تائی پے (اے ایف پی) تائیوان نے ہفتے کے روز خود کو ایک “خودمختار اور آزاد” ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوامی جمہوریہ چین کے ماتحت نہیں، یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس انتباہ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے تائیوان کو باقاعدہ آزادی کے اعلان سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے جمعہ کو بیجنگ کا سرکاری دورہ مکمل کیا، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان پر زور دیا کہ امریکہ تائیوان کی حمایت نہ کریں۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے اپنے ساتھ ملانے کی دھمکی دے چکا ہے۔تائیوان، چین کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے امریکی سکیورٹی تعاون پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ “تائیوان ایک خودمختار، آزاد اور جمہوری ریاست ہے اور عوامی جمہوریہ چین کے تابع نہیں۔”وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے اسلحہ فروخت کرنا واشنگٹن کی تائیوان کے دفاع سے متعلق سکیورٹی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ تائیوان “چین پر منحصر” ہے اور امریکہ کے لیے ایک “بہت اچھا مذاکراتی کارڈ” بھی ہے۔فوکس نیوز کے پروگرام “اسپیشل رپورٹ ود بریٹ بیئر” میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:“میں نہیں چاہتا کہ کوئی فریق آزادی کا اعلان کرے۔ ہم 9,500 میل دور جا کر جنگ نہیں لڑنا چاہتے۔”انہوں نے مزید کہا: “میں چاہتا ہوں کہ تائیوان بھی ٹھنڈا رہے اور چین بھی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو میرا خیال ہے کہ چین بھی مطمئن رہے گا۔