• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کروز شپ پر موجود ڈچ جوڑا ہنٹا وائرس کا پہلا نشانہ کیسے بنا؟

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

بحری جہاز ’ایم وی ہونڈیوس‘ پر پھیلنے والے مہلک وائرس ہنٹا کی تحقیقات کے دوران ایک ڈچ میاں بیوی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، دونوں کئی ماہ تک ارجنٹینا، چلی اور یوراگوئے میں سفر کرنے کے بعد یکم اپریل کو ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحری جہاز پر موجود جوڑے میں پہلے شوہر بیمار ہوا اور 11 اپریل کو جہاز پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اہلیہ کو جزیرہ سینٹ ہیلینا سے جنوبی افریقا منتقل کیا گیا جہاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکی۔

ایک جرمن مسافر کی ہلاکت بھی اسی وائرس سے جوڑی گئی ہے جبکہ متعدد مسافروں اور عملے کے ارکان کا علاج جاری ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متاثرہ افراد میں ’اینڈیز ہنٹا وائرس‘ پایا گیا ہے جو دنیا میں ہنٹا وائرس کی واحد قسم سمجھی جاتی ہے، یہ قسم محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ وائرس جہاز پر دیگر افراد میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔

ارجنٹینا کی وزارتِ صحت نے ڈچ جوڑے کے سفری راستوں، قیام گاہوں اور ممکنہ جنگلی چوہوں سے رابطے کی تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔

ماہرین مختلف علاقوں میں چوہے پکڑ کر ان کے نمونے بھی جانچ رہے ہیں تاکہ انفیکشن کے اصل مقام کا پتہ لگایا جا سکے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس عموماً جنگلی چوہوں کے پیشاب، لعاب یا فضلے سے آلودہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے پھیلتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اوشوائیا کے علاقے میں 1996ء کے بعد اس وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے جس سے شبہ بڑھ گیا ہے کہ متاثرہ افراد اوشوائیا پہنچنے اور کروز میں داخل ہونے سے قبل ہی وائرس کا شکار ہو چکے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت نے عوام کے لیے مجموعی خطرہ کم قرار دیا ہے تاہم یہ واقعہ بین الاقوامی سفری نگرانی اور متعدی امراض کی تحقیقات کے لیے اہم مثال بن گیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید