اسلام آباد (تجزیاتی رپورٹ/حنیف خالد) چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ۔V کا تعمیراتی کام CNNC (چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن) CNOS (چائنا نیوکلیئر اوورسیز سروسز) کو سونپ دیا گیا ہے ، حکومتی عہدیدار کے مطابق فروری 2023 میں جب وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کی ایک پروقار بین الاقوامی تقریب میں K-3 پاور پلانٹ کا کراچی میں افتتاح کیا تھا اس وقت عوامی جمہوریہ چین جو پاکستان کا آزمودہ پڑوسی اور سٹرٹیجک دوست ہے کے وفد کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان کی کابینہ اور چیئرمین پاکستان اٹیمی توانائی کمیشن نے درپردہ ملاقاتوں میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ فائیو کے بارے میں تفصیلی اور گہرائی میں جاکر مذاکرات کئے تھے یہ طے پایا کہ بین الاقوامی سطح پر افراط زر میں جو اضافہ ہوا اس کے نتیجے میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ فائیو کی لاگت چار ارب اسی کروڑ ڈالر ہے کیونکہ 2017 میں جب اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے چین کے ساتھ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ فائیو کی جس لاگت پر اتفاق کیا وہ آج چار ارب اسی کروڑ ڈالر ہے مگر فروری 2023 میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی کاروباری صلاحیتیں بروئے کار لاکر چینی حکومت سے کہا کہ آپ ہمارے دوست ہمسایہ ملک ہیں آپ ہم سے خصوصی رعایت کریں ڈسکاؤنٹ دیں جو 30 ارب روپے کے لگ بھگ چین نے پاکستان کو دیکر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی لاگت چار ارب اسی کروڑ ڈالر سے کم کرکے تین ارب اڑتالیس کروڑ ڈالر کر دی ہے جس کا ذکر وزیراعظم شہباز شریف نے 20 جون کو دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ فائیو کے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں کیا۔چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والا ایٹمی پلانٹ ہوگا ۔