مولانا عبدالمتین
موجودہ زمانے سے اس اُصول کا بہت گہرا تعلق ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے جس میں ہر طرف سے خبریں آرہی ہیں، ہر طرف سے معلومات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تو ایسے موقع پر بڑی نزاکت کے ساتھ ان چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
لہٰذا سب سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ جو شخص بات کررہا ہے، وہ خود کیسا ہے؟ اس کے اپنے اندر کتنی سچائی ہے؟ اس کا کردار واخلاق کیسا ہے؟ کہیں وہ کوئی مشکوک یا کمزور کردار کا مالک تو نہیں؟ ایسا تو نہیں کہ وہ جہاں کہیں سے جیسی تیسی ادھوری بات سن لیتا ہے تو فوراً آگے پھیلادیتا ہے؟
عام طور پر آپس کے تعلقات میں جو رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ ہر سنی سنائی بات پر فوری یقین کرنا ہے، مثلاً کوئی شخص آئے اور کہے : ’’آپ کو پتا ہے فلاں شخص آپ کے متعلق اس طرح کہہ رہا تھا؟‘‘ اس جملے سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ ایک مخلص دوست کی پروا کی جارہی ہے، لیکن ذرا سا غور کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس بات کے پہنچانے میں اس شخص کے بہت سے اپنے مفادات ہوسکتے ہیں، ہوسکتا ہے اسے اپنا کوئی کام نکالنا ہو اور جھوٹی ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہا ہو اور اپنے مقصد کی خاطر جھوٹ کہہ رہا ہو۔
یہاں تک کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات بہت چھوٹی سی ہوتی ہے، بتانے والا اس چھوٹی بات کو اپنے مقصد کی خاطر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور من پسند نتائج نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے اور یہ باتوں باتوں میں ایسا بھی کہہ دیتا ہے: ’’میں آپ کو دوستی یاری میں یہ سب بتا تو رہا ہوں، لیکن خیال رکھنا میرا نام نہ آئے۔‘‘
گویا یہ آگ بھی جلاتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میرا نام نہ آئے، تاکہ بات اگر بگڑجائے تو مجھ پر حرف نہ آئے، بلکہ یہ اکیلے ہی نمٹے، بالآخر یہ صاحب بعد میں اَنجان بن کر لاعلمی کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر ہم جذبات میں آکر اس کی بات کا یقین کر لیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ یہ میرے ساتھ مخلص ہے، میرے حق میں بات کر رہا ہے، میرا ہمدرد ہے، لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ معاملہ ریت کے ذرّے برابر تھا، جسے پہاڑ بناکر میرے سامنے پیش کیا گیا، ٹھیک ایسے ہی جیسے غبارے ہوتے ہیں جو اپنے ظاہر میں بہت موٹے تازے، چمکدار اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن ایک سوئی کی چبھن سے بے حیثیت ہوجاتے ہیں، اسی طرح کچھ معاملات بہت بڑے اور خطرناک معلوم ہوتے ہیں، لیکن ایک تحقیق اور تفتیش کا عمل ساری قلعی کھول دیتا ہے کہ کیا کہا جارہا تھا اور حقیقت کیا ہے؟
شیخ سعدی ؒ نے بڑی عجیب بات ذکر فرمائی کہ: ’’جو شخص آپ کے پاس آکر کسی کی غیبت کرتا ہے، کسی کا برا تذکرہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کے پاس جاکر آپ کا بھی برا تذکرہ کرتا ہوگا، کیونکہ اس کے اندر ایسا مرض موجود ہے، جسے یہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا۔آپ کو بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ تو میرے ساتھ ہے، لیکن مجلس برخاست ہوتے ہی وہ کسی اور کے ساتھ ہوجاتا ہے اور وہاں پر آپ کی ذات کو موضوع بناتا ہے۔
اللہ ربّ العزت نے ایسے لوگوں سے متعلق یہ حکم بیان فرمایا کہ اگر کبھی ایسا ہوجائے کہ آپ کے پاس کوئی آدمی آجائے اور کوئی بات بتائے تو فوراً اس کی بات پر یقین مت کرنا، بلکہ پہلے خوب تحقیق سے کام لینا اور بات کو مستند ذرائع سے سمجھنے کی کوشش کرنا۔ تحقیق سے بات معلوم ہوجائے تو ٹھیک، وگرنہ جلدبازی میں کوئی قدم مت اُٹھانا، کیونکہ بغیر تحقیق کے کوئی بھی قدم اُٹھانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہ کہنا پڑے : ’’کاش! میں فلاں کی باتوں میں نہ آتا‘‘ ، ’’پہلے بات کی تصدیق کرلیتا‘‘، وغیرہ۔
اسی طرح گھریلو زندگی میں جہاں بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں‘ ظاہر ہے جب کچھ لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں تو انسانی طبیعت کے مختلف ہونے کی وجہ سے کافی معاملات پیش آسکتے ہیں، تبھی علماء فرماتے ہیں: گھریلو زندگی احسان کے اصول کو اپنائے بغیر نہیں گزاری جاسکتی، لہٰذا اگر کوئی شخص ہر چھوٹی موٹی بات کا بدلہ لینا شروع کردے، ہر وقت گھر والوں کے رویوں کا، باتوں کا گلہ کرنے لگے تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور سکون ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پاتا، مثلاً گھر میں زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بات نکل جاتی ہے، لیکن سننے والا اس بات کو بنا سنوار کر آگے بتادیتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ تو آپ کے بارے میں ایسا کچھ کہہ رہا تھا، فلاں کے سامنے آپ کا نام آیا تو اس نے اس طرح کا منہ بنایا، ناگواری دکھائی، آپ کی یہ چیز اُٹھا کر لے گیا، آپ کی کمائی یا کھانے پینے پر ایسا ایسا کہا گیا، وغیرہ، وغیرہ۔
ایسے تمام معاملات کی صورت میں ایک اُصول یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو مجھے یہ سب بتا رہا ہے، وہ خود کیسا ہے؟ اس کی بات میں کتنا وزن ہے؟ اس کی بات کا یقین کیا جائے یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ہر جگہ یہی کرتا ہے، جیسے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر کسی کے پاس جا کر کوئی نہ کوئی ایسی گرما گرم بات ضرور کر دیتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا، فلاں نے یہ کیا، فلاں علاقے میں یہ ہوا۔
ایسے لوگ نیوز رپورٹر کی طرح ہر ایک کے پاس خبریں پہنچاتے رہتے ہیں جو درحقیقت سنجیدگی سے سننے کے لائق ہی نہیں ہیں، نہ ہی اعتبار کے قابل ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ ہے : ’’انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ وہ جو بھی سنے، بغیر تحقیق کے آگے بیان کردے۔‘‘ (صحیح مسلم) یعنی ایسا شخص جس کی عادت ہے کہ سنتے ہی اُگل دیتا ہے، سنتے ہی سب کو سنا دینا، یہ عادت ہی اس کے جھوٹا ہونے کی نشانی ہے۔
آج کل سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ کوئی کسی کے پاس کوئی حدیث بھیجتا ہے تو وہ فوراً سے یقین کرلیتا ہے اور دوسروں کو فارورڈ کردیتا ہے، جبکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس میں حوالہ بھی درج ہے یا نہیں؟ سند کے اعتبار سے یہ حدیث کس درجے کی ہے؟
ایسا نہ ہو کہ کسی بزرگ کا قول ہو اور اسے حدیث بنادیا گیا ہو، ایسے کئی اقوال سوشل میڈیا پرآتے رہتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح قرآن کی کسی آیت کا ترجمہ ہو تو پہلے یہ تصدیق کرانی چاہیے کہ واقعی اس طرح کی کوئی آیت ہے بھی یا نہیں؟ ترجمہ درست ہے یا غلط؟
اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ ہر بات کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے منسوب کر دینا، کسی صحابیؓ وغیرہ سے منسوب کر دینا، یہ رویہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔آپ ﷺ کی واضح حدیث ہے: ’’کسی نے مجھ سے منسوب کرکے کوئی ایسی بات کہی (کہ آپ ﷺ ایسا فرماتے ہیں) اور میں نے ایسا نہ کہا ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔‘‘ (صحیح مسلم)
ایک مرتبہ میرے اپنے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک ساتھی نے میسج بھیجا جس میں سورۂ ملک کا ترجمہ لکھا ہوا تھا، جو بالکل غلط تھا، یہاں تک کہ اس میں سورۂ ملک کی کسی ایک آیت کا بھی ترجمہ نہیں تھا، لیکن عنوان یہی لگایا ہوا تھا۔
ایک صاحب نے واقعہ سنایا: کچھ برس پہلے انہوں نے انٹرنیٹ پر بہت سی دینی کتابیں سرچ کرنا شروع کیں تو ایک ویب سائٹ بنی ہوئی تھی، انہیں لگا کہ اس میں بہت سی اچھی کتابیں ہیں اور وہ خوب مطالعہ کرنے لگے، مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ پوری ویب سائٹ ہی منکرین ختم نبوت، قادیانیوں کی ہے جو آج بھی موجود ہے، جسے اگر کوئی عام مسلمان بغیر تحقیق کے پڑھنا شروع کرے تو ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لہٰذا ایسے معاملے میں علماء اور اہلِ علم سے تحقیق کرنی چاہیے کہ یہ صحیح بھی ہے یا نہیں، یہ جو مسئلہ سننے کو ملا ہے یہ واقعی دین کا مسئلہ ہے یا نہیں؟
اے آئی کے ذریعے معلومات کے حاصل کرنے کا جو ذریعہ آج کل مروج ہوچکا ہے، اس کی معلومات در حقیقت ادھوری ہیں ، ان پر فوری یقین نہیں کیا جاسکتا۔ اے آئی‘ عقیدہ، عمل، فنِ تحقیق اور سند و استناد سے ماورا ہوکر رطب و یابس سے مستفاد صرف مواد پیش کرتا ہے، لہٰذا اگر مواد کوئی بہت بڑا جھوٹا اور من گھڑت شخص پیش کررہا ہے، تب بھی یہ اس مواد کو فقط مواد کی نظر سے دیکھے گا اور اگر وہ مواد کسی بہت بڑے سچے اور اعلیٰ پائے کے محقق کا ہو، لیکن بدقسمتی سے وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں دستیاب نہ ہو تو اے آئی اس مواد کو نظر انداز کردے گا۔ مواد کی بے ہنگم بھرمار بالکل بھی سودمند نہیں، اگر اس کی سند اور سچائی مشکوک ہوجائے۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اے آئی کی فراہم کردہ تفصیلات کس قدر غلط مواد کی طرف رہنمائی کرسکتی ہیں اور اضافہ یہ کہ وہ کسی قادیانی کے پیش کردہ مواد کو بھی اسلامی مواد کا عنوان دے سکتا ہے، کسی گمراہ شخص کی رائے کو بھی تفسیر، حدیث، فقہ جیسے اعلیٰ مضامین کی تفہیم کے لیے پیش کرسکتا ہے۔
جہاں تک اے آئی ویڈیوز کا تعلق ہے، وہ بہت سے لوگوں کے لیے جھانسے میں آنے کا ایک عام ذریعہ بن چکا ہے، ہمارے ہاں عام طور پر کوئی چیز اگر ویڈیو کی شکل میں پیش کی جاتی ہے تو اسے مشاہدے کی قوت کی وجہ سے بڑی دلیل مانا جاتا ہے اور اسے آنکھوں دیکھا حال قرار دے کر سندِ قبول دے دی جاتی ہے، لیکن اے آئی نے اس غلط فہمی سے نکلنے کے بہت سارے اسباب جمع کردیے ہیں، لہٰذا ایسی ویڈیوز اب کافی تعداد میں موجود ہیں جنہیں شروع میں حقیقت سمجھا جارہا تھا، لیکن کچھ عرصہ بعد پتا چلا کہ سب مصنوعی ہیں۔
لہٰذا اب ویڈیو سے بھی کسی بات کی سچائی اور واقعیت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہو۔ ایسے حالات میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اے آئی کا اندھا مقلد بن جانا اور وہ جیسی تیسی معلومات فراہم کرے اُسے فوراً حرفِ آخر سمجھنا، یہ بڑی نادانی کا عمل ہے، لہٰذا خبر کی تحقیق یہاں بھی اسی درجے میں لازم ہے جہاں دوسرے اُمور میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔