دوسری جنگ عظیم کے دوران 6 اگست 1945ء کو جاپان کے شہر ہیرو شیما پر امریکا نے پہلا ایٹمی حملہ کیا تھا۔
اس ایٹمی دھماکے میں ہیروشیما میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہیروشیما پر یہ ایٹمی حملہ 8 بجکر 16 منٹ پر ہوا تھا جس کے لیے بی۔29 بمبار طیارہ استعمال کیا گیا۔
ہیروشیما، جاپان کے لیے فوجی اہمیت کا حامل شہر تھا۔ یہ ایک سپلائی اور لاجسٹکس بیس کے ساتھ اہم پورٹ بھی تھا، جہاں جنگی بحری جہاز تیار ہوتے تھے۔
یعنی یہ شہر ایک کمیونی کیشن سینٹر بھی تھا جہاں 40 ہزار فوجی مقیم تھے، جو جاپانی بحریہ کو مدد فراہم کرتے تھے۔
یاد رہے اُس زمانے میں اصل طاقت اور فتوحات کا محور بحریہ ہی ہوتی تھی اور جاپان اپنی طاقتور بحریہ ہی کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا پر قابض تھا، یہاں تک کہ چین پر بھی اُس کا تسلّط تھا۔
پہلے ایٹمی دھماکے کے 3 دن بعد 9 اگست 1945ء کو جاپان کے شہر ناگا ساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ ہوا جس کے نتیجے میں تقریباََ 74 ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی۔
ان خوفناک ایٹمی دھماکوں کے 6 دن بعد 15 اگست کو امریکا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے گئے تھے اور یوں دوسری عالمی جنگ اختتام کو پہنچی تھی۔
اُس وقت سے لے کر آج تک دوبارہ ایٹم بم استعمال نہیں کیا گیا حالانکہ دنیا کے کئی ممالک کے پاس اس وقت ایٹم بم موجود ہے۔
1991ء میں روس بکھر گیا لیکن 2 ہزار ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ایسے ہی پڑے رہ گئے، اُس نے دشمن کے خلاف اُنہیں استعمال نہیں کیا۔
ایٹم بم استعمال نہ کرنا روس کی کمزوری نہیں بلکہ انسانیت اور انسانی جانوں کی قدر تھی۔
یاد رہے کہ ایٹم بم صرف جنگ روکنے کا ہتھیار ہے، چرچل جیسے جنگ اور سیاست کے ماہر نے اسے’’ بیلنس آف ٹیرر‘‘ کہا ہے۔
ایٹمی حملہ کرنے پر بم پھینکنے والا ملک اور جس ملک پر پھینکا جائے دونوں ہی تباہ ہوجاتے ہیں۔
اس بات کا اندازہ دنیا میں ہوئے پہلے ایٹمی حملے سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ اس دَور میں عالمی طاقت اور وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بھی جاپان کے لیے ان دھماکوں سے ہونے والا نقصان برداشت کرنا ناممکن ہوگیا تھا اور امریکا کو بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔