• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
جب سے پاکستان میں مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت عدم اعتماد کے بعد اقتدار میں آئی ہے۔ مسلسل درد خوردنی میں مبتلا ہے، ایک طرف معیشت کا درد ہے تو دوسری طرف درد عمرانی سانس نہیں لینے دیتا، مسلم لیگ ن نے اس وقت اقتدار لے کر کوئی دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا، ہر طرف سے اس جکڑی ہوئی اقتصادی صورت حال میں اقتدار نہ لینے کے مشورے دیئے جارہے تھے لیکن انہوں نے پی ٹی آئی کا جکڑ بند ان کے گلے سے اتار کے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے، ملک کے عوام اسی مصیبت میں ہیں، بس ٹوپیاں ایک سروں سے اُڑ کے دوسرے سروں پر آٹکی ہیں، پاکستان میں عجب مذاق دیکھیں کہ پہلے عمران خان، اسد عمر کو معیشت دانی کا جادوگر قرار دیتے تھے، اس کا بھانڈہ پھوٹا، ملک کی معیشت کسی سمت کے بغیر دھنستی چلی گئی،پی ٹی آئی پر ذرا بعد میں بات کرتے ہیں۔ پھر یہ ن لیگ والوں نے اسحاق ڈار کے معیشت دانی کے طلسم کی دھاک بٹھانی شروع کی، خیر ان کا طلسم تو جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ، کچھ بن نہیں پا رہی، اس چند ہفتوں کے دوراقتدار میں انہوں نے کئی بار اس صورت حال سے فرار حاصل کرنے کا سوچا بھی ہے بلکہ مریم نواز نے تو کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے مسائل کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کے کیوں چلیں لیکن یہ سب اب After Thoughtہے، اب جس کنویں میں چھلانگ لگا چکے ہیں، اس میں سے خود نکلنا ممکن نہیں، اب اس غوطے کھاتی صورت حال سے کون نکالے گا،آصف زرداری نے بھی کنویں میں ایک ہاتھ لٹکایا ہوا ہے، وزیراعظم شہبازشریف سمجھتے ہیں کہ یہ ہاتھ انہیں کنویں سے نکالنے کے لیے لٹکایا گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ اصل بات الٹ ہے، لگتا ہے آصف زرداری نے اس لیے ہاتھ لٹکایا ہوا ہے کہ کہیں شہبازشریف باہر نہ نکل آئیں، وہ کہتے ہیں کہ مدت پوری کرنی ہے، پیپلز پارٹی اس سارے کھیل میں کسی گھاٹے میں نہیں ہے، اس کی تمام مہم جوئی کی قیمت تو ن لیگ نے ہی چکانی ہے، پنجاب میں بھی اور مرکز میں بھی، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہبازشریف میں نہ صرف یہ کہ کوئی کرزمہ نہیں ہے بلکہ وہ کمزور وزیراعظم ہیں، مجھے ان کے اندر عوام کو اعتماد میں لینے کا کوئی ہنر نظر نہیں آرہا، جس قسم کی معیشت ہے اور اس وقت جس صورت حال میں ہے اسے رائج نوآبادیاتی ٹائپ حکمت عملی کے ذریعے باہر نکلنا ممکن نہیں، پاکستان کے رائج سیاسی منظرنامے میں اس نوآبادیاتی ٹائپ اور گھسے پٹے طرز حکمرانی اور طرز سیاست کے علاوہ کسی کو اور کچھ آتا بھی نہیں۔ اب عمران خان جس حقیقی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں ذرا اسے بھی دیکھیں کہ پاکستان کی پہلے ہی جہاد اور جہادی کلچر سے پوری طرح جان نہیں چھوٹی بلکہ اس نے گزشتہ چالیس برس میں قوم کو جہادی بنائے رکھا ہے، اب عمران خان اس جہاد کی نشاۃ ثانیہ کرنے آئے ہیں، وہ قوم کو جہاد کا سبق پڑھا رہے ہیں، سیاست، برداشت، قانون، آئین سب کچھ رد کررہے ہیں اور گزشتہ چالیس، پچاس برس میں جہاد سے متعارف عوام کا ایک حصہ عمران خان کو مسیحا سمجھ بیٹھا ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تین سال میں تو ایسا کوئی منتر کرکے نہیں دکھایا، اب اقتدار سے ہٹنے کے کرود اور جلن نے انہیں ایسے بیانیے دے دیئے ہیں کہ ان کی طلسماتی قیادت تو ابھر آئی ہے لیکن تعمیری بیانیہ ندارد، بس نفرت کی سیاست ہے جو زور پکڑتی جارہی ہے۔ اس کرزمے کے ساتھ حکومتی پارٹیاں بہت کمزور ہیں جس کی وجہ عوام کی بار بار کی قیادت کی طرف سے مایوسی ہے۔ ستر کی دہائی میں بھٹو کا کرزمہ ابھرا تھا، لوگ آنکھیں بند کرکے بھٹو اور اس کے سوشلزم اور عوام کی طاقت کے بیانیے پر چل پڑے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عوام نے دیکھا کہ وہ بھی بلف نکلا، پھر میں نے وکلا کی تحریک میں دیکھا کہ اسی طرح مرد، عورتیں، بچے سب نکل پڑے تھے، سب پُر امید تھے کہ اب ملک میں یہ وکلا تحریک (جسٹس افتخار چوہدری والی) ملک میں سیکولر اور قانون کی بالادستی کا نظام قائم کردے گی، لیکن عوام دھوکہ کھاتے رہتے ہیں۔ اس بار پھر دھوکہ کھا گئے، وہ جو ریاست کو ماں کے جیسا بتا رہے تھے، وہی بھاگ گئے، اب پھر عوام جہادی بیانیے کا دھوکہ کھانے نکلے ہیں، اب اس فریب، سحر کو چھٹتے چھٹتے دو چار سال تو لگ ہی جائیں گے، خیر اب پاکستان کے عوام بھانت بھانت کا چورن کھانے کے عادی ہیں، اسی لیے بیچنے والوں کا چورن بھی بکتا رہتا ہے لیکن اس چورن فروشی میں22کروڑ عوام کا کیا بنے گا، اگر ایک سوراخ سے ایک بار ڈسا جائے اور آئندہ اس سوراخ پر پائوں رکھنے سے احتیاط کی جائے تو راستہ خطروں سے پاک ہوجاتا ہے لیکن اگر اسی سوراخ پر بار، بار پائوں رکھا جائے اور سانپ بھی کاٹتا رہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ کاٹنے والے اور کٹوانے والے دونوں کو ایک دوسرے کا مزہ (صواد) لگ چکا ہے۔ گویا مرض لا علاج ہے۔ 
یورپ سے سے مزید