• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جِلد پر ابھرنے والے مسّے کیا بےضرر ہوتے ہیں؟

صحت کے مختلف مسائل میں جِلدی امراض بھی شامل ہیں، جن کے ہونے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ ایسے ہی بعض اوقات کچھ لوگوں کی جِلد پر مسّے اُبھر آتے ہیں جن میں سے بیشتر تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن دِکھنے میں یہ برے معلوم ہوتے ہیں۔ دراصل، جِلد پر ابھرنے والا مسّہ (اسکن ٹیگ) نرم لٹکتی جِلد کا ایک چھوٹا ٹکڑا ہوتا ہے۔ 

مسّے جسم پر کہیں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں، لیکن خاص طور پر یہ وہاں ظاہر ہوتے ہیں جہاں جِلد آپس میں یا لباس سے رگڑ کھاتی ہے۔ مسّے کے دوسرے نام ایکروچورڈن، کٹنیئس پیپیلوما، کٹنیئس ٹیگ، فائبروایپیتھیلیل پولیپ، فبروما مولسکم، فبروما پینڈولم، سافٹ فبروما اور ٹیمپلٹن اسکن ٹیگز ہیں۔ جِلد پر ابھرنے والے مسّے بہت عام ہیں اور عام طور پر یہ ادھیڑ عمر کے بعد ہوتے ہیں۔ یہ مردوں اور عورتوں کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں۔

مسّے کیا ہیں؟

جِلد پر ابھرنے والے مسّے بےضرر، غیر سرطانی، جلد کے ٹیومر ہیں۔ یہ ریشوں اور نالیوں، اعصابی خلیات، چربی کے خلیات اور ایپیڈرمس پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ مسّے پلکوں، بغلوں، چھاتی کے نیچے، کمر، سینے کے اوپری حصے اور گردن پر ظاہر ہوسکتے ہیں۔ ان پر اکثر کسی کا دھیان نہیں جاتا، جب تک کہ وہ نمایاں جگہ پر نہ ہوں یا لباس، زیورات پہنتے یا شیونگ کے وقت بار بار ان پر رگڑ یا کھرچ لگ رہی ہو۔

کچھ لوگوں کے یہ مسّے ہوتے ہیں اور وہ ان پر کبھی توجہ نہیں دیتے۔ کچھ معاملات میں، وہ بغیر درد کے رگڑ لگ کر یا خود ہی جھڑ کر گر جاتے ہیں۔ بہت بڑے جِلد کے مسّے دباؤ میں پھٹ سکتے ہیں۔ ان مسّوں کی سطح ہموار یا ظاہری شکل میں بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔ یہ عام طور پر گوشت کے رنگ کے یا قدرے بھورے ہوتے ہیں۔

جِلد پر نمودار ہونے والے یہ مسّے ابتدا میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تو چھوٹے ہی رہتے ہیں جبکہ کچھ بڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا قطر 2 ملی میٹر سے 1 سینٹی میٹر تک ہوسکتا ہے اور کچھ 5 سینٹی میٹر تک بھی بڑے ہوسکتے ہیں۔

اسباب

یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ جِلد پر مسّے ہونے کی کیا وجہ ہے، لیکن یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب کولیجن اور خون کی نالیوں کے کلسٹرز جِلد کے موٹے ٹکڑوں کے اندر پھنس جائیں۔ چونکہ جھریوں یا جِلد کی تہوں میں مسّوں کا ہونا زیادہ عام ہے۔ کچھ لوگوں میں جِلد پر مسّے ہونا موروثی ہوتا ہے۔ یہ مَردوں اور عورتوں دونوں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن یہ اکثر حمل کے دوران، موٹے لوگوں اور ذیابطیس کے شکار لوگوں میں ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق ہائپرانسولینیمیا سے ہے، جب خون میں بہت زیادہ انسولین گردش کرتی ہے۔

مسّوں کیلئے خطرے کے عوامل

جِلد پر نمودار ہونے والے مسّے ذیل میں درج لوگوں میں زیادہ عام دکھائی دیتے ہیں:

٭ زائد وزن کے حامل لوگ

٭ ذیابطیس میں مبتلا افراد

٭ حمل کے دوران ممکنہ طور پر ہارمونل تبدیلیوں اور اعلیٰ درجے کی گروتھ کے عوامل کی وجہ سےخواتین

٭ جن میں کچھ قسم کے ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ہوں

٭ جنسی اسٹیرایڈ عدم توازن کے شکار افراد، خاص طور پر اگر ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح میں تبدیلیاں ہوں

٭ جن کے قریبی خاندان کے افراد کی جِلد پر بھی مسّے ہوں

مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ جِلد پر ابھرنے والے مسّوں کے موٹاپے، ڈسلیپیڈیمیا (مثال کے طور پر ہائی کولیسٹرول کی سطح) اور ہائپر ٹینشن یا ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ ان کا تعلق انسولین کے خلاف مزاحمت اور اعلیٰ حساس سی-ری ایکٹیو پروٹین سے بھی کیا گیا ہے، جو سوزش کا ایک نشان ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جِلد پر نمودار ہونے والے مسّے انسولین کے خلاف مزاحمت، میٹابولک سنڈروم، ایتھرواسکلروسیس اور قلبی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے کی بیرونی علامت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

شاذ و نادر ہی جِلد کے یہ مسّے برٹ- ہاگ- ڈوبے سنڈروم (BHD) اور پولی سسٹک اووری سنڈروم سے منسلک ہوتے ہیں۔ برٹ- ہاگ- ڈوبے سنڈروم ایک غیر معمولی جینیاتی حالت ہے، جو جِلد کے ٹیومر کے زمرے میں آتا ہے۔ کاسینومس یا کینسر کے ٹیومر، گردوں اور بڑی آنت میں بھی ہو سکتے ہیں۔

علاج

چونکہ جِلد پر ابھرنے والے مسّے عموماً بے ضرر ہوتے ہیں، اس لیے انھیں ختم کرنا جمالیاتی یا کاسمیٹک وجوہات کی بناء پر ہوتا ہے۔ بڑے مسّے، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں وہ کسی چیز سے رگڑ سکتے ہیں، جیسے کہ کپڑے، زیورات یا جِلد، جلن کی وجہ سے ختم کیے جا سکتے ہیں۔

سرجری

مندرجہ ذیل طریقہ کار کو استعمال کیا جاسکتا ہے:

کوٹرائزیشن: الیکٹرولائسز کا استعمال کرتے ہوئے جِلد پر نمودار ہونے والے مسّے کو جلا دیا جاتا ہے۔

کرائیو سرجری: آلے کی مدد سے مائع نائٹروجن کے ذریعے مسّے کو منجمد کیا جاتا ہے۔

لائیگیشن: جِلد کے مسّے کو خون کی فراہمی میں خلل پیدا کیا جاتا ہے۔

ایکسیشن: اسکیلپل کی مدد سے مسّے کو کاٹا جاتا ہے۔

یہ تمام طریقہ کار صرف ڈرماٹولوجسٹ یا ماہرِ امراض جِلد، یا اسی طرح کے تربیت یافتہ طبی پیشہ ور افراد ہی انجام دیتے ہیں۔ پلکوں پر مسّہ، خاص طور پر وہ جو پلکوں کے حاشیے کے قریب ہوتا ہے، اسے ماہر امراض چشم کو ہٹانا پڑ سکتا ہے۔ خون بہنے اور ممکنہ انفیکشن کے خطرے کی وجہ سے گھر پر مسّے کو ہٹانے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم، بہت چھوٹے مسّے کو بنیاد کے گرد ڈینٹل فلاس یا روئی کے باریک دھاگے کو باندھ کر ہٹایا جا سکتا ہے، ایسا کرنے سے مسّے تک خون کی گردش ختم ہوجاتی ہے۔