مجھے اپنی آنکھوں پر ایک بار پھر یقین نہیں آرہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ میں افریقہ کے کسی پسماندہ ملک یوگنڈا میں نہیں بلکہ یورپ کی جنت سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوا ہوں، ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی ایک خوبصورت نظارہ میرا منتظر تھا ، بہترین کشادہ سڑک جس کے دونوں اطراف خوبصورت درخت علاقے کی خوبصورتی کے لئے خاص طور پر لگائے گئے تھے جبکہ سڑک کے دونوں اطراف میں ہرے بھرے پہاڑوں پر خوبصورت آبادیاں تعمیر کی گئی تھیں، سرخ رنگوں کی چھتوں والی عمارتیں جن میں مکانات اور ہوٹل بھی شامل تھے جو انتہائی خوبصورت منظر پیش کررہے تھے جبکہ فضا میں موجود کالے بادل اور ہلکی پھلکی بارش کسی بھی طرح یہ گمان نہیں ہونے دے رہی تھی کہ میں سوئٹزر لینڈ میں موجود ہوں یا افریقہ کے پسماندہ ملک یوگنڈا کی سڑکوں پر رواں دواں ہوں۔
یوگنڈا کا آنے کا میرا دوسرا اتفاق تھا لیکن اس دفعہ میں اپنے دوست اشرف سحارا کو کافی مس کررہا تھا جو اپنی مصروفیات کی بنا پر چند دن قبل ہی یوگنڈا سے واپس جاپان روانہ ہو چکے تھے جبکہ میں بھی اپنی مصروفیات کے بنا پر کچھ تاخیر سے ہی یوگنڈا پہنچا تھا تاہم اشرف سحارا اپنے بھتیجے طاہر سحارا کو مجھے ایئرپورٹ سے لینے کے لئے بھیجنا نہیں بھولے تھے۔ یوگنڈا میں مقیم فرحان ظہور بھی ساتھ ہی موجود تھے جو یوگنڈا کے حالات زندگی سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد بریف کرتے جارہے تھے۔ گاڑی تیزی سے دارالحکومت کمپالا کی جانب آگے بڑھ رہی تھی، اب میرے سیدھے ہاتھ پر جھیل وکٹوریہ شروع ہوچکی تھی جو علاقے کے قدرتی حسن کو چار چاند لگارہی تھی ،لیک وکٹوریہ دنیا کی چند بڑی جھیلوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے جو آگے جاکر دریائے نیل سے بھی ملتی ہے ، ایئرپورٹ کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر اقوام متحدہ کے طیاروں کے لئے خصوصی جگہ بنائی گئی تھی ، جہاں کئی جہاز موجود تھے جن سے اقوام متحدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اتر رہی تھی ، یوگنڈا میں بین الاقوامی این جی اوز اور اقوام متحدہ کئی اہم عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مصروف ہے جس کے لئے اقوام متحدہ بھاری رقم خرچ کر رہی ہے ، انتیبے ایئرپورٹ سے دارالحکومت کمپالا جانے کے راستے میں کئی چھوٹے چھوٹے قصبے بھی راستے میں پڑتے ہیں ، اب ہماری گاڑی بھی کسی ایسی ہی جگہ سے گزررہی تھی جو افریقی طرز زندگی کا نمونہ پیش کررہی تھی، غربت کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے، طاہر سحارا مجھے بتارہے تھے کہ یہاں بھی تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح امیر اور غریب لوگوں میں بہت زیادہ فرق ہے ،امیر آدمی لاکھوں ڈالر ماہانہ کمالیتا ہے جبکہ غریب فرد کے لئے ماہانہ تیس ڈالر کمانا بھی مشکل کام ہے جبکہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان بھی یوگنڈا کے مقابلے میں کئی گنا سستا محسوس ہوتا ہے۔ طاہر سحارا کے مطابق جس سڑک پر ہم سفر کررہے ہیں یہ یوگنڈا کی مرکزی سڑک ہے جو یوگنڈا انتیبے ایئرپورٹ سے دارالحکومت کمپالا سے ہوتی ہوئی کینیا ،سوڈان اور کانگو تک جاتی ہے جبکہ آگے جاکر یہی سڑک روانڈا اور تنزانیہ کو ملانے والی سڑکوں کو بھی چھوتی ہے ، یوگنڈا کی سرحدیں پانچ افریقی ممالک سے ملتی ہیں تاہم بدقسمتی سے یہاں کوئی سمندری پورٹ نہ ہونے کے باعث زیادہ تر تجارت کا دارومدار کینیا کی سمندری بندرگاہ ممباسا پورٹ پر ہے جہاں سے سڑکوں کے ذریعے یوگنڈا تک تجارتی سامان لایا جاتا ہے جبکہ کئی دیگر افریقی ممالک بھی یوگنڈا کے راستے ہی تجارت کو ترجیح دیتے ہیں ،تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد اب ہم اپنی رہائش گاہ پہنچ چکے تھے جو دارالحکومت کمپالا کے وسط میں واقع تھی ، جہاں کئی دوست پہلے سے استقبال کے لئے موجود تھے جن میں تصدق سحارا سمیت رضوان چیمہ ، عمران اور احمد شامل تھے۔
اگلے روز رضوان چیمہ مجھے بتارہے تھے کہ یہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کئی اہم مسائل کا شکار ہے جن کی آواز پاکستان میں اعلیٰ حکام تک کبھی نہیں پہنچی لہٰذا اگر روزنامہ جنگ میں آپ اپنے کالم کے ذریعے یوگنڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرسکیں تو یہاں مقیم پاکستانیوں کی بڑی خدمت ہوگی جبکہ میں خود بھی یہاں پاکستانیوں کو درپیش مسائل کو محسوس کرچکا تھا لہٰذا کچھ ہی دیر میں رضوان چیمہ نے میری ملاقات پاکستان ایسوسی ایشن یوگنڈا کے سابق صدر طارق چٹھہ سے کرانے کا انتظام کردیا ، طارق چٹھہ یوگنڈا میں پچھلے اٹھارہ سال سے مقیم ہیں اور معروف کاروباری اور سماجی شخصیت ہیں ،انہوں نے بتایا کہ یوگنڈا میں کم و بیش پانچ ہزار پاکستانی مقیم ہیں جن کی اکثریت ذاتی کاروبار سے منسلک ہے جبکہ بہت کم تعداد میں لوگ ملازمت کے پیشہ سے بھی وابستہ ہیں ، طارق چٹھہ کے مطابق یوگنڈا میں پاکستانی سفارتخانہ 1998ء کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے اخراجات میں کمی کے نام پر بند کردیا گیا تھا جس کے بعد سے آج تک دوبارہ نہیں کھولا گیا ، جس کے باعث پاکستان کے یوگنڈا کے ساتھ ماضی میں رہنے والے گرمجوش تعلقات انتہائی سردمہری کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ پاکستانی کمیونٹی بھی یہاں اپنے آپ کو لاچار اور یتیم محسوس کرتی ہے جبکہ پاکستانیوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی کینیا میں موجود پاکستانی سفارتخانے یا پاکستان تک جانا پڑتا ہے جبکہ پانچ ہزار پاکستانیوں کو کسی بھی طرح کی سفارتی مدد حاصل نہیں ہے۔
طارق چٹھہ نے بتایا کہ اس وقت یوگنڈا تیزی سے ترقی کرتا ہوا افریقی ملک ہے جس کے پانچ افریقی ممالک کے ساتھ سرحدیں بھی ملتی ہیں جس کے باعث یوگنڈا کو افریقہ کا تجارتی حب سمجھا جاتا ہے تاہم پاکستان کے یوگنڈا سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے یوگنڈا میں بھارت ہر طرح سے چھا گیا ہے جبکہ ماضی میں یوگنڈا کے پاکستان کے ساتھ فوجی، سیاسی ، معاشی اور سیاحتی تعلقات تھے جو اب ختم ہوکررہ گئے ہیں جبکہ اگر کوئی پاکستانی اپنے کسی کاروباری شراکت دار کو پاکستان لے جانا چاہے تو پاکستان کا ویزہ اتنا سخت کر دیا گیا ہے کہ کسی یوگنڈا کے شہری کا پاکستان کا سفر ناممکن ہوکر رہ گیا ہے۔
میرے لئے بھی یہ تعجب کی بات ہے کہ پاکستان نے افریقہ کے اتنے اہم ملک کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے جبکہ پانچ ہزار پاکستانیوں کو بے یارومددگار کینیا کے سفارتخانے کے بھروسے پر چھوڑ دیا ہے جو قابل افسوس امر ہے ، وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ طارق چٹھہ کے مطابق یہاں موجود پانچ ہزار پاکستانی سالانہ کئی ملین ڈالر قانونی طریقے سے پاکستان بھجواتے ہیں لہٰذا پاکستان کے نیشنل بینک کو بھی یوگنڈا میں اپنی برانچ کھولنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگلے روز میری ملاقات کمیونٹی مسائل کے حوالے سے ہی پاکستان ایسوسی ایشن یوگنڈا کے سینئر وائس چیئرمین شیخ نعیم چوپڑا سے ہوئی جنہوں نے بھی تفصیل کے ساتھ یوگنڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یوگنڈا میں سفارتخانہ پاکستان کی کمی تو بلاشبہ سب سے اہم مسئلہ ہے ہی تاہم کئی دیگر اہم مسائل بھی ہمیں درپیش ہیں جن میں نیشنل بینک آف پاکستان کا یوگنڈا میں قیام انتہائی اہم ضرورت ہے جبکہ اس وقت یہاں مقیم پانچ ہزار پاکستانیوں کو پاکستان جانے کے لئے غیر ملکی ایئرلائنوں سے سفر کرنا پڑتا ہے جو مختلف ممالک سے ہوتی ہوئی پاکستان جاتی ہیں لہٰذا اگر پی آئی آئے یوگنڈا کے لئے اپنی پروازیں شرو ع کردے تو نہ صرف پاکستانیوں کو بھی سہولت حاصل ہوگی بلکہ پی آئی آئے کو بھی کافی ریونیو حاصل ہوسکتا ہے، شیخ نعیم چوپڑا کے مطابق یوگنڈا میں مقیم پاکستانیوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی کافی مسائل لاحق ہیں لہٰذا اگر یہاں پاکستانی سفارتخانہ قائم ہو تو پاکستانی اسکول کا قیام بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے جس سے سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی بچوں کی تعلیم کے مسائل حل ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ یوگنڈا میں پاکستان سے ہیومن ٹریف بھی اہم مسئلہ ہے یہاں ایجنٹ معصوم پاکستانیوں سے لاکھوں روپے لیکر انہیں یوگنڈا لے آتے ہیں اور پھر بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ جاتے جس سے بھی پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے لہٰذا حکومت کو اس مسئلے پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ شیخ نعیم چوپڑا کے مطابق یوگنڈا ہزاروں پاکستانیوں کے لئے خوابوں کی سرزمین ہے لیکن یہاں مزید پاکستانیوں کو لانے کے لئے حکومت پاکستان کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔