• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہزاروں پرووائیڈرز بند ہونے سے والدین چائلڈ کیئر سے محروم ہوگئے

لندن (پی اے) ہزاروں پرووائیڈرز بند ہونے سے والدین چائلڈ کیئر سے محروم ہوگئے مارچ2021 اور مارچ2022کے دوران انگلینڈ میں4ہزار پرووائیڈرز کی کمی ہوئی ہے جو2016 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ یہ انکشاف آف ٹیسڈ کے اعدادو شمار سے ہوا ہے۔ کمپین گروپ پریگننٹ وین سکریوڈ نے کہا ہے کہ اسے پیغامات کی بھرمار کا سامنا ہے جن میں والدین کہہ رہے ہیں کہ ان کی نرسریاں بند ہورہی ہیں۔ نارتھ ویسٹ لندن کے علاقے آکسبرج کے اورلیٹ باخوسکی کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کی جنوری تک نئی نرسری تلاش کرنا ہوگی کیونکہ ہلنگڈن میں لوکل کونسل کے تحت چلائی جانے والی نرسری نے اعلان کیا کہ وہ دسمبر کے اختتام تک بند ہوجائے گی۔ 3سال اور آٹھ ماہ کے دو بچوں کے باپ نے کہا ہے کہ صورت حال مشکل تر ہوتی جارہی ہے کیونکہ جگہیں کم پڑ رہی ہیں۔ ٹیلی کامنز کمپنی کے35سالہ منیجر نے کہا کہ وہ دوسرے والدین کے لیے سوچتے ہیں، یہ ایک بھاری جدوجہد ہے کیونکہ اخراجات کا معاملہ بھی ہے۔ یہ ایک حقیقی مباحثہ ہے کہ آیا دونوں والدین کو کام جاری رکھنا چاہئے یا ایک پارٹنر کو گھر پر رہنا چاہئے، یہ مصارف زندگی کے حالیہ بحران کے ساتھ ضرب ہے اور والدین اور کیئررز نرسری کو کھلا رکھنے کے لیے پٹیشن شروع کی ہے۔ ہیلنگڈن کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین سینٹرز کی بندش کے لیے سفارش کی گئی ہے کیونکہ وہ5لاکھ32ہزار پونڈ کے نقصان میں چل رہے ہیں۔ پریگننٹ وین سکریوڈ کی چیف ایگزیکٹو جولی بریلی نے پی اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ملک بھر میں والدین کی حالت ابتر ہے اور پرووائیڈرز کیلئے صورت حال بھیانک ہے جنہیں اسٹاف کے بحران کا سامنا ہے۔ ان کی تنظیم والدین کو لچکدار اوقات میں کام کے لیے درخواست کرنے میں مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرکاری فنڈنگ کا فقدان ہے جو اس مسئلے کا سبب بن ہی ہے۔ لیبر نے حکومت پر تنقید کی ہے اور اس پر فنڈنگ میں دانستہ کمی کا الزام لگایا ہے۔ لیبر کی شیڈو وزیر تعلیم بریجٹ فلپسن نے کہا ہے کہ کنزرویٹوز کے تحت چائلڈ کیئر عدم دستیاب اور غیر متحمل ہوچکی ہے، مزید4ہزار پرووائیڈرز کی بندش والدین کیلئے دھچکہ ہے جو کام اور چائلڈ کیئر کے درمیان پس رہے ہیں، بہت سارے پرووائیڈرز نقصان میں چل رہے ہیں یا بندش پر مجبور ہوگئے ہیں اور گھرانے چائلڈ کیئر تک رسائی سے محروم ہوگئے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہے، ٹوریز ہمارے بچوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔