• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’آگ ‘‘ اردو شاعری کا ایک اہم موضوع ہے۔ برسوں پہلے کسی شاعرنے کہا تھا۔ ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ‘‘۔ یہ المیہ یہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک خط ملا۔ پیش خدمت ہے:

’’ محترم جناب منصور آفاق، آگ لگنے کے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ ابھی کل بنگلہ دیش میں ایک ہزار مسافروں کو لے جانے والی تین منزلہ فیری میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے،متعدد بری طرح جھلس چکے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔کچھ دن پہلے کراچی میں چند گھنٹے کے اندر آگ لگنے کے تین واقعات رونما ہوئے۔جوڑیا بازار میں عمارت کے گراؤنڈ فلور پر گودام میں آگ لگی جس پر فائر بریگیڈ نے بروقت کارروائی کر کے قابو پالیا۔اورنگی ٹاؤن کے قریب کاغذ کے گودام میں آگ لگی جبکہ کورنگی میں خالی گھر میں لگی آگ بھی بجھادی گئی، کراچی کی زیب النساء اسٹریٹ پر واقع وکٹوریہ سینٹر میں بھی آگ لگی، آگ کے باعث کروڑوں روپے مالیت کا گارمنٹس کا سامان جل گیا۔ اسی طرح کا واقعہ کوآپریٹو مارکیٹ میں بھی پیش آیا جس میں سینکڑوں دکانیں اور قیمتی سامان جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔میرا مسئلہ ان تمام واقعات کی تحقیق ہے کہ میں ایک بجھانے والے ادارے سے متعلق ہوں اور سمجھتا ہوں کہ نوے فیصد آگ لگنے کے واقعات اتفاقیہ نہیں ہوتے۔ آگ لگائی گئی ہوتی ہے مگر ہمیشہ یہی ثابت کیا جاتا ہے کہ یہ آگ اتفاقاً لگی۔ 2018 میں پنجاب کےاسپیکر ہائوس میں آگ لگی تھی، یہ عمارت اس وقت تک سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے استعمال میں تھی۔ اس آگ سے صرف صوفے، پردے، فرنیچر، یعنی کرسیاں میز اور بیڈ وغیرہ جل کر راکھ ہو گئے ۔ بجلی کا میٹر بھی جل گیا تھاکہ 15 لاکھ روپے بجلی کا بل واجب الادا تھا۔دیواروں پر لگی ہوئی پینٹنگز بھی خاکستر ہوگئی تھیں ۔ افسوس کہ یہ سارا سامان سرکاری تھا۔ جو لوگ گھر میں رہ رہے تھے۔ اللّٰہ کے کرم سے اُن کی کسی چیز کو آگ نہیں لگی تھی۔یہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ کس نے لگائی تھی؟ سرکاری املاک کو آگ لگانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں مگر پچھلے دس سال میں صر ف لاہور میں بے شمار سرکاری عمارتوں کو آگ لگ چکی ہے۔ خاص طور پر اُن عمارتوں کو جن میں ریکارڈ محفوظ تھا۔ گزشتہ دور میں سرکاری دفاتر میں اتنی بار آگ لگی کہ حکومتِ پنجاب نے تحقیقات کے لئے باقاعدہ ایک ٹربیونل تشکیل دے دیا تھا۔پتہ نہیں اس کا کیا بنا۔ایل ڈی اے کے پلازہ میں تو جو آگ لگائی گئی تھی اس میں میٹرو بس منصوبے کی فائلوں کے ساتھ بہت سے لوگ بھی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ان کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا مگر پولیس کے مطابق اُس کا ریکارڈ ایک تھانے کے محرر نے ردی میں بیچ دیا ہے۔ اِس جرم میں بیچارے کانسٹیبل کو معطل کردیا گیا ہے۔ کوآپریٹو بینک کی عمارت میں لگنے والی آگ کے متعلق یہ رپورٹ آئی کہ آگ فائلوں پر پٹرول چھڑک کر لگائی گئی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ کے داماد کے پلازے میں بھی آگ لگ گئی تھی کیونکہ صاف پانی کمپنی کے معاملات میں خردبرد کا سارا ریکارڈ موجود تھا اُس پلازے میں ان کےدفاتر بھی تھے۔ لاہور مال خانے میں بھی آگ لگی تھی، پی ٹی سی ایل کے دفتر میں آگ لگنے سے تمام ریکارڈ جل گیا تھا۔جب وفاقی ٹیکس محتسب کےدفتر کو آگ لگی تھی توپانچ منزلہ عمارت راکھ ہوگئی تھی اس عمارت میں سی پیک کا دفتر بھی تھا۔سو ہر طرح کے ریکارڈ سے کئی لوگوں نے نجات حاصل کرلی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت بدلنے کے صرف چھ ماہ بعد پنجاب میں 10867 آتشزدگی کے واقعات پیش آئے جن میں 2400 سے زائد صوبائی دارالحکومت کے تھے مگر بدقسمتی سے 90 فیصد واقعات کی تحقیقات کئے بغیر فائلیں داخل دفتر کردی گئیں۔ کیا اسپیکر ہائوس میں لگنے والی آگ پر کوئی تحقیق ہو ئی یا اس کی فائل بھی داخل دفتر کردی گئی؟ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے در خواست کی جا تی ہے کہ آتشزدگی کی ہر واردات کی تحقیقات مکمل کرائی جائیں۔

انصاف کامتلاشی

نذیر اکبر

اس خط میں بہت سےجملے حذف کئے ہیں کیونکہ وہ اشاعت کے قابل نہیں تھے لیکن جہاں تک تحقیقات کا تعلق ہے تو ضرور ہونی چاہئیں۔ بات شاعری سے شروع ہوئی تھی۔ آگ کے موضوع پر کچھ اور شعر بھی یاد آئے تھے۔ وہ بھی سن لیجئے۔ قتیل شفائی نے کہا تھا

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

افتخار عارف نے کہا تھا

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر

سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

اختر رضا سلیمی نے کہا تھا

اک آگ ہماری منتظر ہے

اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں

معین احسن جذبی نے کہا تھا

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

ثاقب لکھنوی نے کہا تھا

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

یعنی آگ لگنے کے واقعات اندر اور باہر ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں۔ زندگی انہی وار داتوں سے بھری پڑی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین