جیکب آباد (نامہ نگار)جیکب آباد میں غیرت کے نام پر قیامت صغریٰ،پسند کی شادی پر پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر، وزیر اعلیٰ سندھ کا نوٹس، رپورٹ طلب عدالتی شادی کی سزا معصوم دیہاتیوں کو دے دی گئی؛ مسلح افراد کا برڑو برادری کے گھروں پر حملہ، فائرنگ اور لوٹ مار، بیٹی کا جہیز اور عمر بھر کی کمائی جل کر خاکستر، دہشت گردی کا مقدمہ درج، 5 ملزمان گرفتار تفصیلات کے مطابق دنیا جہاں کے قوانین ایک طرف، مگر جیکب آباد میں آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے۔ شہر میں پسند کی شادی کے تنازع پر مشتعل مسلح افراد نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے برڑو برادری کے متعدد گھروں کو آگ لگا دی اور اندھا دھند فائرنگ کر کے پورے گاؤں کو ویرانے میں تبدیل کر دیا۔ اس ہولناک بربریت کا وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو دھر لیا ہے۔ 4 مئی کو جیکب آباد کے ایک جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی۔ لڑکی کے اہل خانہ نے روایتی طور پر اغوا کا مقدمہ درج کرایا، جس پر شادی شدہ جوڑے نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور وہ گھر سے کوئی سامان یا زیورات لے کر نہیں آئے۔مگر اس قانونی اور شرعی حق کا بدلہ اگلے ہی دن (5 مئی کو) انتہائی بھیانک انداز میں لیا گیا۔ مشتعل مسلح افراد نے گاؤں پر دھوا بول دیا اور چن چن کر برڑو برادری کے گھروں اور املاک کو نذرِ آتش کرنا شروع کر دیا۔ ملزمان گھنٹوں تک دندناتے اور خوف و ہراس پھیلاتے رہے، جس کے باعث پورا گاؤں پناہ گزینوں کا منظر پیش کرنے لگا۔