• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بٹگرام واقعہ: لوگ چیئر لفٹ سے سفر کرکے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالتے ہیں؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بٹگرام کی چیئر لفٹ میں پھنسے افراد کو تقریباً 15 گھنٹے کے ریسکیو آپریشن کے بعد پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (SSG) نے کامیابی کے ساتھ بچا لیا۔

بٹگرام میں چیئر لفٹ کی رسیاں ٹوٹنے کا واقعہ صبح 7 بجے ہوا، شام کو مقامی افراد نے بھی آپریشن میں حصہ لیا اور تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں لوگ عارضی چیئر لفٹ کیوں استعمال کرتے ہیں؟

پاکستان کے دور دراز شمالی پہاڑی علاقوں میں روایتی، مضبوط اور محفوظ انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے لوگ گھریلو اور خطرناک چیئر لفٹ کے ذریعے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان علاقوں کے محدود اختیارات والے طبقے کے لیے یہ گھریلو چیئر لفٹ خطرناک ہونے کے باوجود بھی ضروری نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔

ان چیئر لفٹس کا استعمال آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور مشرقی مانسہرہ میں محدود انفراسٹرکچر اکثر ہوتا ہے۔ 

شمالی پہاڑی علاقوں میں چیئر لفٹس کیسے بنائی جاتی ہیں؟

ان دور دراز علاقوں میں لوگوں کے آپس میں رابطے میں رہنے کی ضرورت نے مقامی لوگوں کو سرکاری اجازت ناموں کے بغیر استعمال شدہ ناقص مواد سے چیئر لفٹس بنانے پر مجبور کیا ہے۔

یہ چیئر لفٹس مقامی لوگ خود ہی بناتے ہیں اور انہیں بنانے کے لیے بنیادی طور پر ٹرکوں اور سوزوکی گاڑیوں کے اوپری حصے جیسے ضائع کیے گئے مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر ان کو کیبلز سے منسلک کیا جاتا ہے جنہیں بعض اوقات رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے ناقص آئرن سے بنایا جاتا ہے۔ قانونی طریقے کار کی عدم موجودگی اور روایتی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے مقابلے میں کم لاگت کی وجہ سے اس طرح ان چیئر لفٹس کو عارضی اور زیادہ تر غیر قانونی طور پر بنایا جاتا ہے۔

فوائد اور خطرات

چیئر لفٹس سے وابستہ خطرات کے باوجود یہ بڑے پیمانے پر دریاؤں کو عبور کرنے اور پہاڑی وادیوں کے درمیان سفری فاصلے کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

الائی کے علاقے میں جہاں حالیہ واقعہ پیش آیا، ایک مقامی باشندے نے ’ڈولی‘ کے نام سے ایک چیئر لفٹ بنانے کی اجازت حاصل کی اور اس سفر کو جوکہ پیدل چل کر 2 گھنٹے میں کیا جاتا تھا اسے 4 منٹ تک محدود کردیا۔

بہت سے رہائشی سفر کرنے کے لیے ان چیئر لفٹس کو اس لیے بھی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ بہت سستی ہیں اور ان کا کرایہ 20 روپے سے بھی کم ہے۔

اگرچہ یہ چیئر لفٹس دور دراز علاقوں کے لوگوں کو سفری سہولت فراہم کرتی ہیں لیکن ان پر سفر کرتے ہوئے حفاظتی خدشات برقرار ہیں۔ 

2017ء میں پنجاب کے شہر مری میں ایک غیر قانونی چیئر لفٹ کو حادثہ پیش آیا اور اس کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق ہوئے۔

گزشتہ سال دسمبر میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ایک چیئر لفٹ کی رسی ٹوٹنے کے بعد 12 بچوں کو ریسکیو آپریشن کرکے بچانا پڑا۔ 

یہ تمام واقعات ایسے عارضی نقل و حمل کے نظام سے وابستہ خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔

اس معاملے پر حکومتِ پاکستان کا کیا ردِعمل ہے؟

حالیہ واقعے کے بعد نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے تمام نجی چیئر لفٹس کے معائنے کا حکم دیا ہے تاکہ انہیں مقامی لوگوں کے سفر کے لیے ایک محفوظ ذریعہ بنایا جا سکے۔

لیکن ان پہاڑی علاقوں میں نئے انفراسٹرکچر کے لیے قابل ذکر سرمایہ کاری کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ یہی چیئر لفٹس ممکنہ طور پر مقامی لوگوں کے نقل و حمل کا ذریعہ رہیں گی۔

خاص رپورٹ سے مزید