• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنسدانوں نے حالیہ برسوں میں ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیوں کا سراغ لگا کر حیاتیاتی عمر کی پیمائش کرنے کے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ فطری طور پر لوگوں کی عمر کے ساتھ ہونے والی یہ تبدیلیاں مختلف لوگوں میں عمر کے مختلف حصوں میں رونما ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس سلسلے میں ’’ایپی جینیٹک کِلاک‘‘ ایجاد کیے ہیں، جو کیلنڈر عمر کے مقابلے میں کسی بھی شخص کی حیاتیاتی عمر اور موت کی پیشگوئی کرنے میں مؤثر ثابت ہورہے ہیں۔

ایک نئے مطالعہ میں ییل کے محققین نے GrimAgeنامی ایک ایسا ہی ’کِلاک‘ استعمال کرتے ہوئے دو سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی: دائمی تناؤ اس حیاتیاتی گھڑی کو کتنا تیز کرتا ہے؟ اور کیا اس کو سست کرنے اور صحت مند عمر بڑھانے کے طریقے ہیں؟

’ٹرانسلیشنل سائیکائٹری‘ جرنل میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق کے مطابق، تناؤ واقعی زندگی کی گھڑی کو تیز تر کرتا ہے لیکن لوگ اپنے جذبات کے ضابطے اور خود پر قابو رکھنے کو مضبوط تر بنا کر اس کے اثرات کو منظم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

رجیتا سنہا، ییل سائیکائٹری کی پروفیسر ہیں اور اس مطالعہ کے مصنفین میں سے ایک ہیں۔انھوں نے کئی دہائیاں تناؤ اور ان بے شمار اور نقصان دہ طریقوں کا مطالعہ کرنے میں گزاری ہیں، جن سے یہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کو خراب کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ، طویل تناؤ دل کے امراض، لت، موڈ کی خرابی، اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ یہ میٹابولزم کو متاثر کر سکتا ہے، موٹاپے سے متعلق امراض جیسے ذیابطیس کو تیز کرتا ہے۔ تناؤ جذبات پر قابو پانے اور واضح طور پر سوچنے کی ہماری صلاحیت کو بھی ختم کر دیتا ہے۔

رجیتا سنہا اور زیچری ہاروینیک کی سربراہی میں ییل کی ایک ٹیم نے یہ جاننے کا فیصلہ کیا کہ کیا تناؤ، نسبتاً نوجوان اور صحت مند آبادی میں بھی بڑھاپے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ اپنے مطالعہ کے لیے، انھوں نے 19 سے 50 سال کی عمر کے 444 افراد کا اندراج کیا، جنہوں نے خون کے نمونے فراہم کیے، جو عمر سے متعلق کیمیائی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ صحت کے دیگر نشانات کی ’گِرم ایج‘ کے ذریعے حاصل کی گئی جانچ کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ 

شرکاء نے ان سوالوں کے بھی جوابات دیے جو تناؤ کی سطح اور نفسیاتی لچک کو جاننے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ آبادیاتی اور طرزِ عمل کے عوامل جیسے تمباکو نوشی، باڈی ماس انڈیکس، نسل اور آمدنی کو مدِنظر رکھنے کے بعد، محققین نے جانا کہ جن لوگوں نے دائمی تناؤ سے متعلق سوالات پر زیادہ اسکور کیا ان میں تیزتر عمر بڑھنے کے نشانات اور جسمانی تبدیلیاں (جیسے انسولین کی مزاحمت میں اضافہ) دیکھی گئیں۔

تاہم، تناؤ سے ہر کسی کی صحت یکساں طور پر متاثر نہیں ہوئی۔ وہ شرکاء جنہوں نے نفسیاتی لچک کے دو عوامل، جذبات کے ضابطے اور خود پر قابو پانے میں زیادہ اسکور کیا، انھوں نے بالترتیب عمر بڑھنے اور انسولین کی مزاحمت پر تناؤ کے اثرات کا زیادہ بہتر طور پر مقابلہ کیا۔ ’’یہ نتائج اس مقبول تصور کی تائید کرتے ہیں کہ تناؤ ہماری عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرتا ہے، لیکن وہ جذبات کے ضابطے اور خود پر قابو پانے کو مضبوط بنانے کے ذریعے تناؤ کے ان منفی نتائج کو ممکنہ طور پر کم کرنے کا ایک امید افزا طریقہ بھی تجویز کرتے ہیں‘‘، ہاروینیک کہتے ہیں۔

بہ الفاظِ دیگر، ایک شخص نفسیاتی طور پر جتنا زیادہ لچکدار ہوگا، اس کے طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ ’’ہم سب یہ محسوس کرنا پسند کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی قسمت پر کوئی اختیار ہے، لہٰذا لوگوں کے ذہنوں کو یہ تقویت دینا ایک اچھی بات ہے کہ ہمیں اپنی نفسیاتی صحت میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘، سنہا کہتی ہیں۔

ہمارے معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ تناؤ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح کے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ دائمی تناؤ صحت کے طویل مدتی منفی نتائج سے منسلک ہوتا ہے، جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ تناؤ کے نتیجے میں حیاتیاتی عمر بڑھنے کے عمل کی رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے۔

اس مطالعے میں، یہ جانچنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا لچک کے عوامل تناؤ سے وابستہ حیاتیاتی عمر کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں اور آیا ’گِرم ایج‘ جیسے اپی جینیٹک کِلاک یہ جاننے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ متذکرہ مطالعہ میں اجتماعی تناؤ، اس کے جسم پر اثرات اور لچک کے مخصوص نمونے پر ان کی حیاتیاتی عمر کی رفتار پر اثرات کا اندازہ لگایا گیا ہے، جس کے لیے نمونہ میں شامل افراد کی تعداد 444تھی (N=444)۔

مطالعہ کے نتائج تیار کرنے میں مجموعی تناؤ کو تیز رفتار گِرم ایج (P=0.0388)سے جب کہ جذباتی حساسیت کے تناؤ سے متعلقہ جسمانی اقدامات (Cortisol/ACTHتناسب) اور انسولین مدافعت (HOMA)سے ظاہر کی گئی۔ آبادیاتی اور طرزِ عمل کے عوامل کو کنٹرول کرنے کے بعد HOMA کا تیز رفتار گریم ایج (P=0.0186) کے ساتھ باہمی تعلق ثابت ہوا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جذبات کے ضابطے اور خود پر قابو پانے کے نفسیاتی لچک کے عوامل نے ان تعلقات کو معتدل کیا۔

جذبات پر ضابطے نے تناؤ اور عمر بڑھنے کے درمیان تعلق (P=8.82e)کو معتدل کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ نمونہ میں شریک افراد میں سے جس کا جذبات پر ضابطہ اچھا نہیں تھا، تناؤ کے نتیجے میں ان میں عمر بڑھنے کی رفتار تیز دیکھی گئی، جب کہ جن افراد کا جذبات پر ضابطہ مضبوط تھا، ان کے تناؤ کا گِرم ایج پر کوئی قابلِ ذکر اثر ظاہر نہیں ہوا۔ خود پر قابو نے تناؤ اور انسولین مزاحمت (P=0.00732)کے درمیان تعلق کو معتدل کیا، جب کہ جو افراد اپنے جذبات پر اعلیٰ درجہ کا کنٹرول رکھتے تھے، ان میں یہ تعلق بالکل نہیں دیکھا گیا۔