لندن (پی اے) ہاؤس آف کامنز کی جانب سے ملکہ کو پیش کیا گیا خراج تحسین 18 گھنٹے سے زیادہ وقت کے بعد ختم ہو گیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے بادشاہ کے ساتھ اپنی وفاداری اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ملکہ کو 18 گھنٹے سے زیادہ خراج عقیدت پیش کیا۔ کامنز کےسپیکر سر لنزے ہوئل نے کہا کہ 321 ایم پیز نے خصوصی دو روزہ نشست کے دوران 96 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی ملکہ الزبتھ کے بارے میں اپنی یادیں شیئر کرنےکے لئے بات کی اور تخت پر ان کی 70 سالہ حکمرانی کے دوران ملک اور اس سے آگے کے اثرات کو سراہا۔ خراج عقیدت کا دوسرا دن سات گھنٹے سے زیادہ جاری رہا اور یہ ایک غیر معمولی ہفتہ کی نشست تھی، جو 1982 کے بعد سے صرف دوسری بار منعقد ہوئی تھی۔ انہوں نے بادشاہ چارلس III کے نام ایک عاجزانہ خطاب کی بھی منظوری دی، جس میں انہوں نے ملکہ کی موت کے بعد کامنز کی طرف سے محسوس کی گئی گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور مزید کہا کہ ہم اپنی وفاداری اس یقین کا اظہار کہ وہ ملکہ کا دوربرقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ آزادیوں اور اب اور آنے والے برسوں میں اپنے تمام دائروں میں لوگوں کی خوشیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ کنزرویٹو ایم پی برائے ونڈسر، ایڈم آفریئی سیشن میں شرکت کرنے والے آخری بیک بینچر تھے اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ برکشائر ٹاؤن میں رہتے ہیں تو ہر طرف سے ملکہ کی یادوں سے ٹکرانے سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ کامنز لیڈر پینی مورڈانٹ نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہماری عظیم ملکہ نے ہم سب کو مصیبتوں پر فتح، چیلنج پر خوش مزاجی، لگن اور عزم کا زندہ ورثہ سونپا ہے۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں مگر ان کی اقدار ہمارے ساتھ باقی ہیں، اس کی مثال ہمیں اپنے بادشاہ اور اپنے ملک کے ساتھ مسلسل وفاداری پر مجبور کرتی ہے۔ خدا بادشاہ کو سلامت رکھے۔ اس سے پہلے دن میں وزیراعظم لز ٹرس اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے بادشاہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ سینئر ممبران پارلیمنٹ کے ایک منتخب گروپ کو ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے دوسرے دن سے پہلے کامنز ڈسپیچ باکس میں چارلس سے باضابطہ طور پر اپنی وفاداری کا عہد کرنے کا موقع دیا گیا۔ سر لنزے نے وضاحت کی کہ آج کے اوائل میں الحاق کونسل کے اجلاس اور پرنسپل اعلان کے بعد، میں سب سے پہلے ہز میجسٹی سے حلف اٹھاؤں گا۔ وقت کی پابندیوں کا مطلب ہے کہ معزز اراکین کی ایک چھوٹی سی تعداد حلف اٹھانے اور توثیق کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام معزز ممبران کے لئے ان کی مرحومہ عظمت کے جنازے کے بعد حلف اٹھانے یا تصدیق کرنے کے مزید مواقع ہوں گے۔ ایسا کرنے کے لئے کسی طریقہ کار کی ضرورت نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ ہر عام انتخابات کے بعد حلف اٹھاتے ہیں تاکہ وہ اپنی نشست سنبھال سکیں، بحث میں بات کر سکیں، ووٹ ڈال سکیں اور تنخواہ وصول کر سکیں۔ حلف کے الفاظ کا مطلب ہے کہ اراکین پارلیمنٹ پہلے ہی ملکہ کے وارثوں اور جانشینوں سے اپنی وفاداری کا عہد کر چکے ہیں، یعنی انہیں اس وقت دوبارہ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سر لنزے حلف اٹھانے والے پہلے ایم پی تھے اور اس کے بعد فادر آف دی ہاؤس سر پیٹر بوٹملے نے حلف اٹھایا۔ محترمہ ٹرس کے آگے بڑھنے سے پہلے مدر آف ہائوس ہیریئٹ ہرمن اگلی قطار میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں وفادار رہوں گی اور قانون کے مطابق بادشاہ چارلس، اس کے وارثوں اور جانشینوں کی سچی بیعت کروں گی۔ محترمہ مورڈانٹ اور لیبر لیڈر سر کیئر سٹارمر ان ممبران پارلیمنٹ میں شامل تھے، جنہوں نے توثیق کا انتخاب کیا۔ ایس این پی ویسٹ منسٹر کے رہنما ایان بلیک فورڈ، لبرل ڈیموکریٹ رہنما سر ایڈ ڈیوی، ڈی یو پی کے سر جیفری ڈونلڈسن اور پلیڈ سائمرو ویسٹ منسٹر کے رہنما لز سیویل رابرٹس تقریب میں شامل تھے۔ محترمہ سیول رابرٹس نے انگریزی اور ویلش دونوں زبانوں میں حلف اٹھایا۔ قدامت پسند سابق وزیراعظم تھریسا مے بھی 10 منٹ کی تقریب میں حصہ لینے والے 30 ارکان پارلیمنٹ میں شامل تھیں۔ دوسرے دن خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور سیکرٹری ہیلتھ تھریس کوفی نے ملکہ کی جانب سے کئی دہائیوں سے قوم کو دیئے گئے استقلال کی تعریف کی۔ محترمہ کوفی نے کہا کہ بطور وزیر ماحولیات کے دوران انہوں نے جہاں بھی دنیا بھر کا سفر کیا ملکہ کو سب سے زیادہ احترام کے ساتھ رکھا گیا اور ہمیشہ ان کی نمائندگی کی گئی۔ سابق کنزرویٹو کابینہ کے وزیر گریگ کلارک نے کہا کہ زائرین کے لئے ملکہ کی 1000 واٹ کی شاندار مسکراہٹ" نے ظاہر کیا کہ وہ ہر اس شخص کو پہچانتی ہیں جو ان سے ملاقات کرتا ہے، اس لمحے کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھے گا۔ مسٹر کلارک نے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم بورس جانسن کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے کہ انہوں نے موسم گرما میں انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کیا، نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں 8 جولائی کو ونڈسر کیسل میں خود محترمہ سے حلف اٹھانے کے قابل تھا اور جب میں نے محترمہ سے ہاتھ ملایا تو میرا استقبال 1000 واٹ کی انتہائی شاندار مسکراہٹ کے ساتھ کیا گیا، چمکتی ہوئی آنکھیں، جو بتاتی تھیں کہ وہ مجھے دیکھ کر بالکل پرجوش ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 96 سال کی عمر میں گرمی کی ایک گرم دوپہر کو محترمہ نے اب بھی تسلیم کیا کہ ہر ایک کے لئے وہ جس سے بھی ملتی تھیں، یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے وہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں گے۔