• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا صرف سیریل نمبر دیکھ کر کرنسی نوٹوں کے جعلی ہونے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے؟ حکام نے بتا دیا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

سوشل میڈیا پر وائرل کچھ پوسٹس گردش کر رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شہری محض سیریل نمبر دیکھ کر جعلی نوٹوں کی شناخت کر سکتے ہیں۔

شہری سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس طرح کی پوسٹس دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے، تاہم اب حکام نے خود بتا دیا ہے کہ آخر اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے؟

سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ

27 جنوری کو ایک فیس بک اکاؤنٹ سے پاکستانی کرنسی کے 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹوں کی تصاویر شیئر کی گئیں۔

اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جعلی نوٹوں کی شناخت ان کے سیریل نمبر کے ابتدائی حروف دیکھ کر کی جا سکتی ہے، یعنی 500 روپے کا نوٹ جس کے سیریل نمبر کا پریفکس ’AF‘ ہو، 1000 روپے کا وہ نوٹ جس کے سیریل نمبر کا پریفکس ’CE‘ ہو اور 5000 روپے کا وہ نوٹ جس کے سیریل نمبر کا پریفکس ’HO‘ ہو، وہ جعلی ہیں۔


حقیقت کیا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک نمائندے نے ’جیو فیکٹ چیک‘ کو میسجز کے ذریعے بتایا کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں کیے جانے والے یہ دعوے جھوٹے اور غلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو صرف مرکزی بینک کی ویب سائٹ اور اس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دستیاب معلومات اور پریس ریلیز پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

جیو فیکٹ چیک نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لیا، لیکن وہاں کرنسی نوٹوں کی پہچان کے حوالے سے ایسا کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید