• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس کے سبب جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا کا دورہ امریکہ ملتوی ہوگیا۔ تاہم امریکی صدر جوبائیڈن سے ہفتے کے روز ان کے ورچوئل مذاکرات ہونگے۔ 

ان مذاکرات میں دو طرفہ دلچسپی کے امور سمیت شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور جاپانی شہریوں کے اغواہ کا حل طلب معاملے پر بھی بات چیت ہوگی۔

اس حوالے سے جاپانی وزیر اعظم نے جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کیلئے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملکر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم فومیو کِشیدا، صدر بائیڈن کے ساتھ اپنے مذاکرات کے انعقاد سے دو روز قبل بدھ کے روز ایوانِ زیریں کے مکمل اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے۔

 اُنہوں نے صدر بائیڈن سے بالمشافہ ملاقات کیلئے دورۂ امریکہ کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کورونا وائرس کی متغیر قِسم اومی کرون کے پھیلاؤ کی وجہ سے ان کے مذاکرات ورچوئل ہوں گے۔

وزیراعظم کِشیدا نے کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کیلئے جاپان کے واحد اتحادی امریکہ کے ساتھ اعتماد کے تعلقات تشکیل دینے کیلئے کام کریں گے۔ 

اُنہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران وہ امریکی صدر سے تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسے ہدف کے حصول کیلئے مل جُل کر کام کریں گے۔ وزیراعظم کِشیدا ایٹمی بمباری کا شکار ہونے والے شہر ہیروشیما سے تعلق رکھتے ہیں۔

جاپانی وزیراعظم نے شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی شہریوں کے اغواء کا حوالہ بھی دیا جنہیں زیادہ تر 1970ء اور 80 کی دہائیوں میں اغواء کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کِشیدا نے کہا کہ وہ اس معاملے کے حل کیلئے صدر بائیڈن سے قریبی تعاون کی تصدیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے دیگر ملکوں کے ساتھ مل جُل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اغواء شدہ تمام جاپانی جس قدر جلد ممکن ہو سکے واپس جاپان آ سکیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید