• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: سردار عبدالرحمٰن ۔۔بریڈفورڈ
دادا بھائی نورو جی نے اپنے وطن کی آزادی کے لیے دن رات کام کیا لیکن اپنے وطن کو آزاد ہوتے نہ دیکھ سکے۔ ان کو برطانیہ کی ہندوستان میں تجارتی پالیسی سے اختلاف تھا۔ برطانیہ کی اشیا کی ہندوستان درآمد، برآمد پر اعتراض تھا، وہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ تجارت میں ہندوستان کو نقصان پہنچا رہا ہے، ان کو برطانیہ کی ہندوستان میں ملازمتوں کے طریقہ کار پر بھی اعتراض تھا، پڑھے لکھے مقامی لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق روزگار نہیں ملتا تھا۔ برطانیہ کے کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ دادا بھائی نورو جی مسلسل اس صورت حال کی نشاندہی کرتے رہے لیکن جب ان کی نہ سنی گئی تو دادا بھائی نورو جی کے لہجے میں تلخی آگئی، دادا بھائی نورو جی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے تنگ آکر برٹش راج کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرلیا، ان کو اس بات پر سخت دکھ تھا کہ ہندوستان میں تمام بڑی تنخواہوں والی اسامیاں انگلینڈ کے لوگوں کو دی جاتی ہیں اور مقامی ہندوستانیوں کا حق مارا جارہا ہے، یہ بڑی بڑی آمدنی اور تنخواہوں والے برطانوی لوگ پیسہ انڈیا میں کماتے تھے اور آمدنی برطانیہ میں بھیج دیتے تھے، اس وجہ سے ہندوستان کنگال ہورہا تھا، دادا بھائی نورو جی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی آئیڈیا لوجیز اور عمل میں ہم آہنگی نہیں ہے، دادا بھائی نورو جی نے برطانیہ حکومت سے سوال کیا کہ کیا وہ فرانس کے شہری نوجوانوں کو انگلستان میں بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کریں گے، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ہندوستان میں برطانوی کیسے تعینات ہوسکتے ہیں،دادا بھائی نورو جی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا پیسہ ہندوستان میں خرچ نہیں ہورہا ہے، اس روپے کے اخراج سے ہندوستان میں غربت بڑھ رہی ہے، نورو جی کے اس نظریے کو (Drein Theory) کا نام دیا گیا۔ ان کے کہنے پر1886ء میں برٹش حکومت نے ایک کمیشن بنایا، جس کا نام (Royal Commission on Indian Expenditure) تھا، نورو بھائی اس کمیشن کے ممبر تھے۔ اس کمیشن نے ہندوستان پر مالی بوجھ پر چھان بین کرکے نظرثانی کی۔دادا بھائی نورو جی نے ہائوس آف کامنز میں اپنی پہلی تقریر میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے یہ سوال کیا۔ ’’ہندوستانی لوگ برٹش راج کے سبجیکٹ ہیں یا غلام ہیں؟‘‘ وہ برٹش راج کے بارے میں کہتے تھے کہ ہندوستان میں برٹش راج قطعی طور ہندوستان کے مفاد کے برعکس ہے اور ہندوستان کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ ہندوستان کی دولت کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے اور اس دولت کو برطانیہ منتقل کررہا ہے۔ دولت کے اس اخراج سے معاشی حالت تباہ ہورہی ہے، اس بارے میں دادا بھائی نورو جی نے چھ اسباب کی نشاندہی کی۔ 1۔ بیرونی طاقت کی حکمرانی، 2۔ سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی، 3۔ برطانوی سول سروس کے اخراجات، 4۔ ایمپائر بلڈنگ کے اخراجات، 5۔ فری ٹریڈ، 6۔ روپے کا اخراج وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ برٹش حکومت کو تمام ادارے ہندوستانیوں کے حوالے کرنا چاہیے۔ ہندوستان کو خود حکومت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، انہوں نے بالواسطہ طور پر برٹش سامعین کو مخاطب کرکے ہندوستان کے مسائل پیش کیے۔دادا بھائی نورو جی برٹش راج کی اس لوٹ کھسوٹ کو (Vampireism) کا نام دیتے تھے۔ (Vampire) ایک تصوراتی دیو مالائی کردار ہے۔ یہ خیال کردار زیادہ تر ڈرائونی کہانیوں میں آتا ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے۔ (Myttical) لٹریچر میں کہ یہ قبرستانوں میں رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کا خون چوس کر واپس قبرستان میں چلا جاتا ہے۔ دادا بھائی نورو جی برٹش راج کو ہندوستان میں ’’ویمپائر‘‘ (Vampire) سے تشبیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ ہندوستان کا خون چوس رہے ہیں اور ہندوستان کی دولت کو بیدردی سے لوٹ رہے ہیں اور نتیجہ ہندوستان غربت اور افلاس میں مبتلا ہے۔باوجود اس کے کہ دادا بھائی نورو جی نے برٹش راج کے خلاف برٹش پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سخت الفاظ میں مخالفت کی، برطانیہ حکومت نے ان کو برداشت کیا اور سنا، ہائوس آف کامنز میں بولنے کے لیے مواقع مہیا کیے۔ کئی باضمیر انگریزوں نے ان کے موقف کی تائید بھی کی۔دادا بھائی نورو جی4ستمبر 1825ء ممبئی برٹش انڈیا میں پیدا ہوئے۔ ایک بہترین پرائیویٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ہمہ جہت کامیاب زندگی گزاری اور30جون1917ء میں91سال کی عمر میں فوت ہوئے، لوگ ان کو بھولے نہیں، تین ممالک نے ان کی عزت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو یاد کیا، آج بھارت میں بمبئی کی ایک سڑک کا نام ’’دادا بھائی نورو جی روڈ‘‘ سے پکارا جاتا ہے۔ دہلی کی ایک رہائشی کالونی کا نام ’’نورو جی نگر‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ پاکستان کراچی میں ایک سڑک دادا بھائی نورو جی سے منسوب کردی گئی ہے، ہندوستان میں بمبئی میں ’’فلورہ فائوٹن‘‘ کے نزدیک ان کی یاد میں ان کا مجسمہ نصب کردیا گیا ہے۔اور برطانیہ لندن میں فنز بری (Finsbury) ٹائون ہال کے باہر روز بری روڈ پر دادا بھائی نورو جی کے اعزاز میں ایک تختی نسب کردی گئی ہے۔ برٹش پارلیمنٹ میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ممبرز آف پارلیمنٹ موجود ہیں، گوکہ وہ یہاں کے شہری ہیں لیکن ان کا تعلق پیدائشی طور پر ایشیائی ہے، کیا ان کو اپنے جدی پشتی ممالک کے مفاد میں آواز نہیں اٹھانی چاہئے، کیا ان کو بھائی نورو جی کی طرح جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر، فلسطین اور تیسری دنیا کے ممالک کے مسائل پر آواز نہیں اٹھانا چاہئے۔
یورپ سے سے مزید