نئی دہلی(جنگ نیوز)بھارتی سپریم کورٹ ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر عائد پابندی کے معاملے پر منقسم ہوگئی، انڈین سپریم کورٹ فیصلہ نہ سناسکی۔
دو رکنی بینچ میں سے ایک جج نے پابندی کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کرنے کا حکم دیا جبکہ دوسرے جج نے کرناٹک ہایئکورٹ کا فیصلہ معطل کر نے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا یا نہ پہننا طالبات کی مرضی پر منحصر ہے ، ʼاختلاف رائےʼ کے بعد دو رکنی بینچ نے معاملہ بھارتی چیف جسٹس کو بھیجتے ہوئے ان سے معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی درخواست کردی ، حتمی فیصلہ آنے تک طالبات کے حجاب پہننےپر پابندی برقرار رہے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس ہیمنت گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی اپیلوں کو خارج کرنے کا حکم دیا۔
بینچ کے دوسرے جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے ان کو سماعت کے لئے منظور کرنے کی اجازت دیتے ہوئےکرنا ٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
دو رکنی بینچ میں اختلاف کے باعث معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا ہے ۔مسلمان درخواست گزاروں کے ایک وکیل کا کہنا ہےکہ بینچ کا اختلافی فیصلہ ان کے لیے ʼنیم فتحʼ ہے۔
خیال رہے کہ ریاست کرناٹک جہاں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت ہے، مقامی حکومت نے رواں سال 5 فروری کو حکم جاری کیا تھا کہ تمام اسکول اورکالج انتظامیہ کی جانب سے طے کیے گیے ڈریس کوڈ پرعمل کریں جس میں حجاب اور برقع پہننے پر پابندی ہوگی۔