ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کا سلسلہ گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ ان حملوں کے باوجود ایرانی فوج اب بھی ایک سخت حریف ثابت ہو رہی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران نے گزشتہ روز ایک ایف 15 ای اسٹرائک ایگل مار گرایا، جس میں سوار ایک اہلکار کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک اے 10 وارتھوگ طیارہ خلیجی خطے میں ایرانی دفاعی کارروائی کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت نمایاں حد تک محدود کرنے کے دعوؤں کے باوجود یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اب بھی جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی طیاروں کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جن کی رہنمائی روایتی ریڈار کے بجائے آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز سے کی گئی۔
ماہرین کے مطابق جاری کردہ تصاویر ہائی کنٹراسٹ تھرمل امیجز دکھاتی ہیں، جو عام طور پر الیکٹرو-آپٹیکل/انفراریڈ (EO/IR) نظام کا خاصہ ہوتی ہیں۔
چونکہ ایران کے بیشتر ریڈار گائیڈڈ دفاعی نظام امریکی و اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں، اس لیے اب وہ زیادہ تر ایسے پیسیو سینسرز پر انحصار کر رہا ہے جو طیاروں کے انجن سے خارج ہونے والی حرارت کو پکڑتے ہیں۔
انفراریڈ سسٹم بغیر ریڈار کے طیارے کے انجن کی حرارت کو شناخت کر کے ہدف کو لاک کرتا ہے اور پھر میزائل اسی حرارتی نشان کا تعاقب کرتے ہوئے نشانہ بناتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا مقامی تیار کردہ مجید (AD-08) میزائل نظام ان حملوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
یہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا دفاعی نظام ہے، جو 2021ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، کروز میزائلز اور ڈرونز کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
یہ نظام ریڈار کے بغیر صرف انفراریڈ اور الیکٹرو آپٹیکل ٹریکنگ کے ذریعے تقریباً 15 کلومیٹر تک اہداف کو شناخت کر سکتا ہے، جس سے اس کی خفیہ صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
F-15E یا A-10 جیسے جدید طیاروں کو انفراریڈ نظام سے نشانہ بنانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہ طیارے تیز رفتار، غیر معمولی چالاکی اور جدید دفاعی نظام رکھتے ہیں۔
ان میں حرارت کم کرنے والی ٹیکنالوجی، خصوصی کوٹنگز اور فلیئرز (جھانسہ دینے والے سگنلز) شامل ہوتے ہیں، جو میزائل کے سینسرز کو گمراہ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے حملے عموماً قریبی فاصلے اور کم بلندی پر ہی کامیاب ہو سکتے ہیں، جب طیارہ عارضی طور پر کمزور ہو۔
ایران نے حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز اور طیارے مار گرانے کے دعوے کیے ہیں، جن میں MQ-9 ریپر ڈرونز اور اسرائیلی ڈرونز شامل ہیں۔