• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

براہ راست ڈیبٹ کے ذریعہ اضافی ادائیگیوں کیلئے انرجی فرمز کی حدود متعین

لندن (پی اے) برطانیہ کے انرجی ریگولیٹر آفجیم نے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئےبراہ راست ڈیبٹ کے ذریعہ اضافی ادائیگیوں کیلئے انرجی فرمز کی حدود متعین کردی ہیں۔ آفجیم نے الزام لگایا ہے کہ بعض ادارے صارفین کی اکیومولیٹڈ کریڈٹ کارڈ کو بھی انٹرسٹ فری کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کرتی ہیں۔ آفجیم کی طرف سے اعلان کے مطابق براہ راست ڈیبٹس کے حوالے سے رولز کو سخت کردیا گیا ہے اور اب انرجی سپلائی کرنے والے کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائیں گی کہ کریڈٹ بیلنس بہت زیادہ نہ ہوجائے۔ آفجیم نے سپلائر کے ناکام ہونے کی صورت میں بھی کریڈٹ بیلنس کے تحفظ بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ سپلائر ایسی کوئی رقم وضع نہ کرسکے، جو صارف نے استعمال ہی نہ کی ہو۔یہ اقدامات یوکرین کی جنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوجانے کے بعد تیل وگیس کی کئی معروف اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے کاروبار ختم کئے جانے کے سبب صارفین کو لاحق پریشانیوں اور مشکلات کے پیش نظر کئے ہیں۔ انرجی کی کم وبیش30 کمپنیوں نے گزشتہ سال اگست میں کاروبار بند کردیا تھا، جن میں بلب جیسی کمپنی شامل تھی، جس کے کسٹمرز کی تعداد1.7ملین تھی۔ آفجیم کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اب انرجی سپلائی کمپنیوں کی جانب سے اس طرح کاروبار بند کرنے کے اعلان کو روکا جاسکے اور صارفین کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جاسکے، جس طرح انرجی کمپنیوں نے گزشتہ سال کیا تھا۔ آفجیم کا کہنا ہے کہ انرجی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت مستحکم بنا کر ان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کو روکا جاسکتاہے اور موسم سرما کے دوران ان کے ناکام ہونے کے خطرے کے خدشات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ رولز کے تحت نیا سپلائر کسٹمرز کا کریڈٹ بیلنس ناکام ہونے والے سپلائر سے نہیں لے گا، اس طرح اس بیلنس کو تبدیل کرنے کے تمام اخراجات کسٹمر کے بل میں لگ کر آجائیں گے، نئے منصوبے کے تحت، جس کی منظوری ابھی ہونی ہے، انرجی کمپنیوں کو ناکامی یعنی دیوالیہ ہونے یا کاروبار بند کرنے کی صورت میں اپنے کسٹمرز کی رقم کا تحفظ کرنا ہوگا۔ آفجیم نے توقع ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے خطرات کے خدشات کم ہوجائیں گے۔ آفجیم کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ آج کی تجاویز پر عمل سے کسٹمرز کی محنت سے کمائی گئی رقم کا مکمل تحفظ ممکن ہوسکے گا۔ تیل وگیس کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران لاک ڈائون کے خاتمے اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد اضافہ ہوا ہے، اس کے ساتھ ہی فوڈ اور فیول کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ 40 سال کے ریکارڈ کو مات کر گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اکتوبر میں انرجی کی قیمتوں میں اضافے پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد برطانیہ میں انرجی بل میں مزید 800 پونڈ تک اضافہ ہوجائے گا۔

یورپ سے سے مزید