• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگلے سال تک فوڈ پرائسز میں اضافہ بدترین حد تک پہنچ سکتا ہے، فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن کا انتباہ

لندن ( پی اے ) ایک انڈسٹری گروپ نے متنبہ کیا ہے کہ فوڈ پرائسز میں بے لگام اضافہ اگلے سال تک اپنے عروج پر پہنچ سکتا ۔ فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن جو یوکے فوڈ اینڈ ڈرنک میکرز کی نمائندگی کرتی ہے کا کہنا ہے کہ عام طور پر فوڈ اینڈ ڈرنکس پروڈیوسرز کی لاگت کو دکان کی شیلف تک پہنچنے میں سات سے 12ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے مینیو فیکچرنگ لاگت جیسا کہ انرجی اور کھاد کو بڑھا دیا ہے۔ دی فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن باس کیرن بیٹس نے متنبہ کیا ہے کہ فوڈ پرائسز بہتر ہونے سے پہلے بالکل بدتر ہو جائیں گی۔ آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس( او این ایس ) کے اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں افراط زر مئی تک بڑھ کر 8.7فیصد ہو گیا تھا ۔ مس کیرن بیٹس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں فوڈ پرائسز اگلے سال تک اپنی بلندیوں پر سکتی ہے اور کچھ پرائسز 10فیصد سے زیادہ حد تک بڑھ سکتی ہیں ۔ دیگر گروپس جیسا کہ انسٹی ٹیوٹ آف گروسری ڈسٹری بیوشن‘ جو بڑے گروسرز کو تجزیہ فراہم کرتا ہے نے پیش گوئی کی ہےکہ فوڈ پوائسز 15فیصد تک بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ہائوس ہولڈ آئٹمز مثلاً بریڈ ‘ گوشت ‘دودھ ‘ پھل اور سبزیاں مزید مہنگی ہو گئی ہیں ۔ انرجی ‘ فیول اور فوڈ پرائسز میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں مئی میں برطانیہ مئی میں افراط زر کی مجموعی شرح 40یبرسروں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ بی بی سی کے برطانوی ہائوس ہولڈز کے سروے میں پتہ چلا ہے کہ بڑھتے ہوئے مصارف زندگی کی لاگت کے ساتھ مشکلات سے دوچار افراد نے پہلے ہی گروسری کی خریداری میں کمی کر دی ہے یا انہوں نے کھانا کم کر دیا ہے یا کھانے بھی چھوڑ رہے ہیں ۔ مس کیرن بیٹس کا کہنا ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرنکس مینو فیکچررز نے پہلے ہی سپلائی اور لیبر کی قلت کی وجہ سے کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران لاگت میں اضافہ دیکھا تھا لیکن یوکرین کی جنگ نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں جن مینوفیکچررز سے بات کر رہی ہوں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی تمام لاگتیں بتدریج بڑھ رہی ہیں اور اس میں اجزاء سے لے کر خام مال ‘ انرجی اور لیبر تک سب کچھ شامل ہے۔ اور انہیں لاگت میں اضافے کا خاتمہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ روس اور یوکرین دونوں ہی کھاد کے بڑے سپلائر ہیں جبکہ یوکرین جسے یورپ کی بریڈ باسکٹ کہا جاتا ہے گندم‘ مکئی اور سورج مکھی آئل کا بڑا پروڈیوسر ہے۔ لیکن روس یو کرین تنازع سے ان اشیا کی فراہمی میں خلل پڑ رہا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹس میں پرائسز بڑھ رہی ہیں۔ دریں اثنا روس کو کہ آئل اینڈ گیس کا ایک پڑا پروڈیوسر ہے پر عائد پابندیوں نے انرجی کی نٹرنیشنل پرائسز میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس سے بزنسز اور کسٹمرز یکساں طور پر متاثر ہوئے ہیں ۔ مس کیرن بیٹس کا کہنا ہے کہ عام طور پر ان فوڈ اینڈ ڈرنک پرائسز کی قیمتوں کو مینوفیکچررز سے دکان کی شیلف تک پہنچنے میں سات سے 12 ماہ کا عرصہ لگتا ہے کیونکہ دکاندار سامان کی قیبمت پہلے ادا کر چکا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال فوڈ اینڈ ڈرنک پرائسز میں مزید اضافہ ہو گا جس سے صورت حال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اب سورج مکھی آئل ‘ گندم یا سورج مکھی کے پودے لگانے اور اگانے میں زیادہ لاگت آ رہی ہے تو پھر ان قیمتوں میں اضافے میں 12 ماہ کا عرصہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاید برطانیہ میں فوڈ پرائسز کو اپنا راستہ بنانے میں زیادہ طویل عرصہ لگے گا۔ مئی میں برطانیہ کی مجموعی افراط زر کی شرح 9.1 فیصد کی حد تک پہنچ گئی تھی جو کہ 40 برسوں میں ریکارڈ بلند ترین سطح ہے۔ اس دوران بنک آف انگلینڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال مجموعی افراط زر کی شرح 11فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ سب سے بڑے خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ اکتوبر میں ہائوس ہولڈز کے انرجی بلز میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے جب انرجی ریگولیٹر آفجیم کی جانب سے گیس اینڈ الیکٹرکسٹی پرائسز پر عائد کیپ حد کو ختم کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ورک اینڈ پنشن سکریٹری تھیریسی کوفی نے بی بی سی کے پروگرام سنڈے مارننگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سے بخوبی واقف ہے کہ یہ لوگوں کیلئے ایک مشکل وقت ہے۔ افراط زر میں اضافہ انرجی بلز بڑھنے کا باعث بنتا ہے جس جو کہ کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے آفٹر شاکس ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے گلوبل سپلائی چینز بھی اب نہیں چل رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ روس نے یوکرین پر حملہ کر کے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس کے اثرات مہنگائی پر پڑ رہے ہیں۔ لیکن ہم نے بلاشبہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور یوکرین پر روسی حملے سے نمٹنے کیلئے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بھی خاصے اثرات اور نتائج ہیں ۔ خاص طور پر انرجی لاگتوں پر اثرات زیادہ پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے مصارف زندگی سے نمٹنے اور مدد کیلئے حکومت کے پیکج کو اجاگر کیا جس کے تحت تمام ہائوس ہولڈز کیلئے فیول بلز میں 400 پونڈ کا ڈسکائونٹ بھی شامل ہے۔