بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان اور ان کے پنویل فارم ہاؤس کے پڑوسی کیتن ککڑ کے درمیان برسوں سے جاری تنازع میں ممبئی ہائی کورٹ نے سخت رُخ اختیار کر لیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ سوشل میڈیا تک رسائی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی بھی کسی سیلبریٹی یا عام انسان کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرے۔
عدالت نے پڑوسی کو سلمان خان کے خلاف تمام پوسٹس فوری حذف کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ہائی کورٹ کے سنگل جج بینچ نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شہری کو کوئی شکایت ہے تو وہ متعلقہ حکام کے پاس جانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کیوں اپلوڈ کرتا ہے؟
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر یہ متنازع مواد کسی تیسرے فریق نے اپلوڈ کیا ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اسے ہٹانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
دوسری طرف پڑوسی کیتن ککڑ کا دعویٰ ہے کہ سلمان خان نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی اور ان کی جائیداد کا راستہ روکا، جس پر حکام نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
خیال رہے کہ یہ پورا معاملہ 2022 میں اس وقت شروع ہوا جب سلمان خان نے پڑوسی کے خلاف یوٹیوب ویڈیوز اور ٹوئٹس پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔
سلمان خان کے وکیل کے مطابق پڑوسی نے اداکار پر انتہائی لرزہ خیز اور سنگین الزامات لگائے تھے۔