تفہیم المسائل
سوال: محمد عبد اللہ 13رمضان المبارک کو عمرہ کے لیے گیا، رہائش مسجد عائشہ کے مقابل تھی، پہلے عمرہ کا حلق حدود حرم مسجد شجر کے پاس کرایا، دوسرا عمرہ ادا کرنے کے لیے رہائش (مسجد عائشہ) سے احرام باندھا، عمرہ ادا کرنے کے بعد رہائش پر آکر حلق کرایا، اس طرح کئی عمرے کیے۔
اب ایک دوست کا کہنا ہے کہ آپ کے ذمے دَم لازم آتا ہے کیونکہ حلق حدود حرم سے باہر ہوئے ہیں۔ صورت مسئولہ میں سائل کے لیے کیا حکم ہے، مجھے (اپنی رہائش مسجد عائشہ کے پاس) حلق کی تعداد بھی یاد نہیں کہ کتنی مرتبہ کروایا ہے، (محمد عبد اللہ ننکانہ صاحب، پنجاب)
جواب: عمرے کی ادائیگی میں حلق یا قصر (ایک چوتھائی سر کے بال کم ازکم ایک پور کے برابر تراشنا) واجب ہے، عمرے میں حلق یا تقصیر کے لیے وقت کی کوئی تخصیص نہیں ہے، جیسا کہ حج میں حلق یا قصر فوری واجب ہوتاہے ،عمرے میں حلق یا قصر فوری واجب نہیں ہے۔
علامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر الفرغانی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’عمرہ میں حلق اور تقصیر کے لیے بالاتفاق کوئی خاص وقت مُقرر نہیں ہے، پس اگر عمرہ کرنے والاحلق یا قصر کرائے بغیر (حدودِ) حرم سے باہر نکل جائے اور پھر دوبارہ آکر حلق یا قصر کرالے تو اُس پر دَم لازم نہیں ہے، تمام اَئمہ کا اِس پر اتفاق ہے،(ہدایہ،جلد2،ص:289)‘‘۔
اگر حدودِ حرم سے باہر حلق یا قصر کیا تو اُس کے ذمے دَم لازم ہوگا اور یہ دَم وہ حرم کی زمین پر ہی دے گا، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ ’’ہدایہ‘‘ میں ہے : جس نے عمرہ کیا اور (حلق کیے بغیر ) حرم سے چلاگیا اور پھر قصر کیا تو طرفین (امام اعظم وامام محمد رحمہا اللہ) کے نزدیک اُس پر دَم لازم ہے، امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں: اُس پر کچھ نہیں اور اگر اُس نے قصرنہ کیا اور حرم میں آگیا، پھر قصر کیا تو بالا تفاق اُس پر دَم لازم نہیں ہے ، (حاشیہ ابن عابدین شامی، جلد7، ص:246-247)‘‘۔
میقات کے اندر اور حرم سے باہر کے علاقے کو ’’حِلّ‘‘ کہا جاتا ہے، مسجدِ عائشہ مقامِ ’’حِل ّ‘‘میں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام کی نشان دہی پر بیت اللہ کے چاروں اطراف حدودِ حرم کی تحدید فرمائی تھی، پھر فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے تمیم بن اسد کو حدودِ حرم کی علامات کی تجدید کا حکم فرمایا، پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے ادوار میں مقرر کردہ حدود کی علامات کی تجدید فرمائی، یہ حد بندی توقیفی ہے، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ترجمہ:’’حرم (مکہ) کی حد مدینہ منورہ کی جانب سے مقام ِتنعیم (مسجدِ عائشہ) تقریباً تین میل (بعض کُتبِ مالکیہ میں یہ حد چار اور پانچ میل تک بتائی ہے)، تنعیم کا آغاز مکہ کی سمت سے’’ بیوت السقیا ‘‘سے ہوتا ہے، جسے نِفار کے گھر کہتے ہیں اور اب مسجد عائشہ کے نام سے جانا جاتا ہے، کعبہ مشرفہ اور مقامِ تنعیم کے درمیان حرم ہے اور تنعیم حِلّ ہے۔
یمن کی جانب سے اضاۃُلبن کے مقام تک تقریباً سات میل، جدہ کی سمت سے دس میل کے فاصلہ پر اعشاش کے سرے سے حدیبیہ کے آخر تک حرم ہے۔ جِعِرَّانہ کی سمت سے شُعَب عبداللہ بن خالد کی طرف نو میل۔ عراق کی سمت سے یہ کوہ المقطّع کے ایک موڑ پر سات میل کے فاصلے پر ہے اور مالکی کتب میں اس کا ذکر آٹھ میل ہے۔ طائف کی سمت سے، عرفات پر بطن نمرہ سے سات میل دور جعرانہ کے کنارے پر،(جلد17،ص:185-86)‘‘۔
خلاصہ یہ ہے: 1۔بیت اللہ سے تنعیم( مسجدِ عائشہ )تک حرم ہے ۔2۔یمن کی سَمت : بیت اللہ سے اضاۃ لبن تک تقریباًسات میل ہے ۔ 3۔جدہ کی سَمت : اعشاش کے سرے سے حدیبیہ تک تقریباً دس میل ۔4۔ جِعِرّانہ کی سَمت سے شُعب عبداللہ بن خالد تک9میل ۔5۔ عراق کی سَمت : المقطّع پہاڑ تک سات میل ۔6۔ طائف کی سَمت: قرن المنازل تک سات میل ہے۔
نوٹ: میل سے مراد میلِ شرعی ہے، جو تقریباً دوہزار گز کا ہوتا ہے۔ ان تمام مقامات کا اندورنی علاقہ حرم کہلاتا ہے اور ان مقامات سے ہری گھاس، پودے یا درخت کاٹنا حرام ہے، اس اندرونی حصہ میں شکار کرنا یا پالتو جانوروں کے علاوہ جانور مارنا بھی حرام ہے، مگر اگر وہ جانور حملہ کریں، تو اپنے دفاع میں مار سکتے ہیں۔
حدودِ حرم سے باہر حلق یا قصر کرانے پر دَم لازم ہوتا ہے، آپ نے چونکہ حرم میں ہی حلق کرایا، تو آپ پر کوئی دَم لازم نہیں ہوگا، تاخیر پر بھی کوئی دَم نہیں ہے، کیونکہ عمرے کے حلق یا قصر کے لیے کسی خاص وقت کی تحدید نہیں ہے، جیسا کہ حج میں حلق یا قصر فوری واجب ہوتا ہے، عمرہ میں فوری واجب نہیں ہوتا، لیکن بہتر ہے کہ فوری حلق یا قصر کرالے تاکہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجائے۔(واللہ اعلم بالصواب)
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com