• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سویڈن: قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف پارٹیت نیانس کا احتجاج

مالمو (نمائندہ جنگ) سویڈن میں قرآن سوزی کے واقعات کے خلاف سیاسی جماعت پارٹیت نیانس کی جانب سےسویڈن کے بڑے شہروں میں پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت اسٹاک ہوم کے بعد سویڈن کے تیسرے اور پاکستانی آبادی کے لحاظ سے بھی تیسرے بڑے شہر مالمو میں ایک پرامن احتجاج منعقد کیا گیا جس میں سیکڑوں کی تعداد میں مالمو شہر کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ پارٹیت نیانس کی جانب سےمالموشہر میں منعقد ہونے والے احتجاج میں پارٹی لیڈر میکائیل یوکسیل کا کہنا تھا کہ ہم پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں اور پولیس پر ہونے والے پتھراؤ اور جھلائو گھیرائو کی ہم مذمت کرتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا اس بار سویڈن کی پارلیمان تک پہنچنا یقینی ہے اور انشاللہ ہم تمام تر اقلیتوں کے حقوق کی آواز بنیں گے۔ پارٹیت نیانس کی جانب سے نامزد کردہ پاکستانی امیدوار زبیر حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کی قراداد سے متعلق آگاہی فراہم کی ۔زبیر حسین کا کہنا تھا کہ"میں یہ نہیں دہراؤں گا کہ کون سے واقعات رونما ہوئے اور کن وجوہات کی بناء پر ہم یہاں جمع ہوئے ہیں، نہ ہی میں اس بات پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ آزادی اظہار رائے کیا ہے، اس کے برعکس میں سویڈن کے عام عوام تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے حوالہ سے معلومات پہنچانا چاہتا ہوں۔اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو انسدادِ اسلامو فوبیا کے عالمی دن کے طور پر منانے کی ایک قرارداد کی منظوری دی۔یہ ایک ایسی قرارداد ہے جسے 193 رکنی ممالک نے منظور کیا جن میں 55 بنیادی طور پر مسلم ممالک تھے،جس میں مذہب اور عقیدے کی آزادی کے حق پر زور دیا گیا ہے اور ہر قسم کی عدم برداشت اور امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں تمام ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں، سول سوسائٹی، پرائیویٹ سیکٹر، اور مذہبی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ "اسلامو فوبیا کو روکنے کے بارے میں ہر سطح پر آگاہی مہم کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھائیں اور اس مقصد کے لئے تقریبات کا انعقاد اور حمایت کریں اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا نیا عالمی دن منانے کے لیے سدباب کریں۔سویڈن چونکہ اقوامِ متحدہ کا رکن ہے اس لیے سویڈن کو اقوام متحدہ کی مذکورہ قراداد کا احترام کرنا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے 15 مارچ کے بعد سویڈن میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کے واقعات اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔پارٹی نیانس تمام اقلیتوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم جلد ہی سویڈش پارلیمنٹ میں ہوں گے اور سویڈن میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔قرآن سوزی کے واقعات کے بعد سویڈن بھر میں فسادات اور پُرتشدد احتجاج کئے گئے جس میں پولیس کی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں جب کہ متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے، توڑ پھوڑ اور پر تشدد واقعات کے حوالے سے سویڈش پولیس کے سربراہان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں جرائم میں ملوث نوجوان شامل تھے جنہوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر پولیس اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ پرتشدد واقعات کے بعد قرآن کی بے حرمتی کرنے والے راسمس پلودان کو سویڈن کے مختلف شہروں میں اب احتجاج کے اجازت نامے جاری نہیں کئے جارہے جب کہ راسمس پلودان کا اس حوالے سے کہنا کہ مجھے اپنی رائے کی آزادی کا حق ہے ، مجھے پولیس کے اجازت نامے کی ضرورت نہیں، مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر سویڈن کی حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹس ہر سال بڑے شہروں میں ریلیاں منعقد کرتی ہے ،پلودان نے ان ریلیوں کے سامنے قرآن کی بے حرمتی کے لئے پولیس کے اجازت نامے کی درخواست دی تھی جو مسترد کردی گئی۔ ان تمام واقعات کے پیشِ نظر سیاسی جماعت پارٹیت نیانس نے اپنا دائرہ کار وسیع کرکے پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
یورپ سے سے مزید