکل دی ہے اورمفید وضاحتی نوٹ بھی لکھے ہیں۔

ٍجاپانی کے ساتھ فارسی کا بھی ذکر ہوجائے۔ ڈاکٹر غلام علی حدّاد عادل کا شمار ایران کے معروف اور معتبر اہل ِقلم اور اہل ِ علم میں ہوتا ہے۔وہ ایران کے ایک بڑے علمی و ادبی ادارے فرہنگستان ِ زبان وادب ِ فارسی کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ برعظیم پاک و ہند میں تخلیق کیے گئے فارسی ادب پر بھی حداد عادل صاحب کی گہری نظر ہے اور انھوں نے اس موضوع پر متعدد مقالے بھی تحریر کیے ہیں۔ ان میں علامہ اقبال اور پاکستان پر بھی مقالے شامل ہیں۔ ان کے مقالات پر مبنی کتاب ’’حدیث ِ سروو نیلوفر ‘‘ کا اردو ترجمہ احمد شہر یار نے کیا اور داکٹر انجم حمید صاحبہ نے اس پر نظر ثانی کی۔ 

یہ اردو ترجمہ دارالکتاب (اسلام آباد) سے شائع ہوا ہے۔ یہ ایک رواں ترجمہ ہے ۔انگریزی زبان میں لکھے گئے ای ایم فاسٹر کے مشہور ناول اے پیسج ٹو انڈیا کا ترجمہ سعید نقوی نے کیا ۔غربت کی وجوہات پر انگریزی میں ہنری جارج کی کتاب پروگریس اینڈ پاورٹی (Progress and Poverty) بہت مشہور ہے اور اس کے لاکھوں نسخے فروخت ہوچکے ہیں۔ اس کا اردوترجمہ معروف صحافی اور مترجم آئی یو جرال نے ترقی اور افلاس کے نام سے کیا اور اسے ادارۂ فروغ ِ قومی زبان نے شائع کیا۔

…سفرنامہ …

مستنصر حسین تارڑ کا نام اب اردو سفرنامے کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں آتا ہے، سنگ میل نے ان کا امریکا، دبئی ، میکسیو اور کیوبا کا سفرنامہ کیوبا کہانی شائع کیا۔ زاہد منیر عامر کا سفرنامۂ یونان سقراط کا دیس کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں تاریخ اور فلسفے کے امتزاج سے سفر کا احوال بیان ہوا ہے۔ مقصودہ جعفری کی کتاب تھوڑا سا جہاں اور شائع ہوئی جو ان کا مصر کا سفرنامہ ہے۔

اشاریے اور کتابیات

اشاریے اور کتابیات محققین کے بڑے ممد و معاون ہوتے ہیں اور یہ وہ آلات ہیں جن کی مدد سے کسی زبان کے محقق اور عالم تحقیق کرتے ہیں۔ ارمغان ِ نعت کا اشاریہ سہیل شفیق نے مرتب کردیا۔ ڈاکٹر احمد خان نے قرآن کے مطبوعہ اردو تراجم کی کتابیات قرآن کریم کے اردو تراجم کے نام سے شائع کی تھی۔ نہ صرف اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا بلکہ اس کی دوسری جلد بھی شائع ہوئی جس میں قرآن ِ کریم کے اردو تراجم کے قلمی نسخوں کی تفصیل ہے۔ درحقیقت یہ بہت اہم کام ہے اور قرآن کے مترجمین، اس موضوع پر تحقیق کرنے والے علما اور طالب علموں کے لیے بھی مفید ہے۔ادارۂ فروغ ِ قومی زبان ناشر ہے۔منصف خان سحاب نے ایک وضاحتی کتابیات تنقید نما کے عنوان سے مرتب کی اور اس میں تنقید کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کی طباعتی تفصیلات اور تعارف پیش کیا۔

…ادبی جرائد…

متعدد ادبی جرائد تسلسل سے اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بڑی خوش کن بات ہے کیونکہ ادبی رسالے کسی بھی معاشرے کے تہذیبی، علمی اور ثقافتی مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور صرف ادبی یا لسانی ہی نہیں تہذیبی اور سیاسی رجحانات بھی ادبی پرچوں میں سب سے پہلے نمایاں ہوتے ہیں۔

قومی زبان، اردو، مکالمہ، الحمرا، اخبار اردو اورمسلسل شائع ہونے والے بعض دیگر رسالے ہمارے ادبی موسموں کا حال بیان کررہے ہیں۔رنگ ِادب (کراچی) نے شمس الرحمٰن فاروقی کی یاد میں ایک ضخیم خصوصی شمارہ شائع کیا۔احمد ندیم قاسمی صاحب کے جاری کردہ ادبی جریدے فنون کا ضخیم خاص نمبر شائع ہوا جو بڑی خوش آئند بات ہے۔بہاول پور سے الزبیر کا تازہ شمارہ شائع ہوا۔ لمز کا تحقیقی جریدہ بنیاد بھی منظر ِ عام پر آیا۔دیگر کئی جامعات کے تحقیقی پرچے بھی شائع ہوئے۔ کراچی سے نکلنے والے تحقیقی جریدے تحصیل کا آٹھواں شمارہ شائع ہوا۔

(لے آؤٹ آرٹسٹ : اسرارعلی)

 بریگیڈئیر نعمان الحق فرخ کی کتاب ’’زندہ لمحات‘‘

اچھی خبر یہ ہے کہ ایک نئے مزاح نگار اردو ادب کے افق پر طلوع ہوئے ہیں اور ہمارے ان فوجی بھائیوں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں جو صاحب ِ سیف بھی ہیں اور صاحب ِ قلم بھی، یعنی جن کے ایک ہاتھ میں شمشیر اور دوسرے میں قلم ہے۔ یہ بریگیڈئیر نعمان الحق فرخ ہیں جنھوں نے اپنی فوجی زندگی کے دل چسپ واقعات زندہ لمحات کے عنوان سے ہلکے پھلکے انداز میں اس طرح بیان کیے ہیں کہ ناگوار واقعات کی تلخی کو بھی مزاح کی شیرینی سے گوارا بنادیا ہے اور دراصل یہی زندگی گزارنے کا فن ہے۔ 

نعمان صاحب کے مزاح کا ایک بنیادی وصف کم بیانی ہے ۔ وہ مبالغہ آرائی کے برعکس کم بیانی سے کام لیتے ہیں اورسنجیدہ یا پریشان کن واقعے کو بھی شگفتہ انداز سے دیکھتے ہیں۔ یہ انداز ِ نظر ہی مزاح نگار کو مزاح نگار بناتا ہے۔ 

مسعود مفتی کا رپور تاژ’’دو مینار‘‘ 

 مسعود مفتی ہمارے کہنہ مشق نثر نگاروں میں تھے اور اپنی پاکستانیت کے لیے معروف تھے۔ ان کا ایک رپور تاژ دو مینار کے نام سے دو ہزار اکیس میں شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے پاکستان کو ایک مینار قرار دیا ہے اور خود اپنی زندگی کو دوسرا مینار قرار دیتے ہوئے اپنے ماہ و سال کو اس کی منزلوں سے تشبیہ دی ہے۔ اس میں انھوں نے بڑی درد مندی سے وطن ِ عزیز کے رو بہ زوال ہونے پر سوال اٹھائے ہیں۔ 

ان کا خیال ہے کہ پاکستان کے ابتدائی دو ر میں جو افسر شاہی تھی وہ محنت ، دیانت اور قابلیت سے بہرہ ور تھی اورنو زائیدہ ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے تن دہی اور خلوص سے کام کیا لیکن بعد کے ادوار ، خصوصاً سانحۂ مشرقی پاکستان کے بعد کے دور کی حکومت نے ، پاکستان کی بیوروکریسی کے ڈھانچے کو سوچی سمجھی سازش کے تحت مسمار کیا جس کا نتیجہ قوم نے بھگتا۔ ان کے نظریے اسے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کی دردمندی اور حب الوطنی میں کوئی کلام نہیں۔