• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن کے گٹروں کی نالیوں میں پولیو وائرس، یوکے ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی نے ’’نیشنل انسیڈنٹ ڈیکلیئر‘‘ کردیا

لندن (جنگ نیوز) لندن میں گٹر کی نالیوں سے پولیو وائرس ملنے کے بعد یوکے ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی نے ’’نیشنل انسیڈنٹ ڈیکلیئر‘‘ کر دیا۔ ہیلتھ حکام کے مطابق وائرس بیکٹن سیورج ٹریٹمنٹ ورکس سے ملے ہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ عوام کو وائرس لگنے کا خطرہ انتہائی کم ہے۔ وائرس فروری سے مئی کے دوران ملے، حکام کا خیال ہے کہ جنوب مشرقی لندن میں وائرس پھیلا اورکئی خاندانوں کے قریبی افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں، اس حوالے سے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیاہے تاکہ وائرس پھیلنے کی جگہ کا تعین کیا جاسکے، برطانیہ میں1950ء میں پولیو کی بیماری عام تھی لیکن 2003ء میں اس کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا، حکام کا خیال ہے کہ وائرس کسی ایسے شخص کے ذریعے پہنچا ہے جسے حال ہی میں پولیو کی ویکسین لگی ہے اور جس ملک سے وہ آیا وہاں اب بھی پولیو کے وائرس موجود ہیں، واضح رہے کہ دنیا کے جن ممالک میں اب بھی پولیو موجود ہے ان میں پاکستان، افغانستان اور نائیجریا شامل ہیں، برطانیہ میں بیشتر آبادی کو بچپن میں ہی پولیو کی ویکسین دی جا چکی ہے تاہم کچھ کمیونٹیز میں ویکسین لینے کی شرح کم ہے۔ ایجنسی کی ڈاکٹر ونیسا سلبیا کا کہنا ہے کہ ویکسین نہ لینے والوں کے لئے خطرہ موجود ہے، لندن میں ویکسین کی ابتدائی تین ڈوزیز لینے والوں کی شرح 82فیصد جب کہ ملک کے دیگر حصوں میں 92فیصد تک ہے۔ پولیو ایک نایاب بیماری ہے جو اس وقت پھیلتی ہے جب کوئی شخص واش روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ درست طریقے سے نہ دھوئے اور پھر پانی یا کھانے کی چیز کو ہاتھ لگائے، بیشتر افراد کو وائرس لگنے پر بھی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، بعض کو تین ہفتوں تک فلو جیسی علامات رہتی ہیں، وائرس 100افراد میں سے ایک یا 1000 میں سے ایک شخص کے دماغ کو ناکارہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور اگر سانس لینے والے عضلات متاثر ہوں تو یہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یورپ سے سے مزید