• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں میں کتب بینی کا رجحان کیسے پروان چڑھایا جائے؟

رینیسانس انٹرنیشنل کی حالیہ’ایکسلریٹڈ ریڈر رپورٹ‘ بعنوان ’’بچے کیا پڑھ رہے ہیں؟‘ میں بتایا گیا ہے کہ ان کے مطالعہ میں شامل بچوں نے جولائی 2022میں ختم ہونے والے تعلیمی سال کے دوران 27,265,657نئی کتابوں کا مطالعہ کیا جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 24فی صد زائد ہیں۔

یہ ایک مثبت خبر ہے کیونکہ مطالعہ کے فوائد کو وسیع پیمانے پر دستاویزی شکل دی گئی ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مطالعہ کے ’’علمی نتائج ہوتے ہیں جو اس کے مخصوص اہداف سے آگے تک جاتے ہیں‘‘۔

اسکول لائبریری ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹیو اور رپورٹ کے پیش لفظ کی مصنف ایلیسن ٹیرنٹ کے مطابق، ’’ذہنی لذت کے لیے مطالعہ کے فوائد کے بارے میں تحقیق کی کثیر تعداد کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔‘‘ ان میں شامل ہیں ’’ذخیرہ الفاظ کے حصول میں اضافہ، فلاح و بہبود کی اعلیٰ سطح، مطالعہ کرنے والا ذہن اپنے خیالات کو واضح الفاظ میں بیان کرسکتا ہے، اور مطالعہ کی عادت، تعلیم کے میدان میں کامیابی کے لیے خاندان کی سماجی و اقتصادی حیثیت سے زیادہ اہم ہے‘‘۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نوعمری میں مطالعہ کی عادت جوانی میں دیگر فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کا بک کلب ہر ماہ ایک کتاب پیش کرتا ہے اور دنیا بھر کے قارئین کو مختلف قسم کے افسانے اور غیر افسانوی عنوانات پر گفتگو کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

رپورٹ میں آمدنی کی بنیاد پر قومی خواندگی کے اعدادوشمار بھی پیش کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف سے کم (48فی صد) بچوں اور نوجوانوں نے کہا کہ انہیں یا تو مطالعہ کرنا یا بہت زیادہ مطالعہ کرنا پسند ہے۔ مطالعہ کی شرح خاص طور پر پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں اور نوجوانوں میں کم تھی۔

دیگر اعداد و شمار فہم (Comprehension)کی سطح کے ارد گرد منقسم دکھاتے دیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، دنیا کے غریب ترین ممالک میں، 90فی صد بچے جب پرائمری اسکول کے اختتام پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ فہم کے ساتھ پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ہرچند کہ امیر ممالک میں اعداد و شمار بہتر ہیں، اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں اب بھی تقریباً 9فی صد بچے ایسے ہیں جو پرائمری اسکول کے اختتام پر فہم کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔ رپورت میںہر مرحلے پر بچوں میں مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مطالعہ کی عادت میں اضافہ، جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ممکنہ طور پر متعدد عوامل کے باعث ممکن ہوا ہے، جس میں ایک اہم وجہ سوشل میڈیا کا اثر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطالعہ کرنے والے رول ماڈلز اب ’’بُک ٹوک‘‘ جیسے پلیٹ فارمز پر پائے جانے کا اتنا ہی امکان ہے جتنا کہ وہ اسکول یا کمیونٹی میں ہوتے ہیں۔

بُک ٹوک ایک مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ پر ایک ہیش ٹیگ ہے، جس کے2022میں 1.4 بلین ماہانہ فعال صارفین تھے اور2023 کے آخر تک 1.8 بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔

رپورٹ میں ایلس اوسمین سمیت دیگر مصنفین کے اُبھر کر سامنے آنے کو نوٹ کیا گیا، جسے رپورٹ میں بُک ٹوک کا نمایاں ستارہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مصنف کا ناول ’’ہارٹس اسٹاپر‘‘ والیوم ایک گزشتہ سال 10ویں سے سیکنڈری اسکول کے قارئین میں پسندیدہ کتاب بن گیا۔

بچوں میں مطالعے کے شوق یعنی کتب بینی کو نا صرف تعلیمی میدان بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی کامیابی سے جوڑا جاتا ہے۔ بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں، لیکن کتابوں سے محبت سکھانا والدین، خاص طور پر ماؤں کیلئے محنت طلب کام ضرور ہے۔ ماہرین کے مطابق، درج ذیل طریقوں پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنے بچوں میں کتب بینی کی عادت پیدا کرسکتے ہیں:

خود کتابیں پڑھیں

بچوں میں مطالعے کا شوق پروان چڑھانے کا بہترین طریقہ بچوں کے سامنے خود کتابیں پڑھنا ہے۔ بچوں کے سامنے کتابیں پڑھیں۔ اس طرح بچے کے اندر بھی کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔ والدین روزانہ کتابیں پڑھیں تاکہ بچہ غیر محسوس طریقے سے اس جانب راغب ہوسکے۔

گھر میں کتب خانہ

گھر میں بھلے چھوٹا سا ہی سہی مگر ایک کتب خانہ ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ بچوںکومطالعے کا شوقین بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھر میں موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔ وہ والدین جو گھر میں زیادہ تعداد میں کتابیں رکھتے ہیں اس حوالے سے زیادہ فائدے میں رہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے روزانہ کی بنیاد پر کتابوں سے تعلق انہیں اس کا عادی بنا دیتا ہے۔

کتابیں پڑھ کر سنائیں

کتابیں پڑھنے کو ایک تفریحی گروہی سرگرمی بنانے کے بھی اپنے فوائد ہیں۔ گروپ میں اگر باآواز کتاب پڑھی جائے تو بچے الفاظ کا صحیح تلفظ بھی سیکھتے ہیں اور اس سے ان کی پڑھنے کی روانی بھی بہتر ہوتی ہے۔

دلچسپ انداز اپنائیں

اگر آپ اپنے بچے کو مطالعے کے عادی بنا رہے ہیں تو انہیں کتابیں کافی مزیدار محسوس ہونے لگیں گی۔ مگر پھر بھی انہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دنیا میں کس کس طرح کے موضوعات پر کتابیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ جب کبھی بھی آپ باہر جائیں اور آپ کا بچہ آپ سے چیزوں کے بارے میں سوال کرے تو آپ ان سوالات کو نوٹ کرلیں۔ 

اس کے بعد آپ ۲؍ کام کرسکتے ہیں۔ آسان طریقہ تو یہ ہے کہ خود پڑھ کر اس سوال کا جواب بچوں کو دے دیا جائے، مگر زیادہ اثرانگیز طریقہ جو بچوں کو کتاب سے محبت سکھائے گا وہ یہ ہے کہ بچوں کے پسندیدہ موضوعات سے تعلق رکھنے والی کتابوں کا تحفہ مہینے میں ایک بار ضرور دیجئے۔

مطالعے کو عادت بنالیں

دیگر کئی صحت بخش چیزوں اور کھیل کی سرگرمیوں کی طرح کُتب بینی کا شوق بھی بچوں کی عادت میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ بحیثیت والدین آپ روزانہ مطالعے کے لئے وقت مخصوص کرسکتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی چیز کی عادت اسی وقت ہوتی ہے جب اسے روزانہ اور مسلسل کیا جائے، چنانچہ کوشش کریں کہ آپ کسی بھی دن بلا ناغہ چاہے آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اس کو عادت کو بچوںمیں پروان چڑھائیں۔

امریکی محکمہ تعلیم کے ایک سروے کے مطابق، مطالعہ کرنے والے بچوں میں اعتماد، یادداشت اور قائدانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، باقاعدگی سے کتب بینی کرنے والے افراد نا صرف روزانہ کوئی نہ کوئی نئی بات سیکھتے ہیں بلکہ ان کی معلومات اور ذہانت کا معیار بھی دیگر افراد کی نسبت بہتر ہوتا ہے۔