ٹیکساس کے شہر گرینڈ پریری میں ایک سادہ سی سرگرمی، ایک عید کی تقریب، ایک کرائے پر لیا گیا واٹر پارک اور 600 افراد کی ایک خوشی اچانک ریاستی طاقت کے ایک ایسے دباؤ کا نشانہ بن گئی جس نے امریکی مسلم کمیونٹی کے سامنے ایک پرانا، تکلیف دہ سوال نئے زاویے سے رکھ دیا ہے کہ جب اقتدار اپنا چہرہ بدل کر آپ کے دروازے پر پہنچے تو آپ کے اپنے لوگ کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔
ایپک واٹرز انڈور واٹرپارک، جو شہر گرینڈ پریری کی ملکیت ہے اور ووٹرز کے منظور کردہ 25 فیصد سیلز ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن سے چلتا ہے، یکم جون کو DFW ایپک عیدالضحیٰ کی تقریب کی میزبانی کرنے والا تھا، یہ تیسرا سالانہ اجتماع ہوتا، گزشتہ برس اس میں 600 سے زائد افراد شریک ہوئے تھے اور ڈاکٹر امینہ نائٹ، ایک ماہر تعلیم اور 6 بچوں کی ماں، نے تقریب کے لیے جگہ پرائیویٹ طور پر کرائے پر لی تھی، جس کی فیس بھی ادا کر چکی تھیں اور اپنی کمیونٹی کے لیے ایک باوقار، بامقصد اجتماع کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں، پھر سوشل میڈیا پر ایک پرانا فلائر گردش میں آیا جس پر ’Muslim Only‘ لکھا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایک نجی تقریب ایک ریاستی تنازع میں بدل گئی۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بدھ کی شام میئر رون جینسن کے نام ایک رسمی خط بھیجا جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر یہ تقریب 11 مئی تک منسوخ نہ کی گئی تو ریاست کی جانب سے دی جانے والی 5 لاکھ 30 ہزار ڈالرز کی پبلک سیفٹی گرانٹس واپس لے لی جائیں گی۔
ایبٹ نے اس تقریب کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا اور اپنے دستخط کردہ HB 4211 کا حوالہ دیا کہ وہ قانون جو ’مسلم اونلی نو گو زونز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
ان کا استدلال یہ تھا کہ شہر کے فنڈ سے چلنے والے کسی بھی مقام پر اگر ’Whites Only‘ کی تقریب آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ’Muslims Only‘ کی تقریب بھی اسی اصول کے تحت غیر آئینی ہے، جس کے بعد اسی شام چند گھنٹوں کے اندر تقریب منسوخ کر دی گئی، یہ کہتے ہوئے کہ مزید جائزے کے بعد اور شہر گرینڈ پریری کے بہترین مفاد میں، یکم جون کی عید تقریب منسوخ کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر امینہ نائٹ نے اس سے قبل فلائر کی زبان میں تبدیلی کر دی تھی، ’Muslim Only‘ کی جگہ ’Modest Dress Only‘ لکھ دیا تھا اور تمام مذاہب کے لوگوں کو خوش آمدید کہنے کا اعلان کر دیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد کبھی بھی کسی کو خارج کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا ماحول بنانا تھا جہاں مسلم خاندان احتشام کے ساتھ عید منا سکیں، میں اداس ہوں، مجھے ای میلز اور فون کالز موصول ہونے لگیں جن میں مجھے دھمکی دی جا رہی تھی، مجھے کہا جا رہا تھا کہ امریکا چھوڑ دو۔
انہوں نے فوکس 4 کو بتایا کہ میرا ایمان خوف کا موضوع نہیں ہے۔
اس دوران 40 سے زائد ٹیکساس کے قانون سازوں نے گورنر کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کی دھمکی کی شدید مذمت کی گئی۔
قانون سازوں نے لکھا کہ گورنر کا دفتر ریاستی مالی طاقت کا استعمال ایک امتیازی الزام تراشنے اور مسلمان باشندوں کو ایسے سلوک کے لیے نشانہ بنانے جا رہا ہے جس کا کسی دوسرے مذہب کو سامنا نہیں۔
اور یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے، وہ کہانی جو امریکا کی پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کے ضمیر پر ایک گونجتا ہوا سوال چھوڑ جاتی ہے۔
گورنر گریگ ایبٹ کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ کنندہ کوئی ٹیکساس کے روایتی تیل کے سفید فام مالک نہیں ہیں، ان کا نام ہے سید جاوید انور جو کراچی، پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک پاکستانی نژاد امریکی ہیں، وہ خود کو ایک پریکٹسنگ مسلمان قرار دیتے ہیں، وہ رمضان کے افطار ڈنر کا اہتمام کرتے ہیں، مسلم امریکن ہیریٹیج سیلیبریشن کی اعزازی کونسل میں شامل ہیں اور مڈلینڈ، ٹیکساس میں مڈلینڈ انرجی انکارپوریٹڈ کے بانی ہیں۔
ٹیکساس ٹریبیون کی تحقیقاتی رپورٹنگ کے مطابق سید جاوید انور نے گورنر ایبٹ کو ان کے سیاسی کیریئر کے دوران تقریباً ساڑھے 6 ملین ڈالرز دیے ہیں اور وہ گورنر کے سب سے بڑے ڈونرز کی فہرست میں سرِ فہرست ہیں۔
ٹرانسپیرنسی یو ایس اے کے ریکارڈز کے مطابق انہوں نے براہِ راست ایبٹ اور Texans for Greg Abbott کو 2222086 ڈالرز دیے اور صرف 2025ء کی دوسری ششماہی میں 1.6 ملین ڈالرز کیش اور 122000 ڈالرز کے ان کائنڈ تحفے دیے، جن میں 1 لاکھ ڈالرز کی ایک نجی پرواز بھی شامل تھی، یہی وہ تعاون ہے جس نے گورنر کے انتخابی فنڈ کو 105.7 ملین ڈالرز کی اس بڑی رقم تک پہنچایا جس کے ساتھ وہ 2026ء کے انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں، 2015ء میں ایبٹ نے سید جاوید انور کو ٹیکساس ہائر ایجوکیشن کوآرڈینیٹنگ بورڈ میں تعینات کیا اور ان کی مدت 2027ء تک جاری رہے گی، جہاں وہ بعض اوقات سیکریٹری کے طور پر بھی درج ہوتے ہیں۔
اب کمیونٹی کا سوال یہ ہے کہ ایک پاکستانی نژاد، کراچی میں پیدا ہونے والا، اپنے آپ کو پریکٹسنگ مسلمان قرار دینے والا کاروباری شخص، جو کبھی ہیوسٹن کی اسلامک سوسائٹی کو 50 ہزار ڈالرز کا چیک لکھتا ہے اور رمضان کے افطار ڈنرز کا سرپرست ہوتا ہے، وہی شخص اسی گورنر کا سب سے بڑا مالی محسن کیسے ہو سکتا ہے جس نے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا، جس نے EPIC City کے مسلم رہائشی منصوبے کو روکنے کے لیے ریاست کی پوری مشینری متحرک کی اور جس نے اب ایک سادہ سی عید کی تقریب پر بھی شہری حکام کو فنڈز چھیننے کی دھمکی دے دی، یہ سوال صرف سیاست کا نہیں ہے، یہ ایک گہرا اخلاقی سوال ہے، امریکی مسلم اور خصوصاً پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی پوچھ رہی ہے کہ جب آپ کا چیک اس ہاتھ کو طاقت دے رہا ہے جو اسی کمیونٹی پر اٹھتا ہے تو آپ کی شراکت داری کا اخلاقی حساب کس کھاتے میں درج ہو گا۔
دی ٹاؤن ہال نیوز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ کہانی مذہب کی نہیں، احتساب، شفافیت اور ریاستی سطح پر قدامت پسند اصولوں کی سالمیت کی ہے اور یہ کہ ایسی ریاست میں جہاں گورنر شریعہ قانون کے خلاف عوامی جنگ لڑ رہا ہے اور اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے، اس کے سب سے بڑے مسلم ڈونر کے ساتھ مالی الجھن ایک معمولی فٹ نوٹ نہیں بلکہ ایک سرخی ہے۔
گیٹ وے پنڈٹ کی رپورٹ میں یہ سوال مزید تیز کیا گیا کہ آیا گورنر اپنے سب سے بڑے مسلم عطیہ کنندہ کے اثر و رسوخ کو نظرانداز کر رہے ہیں، یا یہ پیسہ ہی وضاحت ہے کہ کچھ مسلم متعلقہ منصوبے سخت عوامی بیانات کے باوجود کیوں جاری رہتے ہیں، مگر دونوں سوالات کے سرے سے کمیونٹی کے سامنے ایک ہی الجھن ابھرتی ہے کہ سرپرستی اور مخاصمت کا یہ بیک وقت رشتہ کس طرح کی اخلاقیات تشکیل دیتا ہے۔
سید جاوید انور کی کہانی ایک کلاسک امیگرنٹ کی کہانی ہے، ایک ٹیلی فون آپریٹر ماں نے انہیں کراچی میں پالا، انہوں نے یونیورسٹی آف وائیومنگ سے پیٹرولیم انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، پرمیان بیسن میں اپنا کاروبار قائم کیا اور پاکستان چیمبر آف کامرس یو ایس اے سے لے کر صدر جارج ڈبلیو بش کے ہاتھوں ایوارڈز وصول کیے، یہ ایک قابلِ فخر زندگی ہے، مگر امیگرنٹ کا فخر اور کمیونٹی کے ساتھ وفاداری دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی مسلم کمیونٹی، خاص طور پر پاکستانی نژاد لوگ آج ایک تلخ احساس کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
گرینڈ پریری کے واٹر پارک میں جو 600 لوگ گزشتہ سال جمع ہوئے تھے، ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز، استاد، چھوٹے کاروبار کے مالکان، بچے، بوڑھے اور بہت سے پاکستانی نژاد بھی تھے، جن کا یہ سوال ہے کہ ہماری اپنی برادری کا ایک شخص جس طاقت کے ساتھ ہے، آج وہی طاقت ہمیں ہمارے بچوں کی عید سے محروم کرنے پر اتری ہے۔
ٹیکساس میں کمپین فنانسنگ پر کوئی بالائی حد نہیں ہے، یہ ایک ایسا ریاستی نظام ہے جہاں دولت سیدھی سرپرستی میں بدلتی ہے، جہاں ایک عطیہ کنندہ کا چیک ایک بورڈ کی نشست کی صورت میں واپس آتا ہے اور جہاں اقتدار کا توازن صرف ووٹر طے نہیں کرتا، چیک بک بھی طے کرتی ہے، سید جاوید انور خود کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے کبھی ایبٹ سے کچھ نہیں مانگا اور بظاہر کوئی پبلک ریکارڈ یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے گورنر کے اسلامی تنظیموں کے خلاف اقدامات کے خلاف کوئی لابی کی ہے یا کوئی پالیسی تبدیلی کی درخواست کی ہے، مگر کمیونٹی کا سوال صرف لابینگ کا نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ خاموشی خود ایک پوزیشن ہے، جب آپ کا پیسہ اس مہم کو طاقت ور بناتا ہے جو آپ کی برادری کے سب سے کمزور لمحات کو نشانہ بناتی ہے، تو آپ کی خاموشی محض غیر جانبداری نہیں رہتی، وہ ایک شراکت بن جاتی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ ایک پاکستانی نژاد مسلمان کیوں اس ہاتھ کو سونا دیتا ہے جو اس کی برادری پر اٹھتا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم سب کی اخلاقی شراکت داری کا حساب کہاں ہے؟ امریکی مسلم اور پاکستانی کمیونٹی کے سامنے یہ لمحہ صرف غم و غصے کا نہیں ہے، یہ ایک گہرے سوال کا لمحہ ہے کہ ہماری دولت، ہمارا اثر، ہمارا چیک اور ہمارا چپ رہنا، یہ سب مل کر کس قسم کا امریکا تشکیل دے رہے ہیں؟