• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمندری غذائیں سردی میں جسم کو تقویت پہنچاتی ہیں

موسم سرما آتے ہی سمندری غذاؤں بالخصوص مچھلی کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بازاروں، گلی، محلّوں میں ہر جگہ مچھلی فروخت ہوتی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ریستورانوں پر جھینگے اور کیکڑے کا سوپ بھی دستیاب ہوتا ہے۔ سرد موسم میں جب مسالے دار گرما گرما مچھلی سامنے آتی ہے تو کھانے سے ہاتھ نہیں رکتا اور جی کرتا ہے کہ بس کھاتے چلے جائیں۔ 

مچھلیوں کی کئی اقسام ہیں، جن میں بعض کافی ذائقہ دار ہوتی ہیں۔ مچھلی اور جھینگوں کو تیل میں تل کر یا کوئلوں پر بھون کر کھایا جاتا ہے جبکہ ان کی بریانی اور کڑاہی بھی شوق سے کھائی جاتی ہے۔ سمندری غذائیں کھانے کے کئی فوائد ہیں، لہٰذا اعتدال میں تناول فرماکر قدرت کی اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مچھلی کے فوائد

مچھلی میں وافر مقدار میں سیلینیم پایا جاتا ہے۔ یہ جز و مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں اہم کردارادا کرتاہے۔ مچھلی کھانے سے زکام اور کھانسی کو دور بھگانے میں مدد ملتی ہے۔ مچھلی کا گوشت توانائی بخش اور زود ہضم ہوتا ہے۔ اس کے گوشت میں غذائیت بخش اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں فاسفورس کی موجودگی جسم کی نشوونما کے علاوہ دماغ کو توانائی بخشتی ہے، جس سے ذہانت تیز ہوتی ہے۔ مچھلی کو وٹامن اے اور وٹامن ڈی کا خزانہ بھی کہا جاتا ہے۔ 

یہ دونوں وٹامن جِلد، دانتوں اور ہڈیوں کے لیے اہم ہیں۔ مچھلی میں وٹا من بی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن لحمیات(protein)کو ہضم کرنے اور اعصابی نظام کی خرابیاں اور کمزوریاں دور کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ مچھلی میں پوٹاشیم، فولاد اور آئیو ڈین موجود ہوتے ہیں۔ اس میں موجود فلورائیڈ دانتوں کو مضبوط بناتا اور امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ مچھلی دماغ کی غذا ہے۔ تحقیق نے بھی مچھلی کو دماغ اور اعصاب کے لیے مفید قرار دیا ہے۔ اس سے دماغ کے ٹشوز کی نشوونما بھی ہوتی ہے۔

انسانی دماغ ایک روغنی عضو ہے۔ پانی کے علاوہ اس کا زیادہ تر حصہ چربی پر مشتمل ہے۔ ہم جو چکنائی کھاتے ہیں وہ مزاج کے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ افسردہ مزاج کے لوگوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلی استعمال کرنے والے ممالک میں افسردگی کا مرض کم دیکھنے میں آتا ہے۔ 

مچھلی کا استعمال بڑھاپے کے عمل کو سست کرتا ہے۔ پھیپھڑوں میں تمباکو سے ہونے والی سوزش کم ہوتی ہے۔ مچھلی پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مچھلی کسی بھی قسم کی ہو، وہ امراض قلب کے لیے مفید ہوتی ہے۔ جسم میں کولیسٹرول اور شوگر کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ موسم سرما میں اس کا استعمال صحت کو قائم رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مچھلی کا تیل کولیسٹرول اور چربی کی مقدار کم کر کے عارضہ قلب میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ خون کا گاڑھا پن عموماً امراض قلب کا سبب بنتا ہے، تاہم مچھلی کا تیل خون کو گاڑھا ہونے سے روکتا ہے۔ مچھلی کم کیلوریز والی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، جس سے امراض قلب کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ 

تحقیق کے مطابق اومیگا تھری بلڈ پریشر کم کرتی ہے اور جِلدی امراض میں مفید ہے۔ طبی ماہرین کی تحقیقات کے مطابق مچھلی میں پایا جانے والا اومیگا تھری فیٹ قلب اور اس کی شریانوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ فیٹ خاص قسم کی مچھلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل کے مریضوں کو مچھلی کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔دل اور اس کی شریانوں کے لیے مفید یہ فیٹ در اصل فیٹی ایسڈز ہیں، جو مچھلی کے علاوہ نباتی ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں، ان میں سویا بین سے بنا ہوا تیل قابل ذکر ہے۔

جس طرح مچھلی کے گوشت سے پروٹین، فولاد، کیلشیم، آیوڈین اوروٹامن بی حاصل ہوتا ہے، بالکل اسی طرح مچھلی کا تیل بھی انہی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ اب تک ہونے والی تحقیقات کے مطابق مچھلی کھانے سے خون کی چکنائی تبدیل ہو جاتی ہے۔ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کم ہوتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق چونکہ مچھلی کا استعمال بلڈ پریشر کو بڑھنے سے روکتا ہے ، اس لیے یہ امکانی طورپر فالج سے محفوظ رکھنے کا باعث بنتا ہے۔

جھینگے کے فوائد

قدرت نے سمندری غذا کو انسان کے لیے بے پناہ فوائد کا حامل بنایا ہے اور اس کی ایک اور بہترین مثال جھینگا ہے، جو صحت برقرار رکھنے بالخصوص جگر کی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مفید ترین نسخہ مانا جاتا ہے۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انسانی صحت کے لیے جھینگے کے حیران کن فوائد سامنے آئے۔ 

یونیورسٹی کے ہاپکنز میرین سینٹر کے سائنسدانوں نے تحقیق میں معلوم کیا کہ جھینگے کا گوشت ششٹوسمائٹس (Schistosomiasis) نامی بیماری کے پھیلاؤ کو روک کر بانجھ پن، جگر کی خرابی، مثانے کے کینسراور متعدد دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ تحقیق میں یہ اہم بات بھی سامنے آئی کہ جب ادویات ششٹوسمائٹس پر قابو پانے میں ناکام ہو جائیں تو جھینگوں کو اس بیماری کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائنسی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف بھی کیا گیا کہ دنیا بھر میں تقریباً 80 کروڑ افراد ششٹوسمائٹس نامی بیماری کا شکار ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں (وہ اس مرض کے باعث میں بانجھ پن جیسے مسائل کے خدشے سے دوچار ہیں)۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے محفوظ رہنے کا آسان حل تازہ پانی میں پائے جانے والے جھینگے کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔