• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امید کی کرن… گولن موومنٹ(آخری قسط)...چوراہا ۔۔۔۔۔۔ حسن نثار

خود پر یہ الزام سن سن کر کان پک گئے تھے کہ....... ’’مایوسی پھیلاتا ہے‘‘ میں راسخ تھا کہ جھوٹ پھیلانے سے بہتر ہے کہ’’مایوسی‘‘ پھیلائی جائے کیونکہ مجھ جیسوں کا رول تو کیمرے،ایکس رے یا ایم آر آئی مشین جیسا ہے، اگر کیمرہ غلاظت کے ڈھیر کی تصویر بنائے اور تصویر میں غلاظت کا انبار نظر آئے تو کیمرے کا کیا قصور؟ اسی طرح اگر ایکس رے مشین یہ دیکھائے کہ بازو دو جگہ اور ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے تو یہ کہنا کہ مشین ہی منحوس ہے یا مایوسی پھیلا رہی ہے....... حماقت کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایسا سوچنے والے مریض کی ا پنی حالت ہی بد سے بدتر ہوگی....... مشین کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ سچ یہ کہ مجھے پاکستان کیا، پورے عالم اسلام سے ہی کوئی خیر کی خبر سنائی نہ دیتی تھی لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ جب سیرت النبیؐ کے صدقے فتح اللہ گولن اور پھر ان کی بپا کی ہوئی تحریک سے تعارف ہوا تو میں چونک گیا اور پھر جیسے گہری پیاس پانی کی طرف کھنچتی چلی جاتی ہے، میں بھی خوش گوار تجسس کے ساتھ اس بارے زیادہ سے زیادہ جاننے سمجھنے میں مصروف ہوگیا۔ ترکی اور ترکوں سے محبت یوں بھی مجھے ورثہ میں ملی تھی۔ خلافت عثمانیہ سے لے کر غازی مصطفیٰ کمال تک پرمستند ترین کتاب’’گرے وولف‘‘ والد محترم کی فیورٹ ترین ریڈنگ تھی۔ معجزہ یہ ہوا کہ ترکی جاکر اس عظیم تحریک کے کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، تحریک کے بانی کا کردار اور تحریک کی فلاسفی اور اس کا ’’مرکزی خیال‘‘ سمجھنے کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے مسائل کا حل مل گیا ہو۔
عظمت رفتہ کے خواب، غلبہ اور نشاۃ ثانیہ جیسے ’’آسیبوں‘‘ نے مجھے بھی گھیرا ہوا ہے۔ کمزور لمحات میں میں بھی’’دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے‘‘ جیسے مصرعے گنگناتا ہوں لیکن اندر ہی اندر پوری طرح قائل ہوں کہ عالم اسلام اگر اپنے پائوں پر ہی سیدھا کھڑا ہوجائے اور مہذب دنیا کے ساتھ صحیح معنوں میں برابری کی سطح پر ہی آجائے تو بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ غلبہ پانا تو دور کی بات ،ہم اگر غیروں کے غلبہ سے نجات بھی حاصل کرسکیں تو یہ قدرت کا بہت بڑا انعام ہوگا لیکن اس عظیم ہدف کے حصول کے لئے حکمت عملی فتح اللہ گولن جیسے باعمل دانشور کی ہی چلے گی۔ بم، بارود اور خود کش جیکٹیں ہی مسائل کا حل ہوتا تو میں اس’’سکول آف تھاٹ‘‘ کی صف اول میں ہوتا کہ مرجانا بہت آسان لیکن باوقار طریقہ سے زندہ رہنا بہت مشکل ہے اور یہی اصل چیلنج بھی ہے۔ موت کے ان گنت ’’شارٹ کٹس‘‘ ہوتے ہیں، آبرومندانہ زندگی کے لئے کوئی شارٹ کٹ ایجاد ہوا نہ ہوگا۔
اب پھر واپس چلتے ہیں گزشتہ قسط کی آخری سطروں کی طرف کہ’’بہت سے بلند پایہ لوگ نئے افکار و نظریات کے حامل ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں جبکہ فتح اللہ گولن کی کہانی بہت مختلف ہے‘‘۔
گولن ماڈل یا اس سے ملتا جلتا ماڈل اپنائے آزمائے بغیر مسلمانوں کے لئے منزل مراد کا حصول کم ا ز کم مجھے تو ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ میانہ روی اختیار کرکے مومن اپنی کھوئی ہوئی میراث یعنی علم کے لئے ا ٓگے نہیں آتے تو پیچھے رہ جائیں گے اور یہ خلیج بڑھتے بڑھتے اتنی وسیع ہوجائے گی کہ اسے پاٹنا بھی ممکن نہ رہے گا۔ پاتال میں رینگتے ہوئے لوگوں کا بھلا مریخ کے مکینوں سے کیا مقابلہ؟
عالم اسلام کی نام نہاد اشرافیہ کی فیورٹ بک’’چیک بک‘‘ ہے کہ دنیا کے دولت مند ترین 20حکمرانوں میں سے 10مسلمان ہیں جبکہ فتح اللہ گولن کی تحریر کردہ کتابوں کی تعداد60سے زیادہ ہے جن کا35زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ان کی تقاریر، مواعظ ،بیانات اور مجالس پر مشتمل ہزاروں کی تعداد میں آڈیو اور ویڈیو کیسٹس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ کاش، اس تحریک کے کرتا دھرتا ان کے اردو ترجمے پاکستانی عوام کے لئے بھی مہیا کرسکیں کہ شاید مایوسی کے اندھیروں میں ہاتھ پائوں مارتے ہوئے 19کروڑ پاکستانیوں کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ ویسے چند درج ذیل کتابوں کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا لیکن شاید صحیح طور پر ان کی مارکٹنگ نہیں ہوسکی۔
’’تقدیر.......کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘
’’المیزان یا چراغ راہ‘‘
’’روح جہاد اور اس کی حقیقت‘‘
’’اسالیب دعوت اور مبلغ کے اوصاف‘‘
’’اضوأقرآن درفلک و جدان‘‘
’’تخلیق کی حقیقت اور نظریۂ ارتقاء‘‘
’’نور سرمدی، فخر انسانیت حضرت محمدؐ(دو جلدیں)‘‘
’’روح کی محل کی تعمیر‘‘
’’ملاحظات فاتحہ‘‘
’’جنت گمشدہ کی طرف‘‘
اسلام کے بنیادی ارکان‘‘
’’اسلام اور دور حاضر‘‘
’’روح کے نغمے اور دل کے غم‘‘
تراجم میں ذرا بوجھل زبان استعمال کی گئی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ سہل اور عوامی زبان میں ترجمہ ہوتا۔
آپ چاہیں تو مندرجہ ذیل ویب سائٹس پر فتح اللہ گولن کے بارے میں دیگر معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
انگلش http://:fgulen.com
اردو http://pk.fgulen.com
’’شاید کسی کے دل میں اترجائے مری بات‘‘
’’ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے‘‘
اور سب سے بڑھ کر یہ.......
’’ہم نےلو دل جلا کے سرراہ رکھ دیا‘‘
تازہ ترین