• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی

اسلام میں امانت و دیانت کی جس قدر اہمیت ہے، شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کا مقام ہو۔نبی کریم ﷺ کی اعلان نبوت سے قبل بھی شہرت اسی دیانت، امانت اور صداقت کی تھی۔ امانت داری ایمان کا حصہ ہے‘ جو شخص اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا، کیونکہ اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اگر میں نے کسی کا حق دبالیا یا اس کی ادائیگی میں کمی اورکو تاہی کی تو میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ یقیناً اس کا حساب لے گا اور اس دن جب کہ ہر شخص ایک ایک نیکی کا محتاج ہوگا، حق تلفی کے عوض میری نیکیاں دوسروں کو تقسیم کردی جائیں گی، پھر میری مفلسی پر وہاں کو ن رحم کرے گا؟ اس طرح کے تصورات سے اہل ایمان کا دل کانپ اٹھتا ہے اور پھر وہ خیانت یا حق تلفی کر نے سے باز آجاتا ہے، لیکن جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو یا ماحول اورحالات نے ایمان کی روشنی سلب کر لی ہو تو خیانت کر نے میں ایسے شخص کو کوئی تردد نہیں ہوتا، اسی لیے رسول اکرم ﷺنے امانت داری کو ایمان کی علامت اور پہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’جس میں امانت داری نہیں، اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدے کی پابندی نہیں، اس میں دین نہیں‘‘۔‘(سنن بیہقی)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعدد مقامات پر امانت داری کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’تو جو امین بنایا گیا، ا سے چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے‘‘۔(سورۂ بقرہ)اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امانت داری کو تقویٰ سے جوڑ دیا ہے یعنی جسے موت کے بعد کی زندگی حساب وکتاب اورعدالت الٰہی پر یقین ہو جس کے دل میں خوفِ خدا اوراس کی گرفت کا احساس ہو، اسے چاہیے کہ امانت میں خیانت نہ کرے، جس کا جو حق ہے، پورا پورا ادا کردے، اس لیے کہ اس دنیا میں خیانت کر نے والا قیامت کے دن چین وسکون سے نہیں رہ سکتا، وہاں ایک ایک کا حق ادا کر نا ہوگا اور بڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا، لیکن جسے آخرت پر یقین نہیں، وہ جوچاہے کرے دنیا میں چند روزہ زندگی کے بعد آخر اپنے کیے ہوئے پر افسوس ہوگا اور وہ بڑے خسارے میں ہوگا۔ رسول اکرمﷺ نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زمانہ جیسے جیسے قیامت سے قریب ہوگا ،ایمانی قوت کم ہوتی چلی جائے گی ۔اس کے نتیجے میں امانت داری بھی اٹھ جائے گی اورحال یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادیاں ہوں گی، لیکن امانت دار آدمی پوری آبادی میں ایک آدھ بڑی مشکل سے دستیاب ہوگا اوروہ بھی حقیقت میں امین نہ ہوگا۔ لوگ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانت دار شخص ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ کسی آدمی کی تعریفیں ہوں گی کہ کیسا عقل مند،کیسا خوش مزاج اورکیسا بہادر ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان داری نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن)

آج کے حالات بھی کچھ اسی طرح ہیں، امانت داری کی اس قدر اہمیت کے باوجود معاشرے میں اسے کوئی وزن نہیں دیا جاتا، اچھے اچھے لوگ بھی جو عرف میں دین دار سمجھے جاتے ہیں ،وہ بھی امانت اور حق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے، انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتاکہ امانت کی حفاظت اور اس کا مکمل طور پر ادا کرنا دینی وشرعی فریضہ ہے۔

فتح مکہ کے موقع پر خانۂ کعبہ کی کنجی جب عثمان بن طلحہ بن عبد الدار شیبی کو دینے اوران کی امانت انہیں واپس کر نے کی تاکید کی گئی تو امانت کو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال کیاگیا۔ ارشاد باری ہے’’اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو‘‘۔(سورۃ النساء)

قابل غور بات یہ ہے کہ کنجی کو ئی اہم مال نہیں، بلکہ یہ خانۂ کعبہ کی خدمت کی نشانی ہے جس کا تعلق مال سے نہیں، عہد ے سے ہے، پھر بھی اسے امانت سے تعبیر کیا گیا اورپھر جمع کا صیغہ استعمال کر کے اسے عام حکم بنادیا گیا۔ معلوم ہوا کہ عہدے ،مراتب اور ذمہ دریاں بھی امانت ہیں، لیکن عوام الناس تو کجا خواص بھی امانت و دیانت کا تصور صرف مال تک محدود رکھتے ہیں ،چناںچہ وہ ان امانتوں میں خیانت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اورانہیں کسی معصیت کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ 

حالاںکہ شریعت کی نظر میں ان چیزوں میں بھی خیانت قبیح اورموجب گناہ عمل ہے ۔نااہلوں کو عہدے اور مناصب سپرد کردینا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔ جس عہدہ اورمنصب کا جواہل ہو ،اسی کو وہ عہدہ سپرد کیا جائے،اس کے لیے سب سے پہلے غور کر نا چاہیے کہ اس کے ماتحتوں میں کون ایسا شخص ہے، جس میں پیش نظر ملازمت یاعہدے کی مکمل شرطیں پائی جارہی ہیں، ایسا کوئی شخص مل جائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ،لہٰذا کسی پس وپیش کے بغیر وہ عہدہ اورملازمت اسے سپرد کریا جائے اور اگر مطلوب صلاحیت کا حامل کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ لائق وفائق ہو ،اسے منتخب کیا جائے، غرض یہ کہ حکومت کے ماتحت جتنے بھی عہد ے اورمناصب ہوتے ہیں، وہ امانت ہیں اورارباب حکومت اس کے امین ہیں، اگر حکومت نے اپنے ماتحت کسی شخص کو اس کا مجاز بنایا ہے تو وہ بھی امین ہے‘ان سب کو چاہیے کہ عہدے اور منصب پوری دیانت داری سے تقسیم کریں‘ صلاحیت اورشرائط کو اس کے لیے معیار بنایا جائے نہ کہ قرابت اورتعلق کو۔ اگر کسی شخص کو ذاتی تعلق یا سفارش کی بنیاد پر یا رشوت لے کر کوئی عہدہ اور منصب سپرد کیا جاتا ہے تو یہ خیانت ہے اور تمام ذمہ دار اس خیانت کے مرتکب ہوں گے۔ ایک موقع پر رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپر د کی گئی ہو، پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کے پیش نظر دے دیا، اس پر اللہ کی لعنت ہے ،نہ اس کا فرض مقبول ہے، نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جا ئے۔ (جمع الفوائد:ص: ۵۳۳)

نااہلوں کو عہدے سپر د کر نے سے گناہ تو ہو تا ہی ہے خود دنیوی اعتبار سے بھی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس سے مستحقین اورباصلاحیت افراد کے بجائے ناکارہ اورنااہل لوگ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ان میں کام کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے پورا شعبہ بگڑ جاتا ہے اورپھر عوام کے لیے یہ اذیت رسانی کا باعث ہوتا ہے، ملکی حالات کا جائز ہ لیں تو معلوم ہو گا کہ نیچے سے اوپر تک تمام شعبوں میں کہیں رشوت اور سفارش اورکہیں تعلق اور قرابت کی بنیاد پر عہدے اور ملازمت تقسیم کی جارہی ہیں، تقریباً تمام شعبوں کا یہی حال ہے، اس لیے حکومت کا نظام فساد کا شکار ہوگیا ہے اورآج ہر شخص اپنی جگہ بے چین ومضطر ب نظر آرہا ہے۔

رسول اکرم ﷺنے اسے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ’’جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی جو ان کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔(صحیح بخاری:۹۵)یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اورمنصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی بچا نہیں سکتا، اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو، اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت بھی شامل ہے۔

اس کا تعلق صرف حکومتی عہدوں سے ہی نہیں ہے، بلکہ نجی کمپنیاں۔دعوتی و اصلاحی انجمنیں اورعوامی فلاحی اداروں سے بھی ہے جو ان اداروں اورکمپنیوں کو مفید اور بافیض بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ جس کام کے جو لائق اوراہل ہے، اسے وہیں رکھا جائے،کسی بھی وجہ سے اگر کم تر صلاحیت والے افراد کو فوقیت دی جائے تو ادارہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، اقرباء پروری کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔سیدنا عمر فاروق ؓنے اپنے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو ان کی جلالت علمی اور فضیلت کے باوجود نا صرف اپنا جانشین نامزد نہیں کیا ،بلکہ اس کمیٹی تک میں شامل نہیں فرمایا جس نے آئندہ کے لئے خلیفہ کا چناؤ کرانا تھا۔ مسلمانوں کے امور (وامرھم شوریٰ بینھم)کے حکم کے تحت باہمی مشاورت سے طے ہوتے ہیں۔

یہ امر انتہائی افسوس کا باعث ہے کہ آج مسلمانوں کے ملک میں بھی امانت و دیانت عنقاء ومفقود ہوچکی ہے کوئی کسی پر اعتماد و اعتبار کرنے کو تیار و آمادہ نہیں۔ ہم سب کو مل کر اس صورت حال کا تدارک کرنا ہوگا اور سب سے پہلے خود امانت و دیانت میں ہر قسم کے لیت ولعل، سستی و کوتاہی کی پالیسی کو ترک کرکے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہوگی۔

اقراء سے مزید