کراچی(ٹی وی رپورٹ)الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں مختلف انتخابی نشانات الاٹ کردیئے ہیں۔ کسی کو بکرا، کہیں جہاز، کھسہ، سبز مرچ، انار، چار پائی اور دیگر نشانات ملے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دیے جانے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے مختلف حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابی نشانات جاری کر دیئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کو کے پی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 10 پر آزادی حیثیت میں چینک کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ این اے 21 سے مجاہد علی کو فاختہ، این اے 23 سے علی محمد خان کو ڈولفن کا نشان دیا گیا ہے۔ سوات سے این اے 2 پر ڈاکٹر امجد کو چائے کی کیتلی، این اے 3 پر سلیم الرحمن کو چمٹا، این اے 4 پر سہیل سلطان کو بکری کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ سوات سے ہی خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں پی کے 4 پر علی شاہ خان کو کھُسہ، پی کے 5 پر اختر خان اور پی کے 6 پر فضل حکیم کو پریشر کُکر، پی کے 7 پر ڈاکٹر امجد علی کو توا، پی کے 8 پر حمید الرحمن کو زبان، پی کے 9 پر سلطان روم کو سبز مرچ اور پی کے 10 پر محمد نعیم کو فرائی پین کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ خیبر سے این اے 27 سے اقبال آفریدی کو پیالہ، پشاور میں این اے 29 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر ایوب کو پیالہ اور این اے 47 سے پی ٹی آئی کے شعیب شاہین کو فاختہ کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ کوہاٹ میں این اے 35 سے شہریار آفریدی کو بوتل کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ مانسہرہ میں این اے 14 سے پی ٹی آئی رہنما سلیم عمران کو درانتی، این اے 15 سے شہزادہ گستاسب خان کو درانتی، پی کے 36 سے منیر حسین لغمانی ایڈووکیٹ کو درانتی، پی کے 37 سے بابر سلیم خان سواتی کو نل، پی کے 38 سے زاہد چن زیب کو درانتی، پی کے 39 سے پی ٹی آئی رہنما اکرام غازی ایڈووکیٹ کو بھی درانتی، پی کے 40 سے عبدالشکور خان لغمانی کو فاختہ کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ دیر بالا میں این اے 5 پر صاحبزادہ صبغت اللہ کو انتخابی نشان کٹورا اور این اے 22 سے پی ٹی آئی رہنماؤں عاطف خان کو درانتی کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ این اے 73 ڈسکہ سے علی اسجد ملہی کو چمچ اور پی کے 45 سے مشتاق غنی کو بلے باز کے انتخابی نشانات دیئے گئے ہیں۔ کرک میں این اے 34 سے پی ٹی آئی کے شاہد خٹک کو باجا، کے پی اسمبلی کے حلقہ پی کے 97 سے خورشید خٹک کو پیراشوٹ، پی کے 98 سے میجر (ریٹائرڈ) سجاد کو ٹرانسفارمر کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 45 پر سابق اسپیکر مشتاق غنی کو چینک کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ پشاور سے کے پی اسمبلی کے حلقہ پی کے 73 سے علی زمان کو مور، پی کے 75 سے ملک شہاب کو پیالہ کے انتخابی نشانات دیئے گئے ہیں۔ مردان سے کے پی اسمبلی کے تحریک انصاف کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ پی کے 54 سے پی ٹی آئی کے زرشاد خان کو چارپائی، پی کے 55 سے طفیل انجم کو تکیہ، پی کے 56 سے امیر فرزند و چارپائی، پی کے 57 سے ظاہر شاہ طور کو جہاز کے نشانات دیئے گئے ہیں۔ پی کے 58 سے عبدالسلام آفریدی کو فاختہ، پی کے 59 مردان پر پی ٹی آئی کے طارق محمود کو وہیل چیئر، پی کے 60 پر افتخار علی مشوانی کو پَر، پی کے 61 پر احتشام علی کو فاختہ کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ کالاباغ میں این اے 89 سے پی ٹی آئی رہنما جمال احسن خان کو بوتل، پی ایس 85 عیسیٰ خیال سے میجر (ر) اقبال خٹک کو وکٹ کا نشان دیا گیا ہے۔ کے پی میں پی کے 69 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عدنان قادری کو پیالہ، پی کے 70 سے سہیل آفریدی کو گھڑی، پی کے 71 سے عبدالغنی آفریدی کو ٹرانسفامر کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ این اے 59 تلہ گنگ چکوال سے محمد رومان کو گھڑیال، پی پی 22 سے حکیم نثار کو سوٹ کیس اور پی پی 23 سے کرنل (ر) سلطان سرخرو کو پپیتا کے انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ لاہور میں این اے 118 پر عالیہ حمزہ کو ڈائس، این اے 119 سے شہزاد فاروق کو ٹرالی، این اے 121 سے وسیم قادر کو وکٹ کے نشانات دیئے گئے ہیں۔ این اے 122 پر پی ٹی آئی کے سردار لطیف کھوسہ کو انگریزی حرف تہجی کے (K) کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ این اے 123 سے پی ٹی آئی کے افضل عظیم (ریڈیو)، این اے 124 سے ضمیر ایڈووکیٹ (ڈولفن)، این اے 127 سے ظہیر عباس (گھڑی) کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔ این اے 128 پر پی ٹی آئی کے سلمان اکرم (ریکٹ)، میاں اظہر (وکٹ) جبکہ این اے 130 پر ڈاکٹر یاسمین راشد (لیپ ٹاپ) کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لیں گی۔ ملتان سے قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر بھی پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ این اے 148 سے بیرسٹر تیمور ملک اور این اے 149 سے ملک عامر ڈوگر کو گھڑی، این اے 150 سے زین حسین قریشی کو جوتا، این اے 152 سے مہر بانو قریشی کو چمٹا، این اے 152 سے عمران شوکت کو ٹنل اور این اے 153 سے ڈاکٹر ریاض لانگ کو گھڑی کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر متفرق انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے ہیں جن میں این اے 51 مری سے لطاسب ستّی کو گٹار، این اے این اے 53 سے اجمل صابر کو چارپائی، این اے 55 سے راجا بشارت کو کیتلی، این اے 56 سے پی ٹی آئی کے شہریار ریاض کو مینار جبکہ این اے 57 سے پی ٹی آئی کی سمابیہ طاہر کو شہزادی، این اے 52 سے طارق بھٹی کو پیالہ اور این اے 54 سے ملک تیمور مسعود کو ڈھول کا نشان مل گیا ہے۔ رحیم یار خان میں این اے 172 سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ خاتون امیدوار قمر جاوید وڑائچ کو پیالہ نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ پنبجاب اسمبلی کی نشست پی پی 262 سے چوہدری آصف مجید اور پی پی 263 سے چوہدری نعیم شفیق کو بھی پیالہ انتخابی نشان الاٹ کئے گئے ہیں۔ صادق آباد میں این اے 173 سے سردار نبیل ڈاہر کو سبز مرچ، این اے 174 سے رئیس محبوب احمد کو بینگن، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 265 سے سجاد احمد وڑائچ کو پیالہ، پی پی 266 سے چوہدری سمیع اللہ جٹ کو ایئر کولر، پی پی 242 سے کاشف نوید پنسوتا کو بگلا اور پی پی 267 سے رئیس حمزہ محبوب کو جہاز کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ لکی مروت میں این اے 41 سے شیر افضل مروت کو سارس، گوجرنوالہ میں این اے 97 سے رانا ساجد کو وکٹ کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ چنیوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 93 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ غلام محمد لالی کو بوتل، پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 95 سے شوکت تھہیم کو چارپائی اور پی پی 97 سے سلیم بی بی بھروانہ کو بوتل کے نشانات ملے ہیں۔ اٹک میں این اے 49 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ میجر (ر) طاہر صادق کو ’’بھیڑ‘‘، این اے 50 سے ایمان طاہر کو واٹر ٹربائن کے انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ جلالپور بھٹیاں میں این اے67 سے پی ٹی آئی امیدوار انیقہ مہدی بھٹی کو ریڈیو، پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 37 سے پی ٹی آئی کے اسد اللہ آرائیں کو حقہ، پی پی 38 پر سکندر نواز کو ڈولفن اور پی پی 39 حافظ آباد چوہدری قمر جاوید کو کوئل کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ سیالکوٹ میں این اے 71 سے ریحانہ امتیاز ڈار کو جھولے، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 46 سے روبا ڈار کو نٹ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ ساہیوال میں این اے 141 سے پی ٹی آئی کے رانا عامر شہزاد کو پیالہ، این اے 142 سے فیصل احمد ڈھکو کو ہوائی جہاز کے نشانات دیئے گئے ہیں۔ این اے 163 فورٹ عباس سے طلعت محمود بسرا کو جوتے کا نشان دیا گیا ہے۔ بہاولنگر میں این اے 161 سے پی ٹی آئی کے شاہد امین کو گیزر، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 239 سے عاطف اورنگزیب کو ڈھول، پی پی 241 سے اعظم علی اطہر کو مرغی کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ پتوکی میں این اے 134 سے سدرہ فیصل کو توا، پی پی 182 سے عقیل آرائیں اور پی پی 183 سے رانا الماس کو پیالے کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ جہانیاں میں این اے 147 سے نوید جھانیہ، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 209 سے ہمایوں خان اور پی پی 210 سے خالد جاوید کو حقہ کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ دیپالپور میں این اے 138 سے ایڈووکیٹ ارشد علی مہار کو بنچ، پی پی 187 سے سردار علی حیدر خان کو بنچ، پی پی 188 سے فیاض قاسم وٹو کو بھی بنچ کے نشانات الاٹ کے گئے ہیں۔ ظفر وال میں این اے 75 سے طاہر علی جاوید کو چارپائی، پھول نگر سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 134 پر سدرہ فیصل کو توا، پی پی 183 سے رانا الماس کو پیالہ اور پی پی 184 سے رانا تنویر ریاض کو گھڑی کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ کراچی میں این اے 232 سے پی ٹی آئی رہنما علیم عادل شیخ کو ریکٹ، این اے 236 سے عالمگیر خان کو بینگن، این اے 238 سے حلیم عادل شیخ کو ٹیبل ٹینس بال اور این اے 241 سے خرم شیر زمان کو ڈھول کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ سندھ کے شہر ٹنڈوالہیار میں این اے 217 پر پی ٹی آئی امیدوار روزینہ بھٹو کو بکری، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 58 پر راشد میؤ کو گائے، پی ایس 59 پر اسلم لغاری کو بکری کے نشانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں این اے 263 سے پی ٹی آئی کے سالار خان ’’حقہ‘‘ اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 44 سے ملک فیصل کو وکٹ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔