• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مارگیج کی شرح میں اضافے کے بعد قسط ادا نہ کرنے والوں کو بے گھری کا خطرہ

لندن (پی اے) مارگیج کی شرح میں اضافے کے سبب قسط ادا نہ کرنے کی وجہ سے بے گھری کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اوربے گھری کی صورت حال سے دوچار افراد کا مکان کا قبضہ دوبارہ حاصل نہ کرنے کی صورت میں خودکشی کے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔ ایسٹ سسیکس کے علاقے ہیسٹنگز کے رہائشی ایک 65 سالہ شخص نکولس ولسن نے بتایاکہ مارگیج کی قسط ادا نہ کرسکنے کی وجہ سےجو کہ اس کے مطابق فروری سے مارگیج کی شرح میں اضافے کی وجہ سے کم وبیش دگنی ہوچکی ہے، وہ اپنے مکان سے محروم ہوسکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اپنے مکان سے محروم ہونے کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔ مکان کھو دینے کے خدشے اور اخراجات زندگی میں اضافے کی وجہ سے مارگیج لینے والوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے اور بہت سے لوگوں کے سامنے خودکشی کے سوا اب کوئی چارہ کار نہیں رہا ہے۔ ولسن نے کہا کہ میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں لیکن موجودہ حالات میں اپنے گھر کا سامان سمیٹ کر مکان کو فروخت کیلئے پیش کردینا انتہائی المناک ہے۔ ولسن کا کہنا ہے کہ میں کافی عرصے سے ڈپریشن کا شکار ہوں اور اپنے گھر سے محروم ہوجانے پر مجبور ہوجانا میرے لئے ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کیلئے، جو کینسر کا مریض ہو اور بینی فٹس پر زندگی گزار رہا ہو، کسی جگہ مکان کرائے پر حاصل کرنا ناممکن ہے، میں اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ولسن گزشتہ 20سال سے بقول اس کے ان صارفین کے اکائونٹ پر بہت زیادہ لیوی عائد کئے جانے کے خلاف لڑ رہا ہے، اس دوران بینک نے ہرجانے کی 2اسکیمیں جاری کیں، جس سے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچا، جنھیں غیر متوقع طورپر ادائیگی کے نوٹس ملے تھے۔ ولسن اس سے قبل لیگل سیکٹر میں ملازمت کرتا تھا لیکن راز فاش کرنے کے بعد ملازمت کیلئے کوشش کرتا رہا۔ اینٹی کرپشن کے خلاف مہم چلانے کے دعویدار ولسن کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر پر ملنے والے عطیات کی وجہ سے، جن کی مالیت کم وبیش 50,000 پونڈ تھی، 3مرتبہ وہ مکان کا دوبارہ قبضہ حاصل کرچکا ہے۔ ولسن 2008 سے مکان کا مالک ہے اورکام نہ کرسکنے کی وجہ سے فی الوقت اسے امپلائمنٹ اور سپورٹ الائونس ملتا ہے۔ اس سال فروری میں اس کی مارگیج کی شرح 4.29 فیصد تھی، جس کیلئے اسے 484.19پونڈ کی ادائیگی کرنا پڑتی تھی، وہ 271.17 پونڈ ادا کرتا تھا اور ورک اور پنشن ڈپارٹمنٹ سے اسے 213.02 پونڈ ملتے تھے۔ اکتوبر سے اس کے مارگیج کی شرح 5.74فیصد ہوگئی اور اب اسے 652.29پونڈ اداکرنا ہوں گے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اب اسے پہلے کے مقابلے میں کم وبیش دگنی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس نے بتایا کہ اب اسے ورک اور پنشن ڈپارٹمنٹ سے 439.27پونڈ ملیں گے لیکن یہ رقم مجھے ملنے والی بینی فٹ کی 397.71 پونڈ کی رقم سے زیادہ ہوگی اور اب مجھے مارگیج کی ادائیگی کیلئے مدد نہیں ملے گی۔ اس نے کہا کہ اگر اگلے سال تک مجھے کوئی جزوقتی ملازمت مل جاتی ہے تو میں مارگیج ادا کرسکوں گا۔ مالیاتی مارکیٹ میں انتشار اور مارگیج کی شرح میں اضافہ گزشتہ ہفتہ چانسلر کواسی کوارٹنگ کی جانب سے منی بجٹ پیش کئے جانے کے بعد ہوا ہے جبکہ بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 6فی صد تک کردینے کا اشارہ دیا ہے۔ اب جبکہ حکومت اخراجات میں کمی کرنے پر غورکررہی ہے۔ وزیر خزانہ اورٹریژری منسٹر کسی نے بھی ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ افراط زر کی شرح میں اضافے کے بعد بینی فٹس میں بھی اضافہ کیا جائے گا یا نہیں؟۔ ولسن نے حکومت کے ردعمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بینی فٹس پر گزارا کرنے والوں کو اپنی ادائیگیوں میں مشکلات پیش آئیں گی جبکہ اس سے صرف دولت مندوں کو فائدہ پہنچے گا۔