• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمِ سرما میں انفلوئنزا کا پھیلاؤ اور اس سے بچاؤ

کووِڈ-19وبائی مرض کے ابتدائی دور میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ وائرس موبائل فون سے لے کر دروازوں کے ہینڈل اور اناج کے ڈبوں سے چمٹا ہوا ہے، اس لیے انھیں چھونے سے جتنا زیادہ پرہیز ہوسکتا ہے، کیا جائے۔ لیکن بعد میں مطالعوں اور تحقیق سے پتہ چلا کہ ایسا نہیں تھا۔

صحت عامہ کی رہنمائی کے باوجود کہ کووِڈ-19کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سطحوں کو جراثیم سے پاک رکھا جائے، تحقیق یہ بتاتی ہے کہ یہ وائرس بے جان سطحوں اور اشیا کے ذریعے نمایاں طور پر منتقل نہیں ہوا۔ فلو سے لے کر عام زکام تک، سانس کے تمام اقسام کے وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتے اور ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتے ہیں۔

روٹگرز نیو جرسی میڈیکل اسکول میں مائکرو بائیولوجی کے گولڈمین نامی پروفیسر ان پہلے سائنسدانوں میں شامل تھے جنہوں نے روایتی حکمت کو چیلنج کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ حفظان صحت کے لیے سطحوں کی حد سے زیادہ جراثیم کشی صحت عامہ کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔ امریکا میں صحت عامہ کے ذمہ دار ادارے ’سی ڈی سی‘ نے اپریل 2021ء میں اپنی تحقیق میں اس بات سے اتفاق کیا۔ گولڈمین ایک بار پھر وائرس کے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ان کا حالیہ کام لیبارٹری میں جانچ کی ناکامیوں اور وَبائی مرض سے نکلنے کے سائنس پر مبنی راستے کی وکالت کرتا ہے۔

پروفیسر گولڈ مین کہتے ہیں کہ، ’’سانس کے ذریعے پھیلنے والے وائرس جیسے کووِڈ-19بند ماحول میں پھیلتے ہیں، اس لیے کووِڈ-19جیسے وبائی مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے ہاتھوں اور دروازوں وغیرہ کے ہینڈل سینیٹائز کرنے کے بجائے انسانی صحت کے لیے بے ضرر ایئر سینیٹائزر کے ذریعے اسے ختم کرنے پر کام کرنا بہتر اور مؤثر طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسا ایئر سینیٹائزر نہ صرف ہوا کے ذریعے پھیلنے والے وائرس بلکہ بے جان سطحوں پر موجود وائرس کو بھی ختم کرسکتا ہے۔

سردیوں میں انفلوئنزا سے کیسے محفوظ رہیں؟

کووِڈ-19کے بعد یہ بات اب ہر کوئی جانتا ہے کہ انفلوئنزا بھی ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ کووِڈ-19کے پہلے سال کے دوران جب تقریباً ہر شخص ماسک پہن رہا تھا، اس وقت انفلوئنزا پھیلنے کی شرح تقریباً صفر تھی۔ اگر انفلوئنزا بے جان سطحوں کے ذریعے پھیلتا تو ایسا نہ ہوتا۔

کیا فلو ویکسین لگوانا ضروری ہے؟ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ، کووِڈ-19وبائی مرض موسمِ سرما میں ایک بار پھر نئی شدت پکڑ سکتا ہے، ایسے میں لوگوں کو انفلوئنزا سے محفوظ رہنے کے لیے فلو شاٹ ضرور لگوانا چاہیے تاکہ آنے والے مہینوں میں صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ نہ آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کووِڈ-19لاک ڈاؤن، سماجی دوری اور ماسک پہننے کی پابندیوں کے خاتمے کے باعث اس سال فلو کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکا میں صحت کے ذمہ دار ادارے ’’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن‘‘ کے مطابق سال 2021ء-2022ء کا فلو سیزن کم خطرناک ثابت ہوا تھا کیوں کہ گزشتہ سال A(H3N2)وائرس پھیلا تھا، اسے گزشتہ سال کی ویکسین میں شامل کیا گیا تھا اور اس سال بھی شامل کیا جارہا ہے۔ ادارے کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق، گزشتہ سال امریکا میں 80لاکھ سے لے کر ایک کروڑ 30لاکھ انفلوئنزا کے کیس رپورٹ ہوئے، ان میں سے 80ہزار تا ایک لاکھ 70 ہزار متاثرہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت پڑی جب کہ اموات کا تخمینہ پانچ سے لے کر 14ہزار ہے۔

کون لوگ فلو شاٹ لگوا سکتے ہیں؟ 

امریکی سی ڈی سی کے مطابق، چھ ماہ کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے تمام افراد کو فلو شاٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے اور ایک فلو شاٹ چھ ماہ تک مؤثر رہتا ہے۔ اگر آپ نے سال کی ابتداء میں فلو شاٹ لگوایا ہے ممکن ہے کہ ابھی تک وہ اپنا اثر کھو چکا ہو۔ طبی ماہرین اکتوبر کے آخر میں فلو شاٹ لگوانے کی تجویز دیتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ابتدائی فلو شاٹ کے بعد بوسٹر کی ضرورت پیش آسکتی ہے لیکن اس کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ہاتھ دھونے کی اہمیت

یقیناً، سانس کے ذریعے پھیلنے والے وائرس ہی دنیا میں واحد بُری چیز نہیں ہیں۔ دراصل، وائرل وائرس اور بیکٹیریا سے پھیلنے والی دیگر بھی کئی بیماریاں ہیں، جو بے جان سطحوں سے ایک شخص میں منتقل ہوسکتی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ کھانا تیار کرتے وقت یا کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوئیں، باتھ روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ دھوئیں اور کسی بھی گندی چیز کو ہاتھ لگانے کے بعد ہاتھ دھوئیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کووِڈ-19 نے ہمیں ہاتھ دھونے کی اہمیت بتائی ہے، غلط ہوگا۔ لوگ ہاتھ دھونے کی اہمیت سے پہلے بھی باخبر تھے۔ اس لیے متذکرہ بالا تمام صورتِ حال میں اپنے ہاتھ دھونا کبھی بھی نہ بھولیں۔

کیا کووِڈ۔19ویکسین اور فلو شاٹ ایک ہی وقت میں لگوایا جاسکتا ہے؟

ابتداء میں سی ڈی سی نے کووِڈ-19ویکسین اور فلو شاٹ کے درمیان دو ہفتے کا فرق رکھنا تجویز کیا تھا کیوں کہ وہ نئی ویکسین کے ردِعمل کو جانچ رہا تھا، تاہم اسے کوئی منفی ردِعمل نظر نہیں آیا۔ اب سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ضرورت کے مطابق کوئی بھی شخص چاہے تو دونوں ویکسین ایک ہی وقت میں لگوا سکتا ہے اور اس کا کسی بھی ویکسین کی افادیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔