• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیورمین کی موت کا سبب بننے والا سیوریج نظام کیا ہے؟

--- فائل فوٹو
--- فائل فوٹو

گٹر یا مین ہول کی صفائی پر معمور  واسا کا ملازم سیورمین کہلاتا ہے جسے روزی روٹی کی خاطر دوسرے انسانوں کے گند میں اترنا پڑتا ہے، گٹر میں موجود زہریلی گیسز کی وجہ سے  موت کے قریب تر  رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی پڑتی ہے، بعض اوقات سیورمین یہ زہریلے اخراج سہہ نہیں پاتے اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں جانیے کہ ہمارے ملک میں سیوریج سسٹم کس طرح کام کرتا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہم اور آپ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سیوریج سسٹم کس طرح کام کرتا ہے؟

جنوبی ایشیا میں سیوریج کا نظام اُس وقت تشکیل پایا جب انگریزوں کے دور میں شہری علاقوں میں ٹوائلٹس کے اندر فلش سسٹم متعارف کرایا گیا۔

لندن میں قائم کیے گئے سیوریج سسٹم کی طرز پر یہاں بھی نکاسیِ آب کے لیے پائپ لائنوں کے ساتھ ساتھ سیور یا گٹر اور اُن میں داخل ہونے کے لیے ’مین ہولز‘ بنائے گئے۔

ان ’مین ہول‘ کا سائز اور ساخت اِس قسم کی رکھی گئی کہ سیورمین گٹر کے اندر اتر کر اُسے ہاتھ سے صاف کر سکیں۔ تقریباً 1 سو سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ملک میں سیور اور سیورمین کا یہ نظام آج بھی جوں کا توں  ہے۔

ملک کے شہری علاقوں میں نکاسیِ آب بلدیاتی اداروں اور میونسپلٹی کی ذمہ داری ہے جو اِس نظام کی دیکھ بھال کے لیے سیورمین یا کنڈی مین ملازم رکھتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر یہ سیورمین صرف ایک دن بھی گٹر کے اندر اتر کر ہماری گندگی کو صاف نہ کریں تو پورا ملک گندگی کا ڈھیر بن جائے گا، یہ لوگ غلاظت میں رہ کر ہمیں صاف ماحول فراہم کرتے ہیں۔

سیوریج سسٹم بلاک کیوں ہوتا ہے؟

دنیا بھر میں سیوریج سسٹم بلاک ہونے کی سب سے بڑی وجہ اُس میں کچرے کا پھینکا جانا ہے۔

لوگ اکثر گھر کا کوڑا کرکٹ، تولیے، خالی بوتلیں اور لوہے کے ٹکڑے نالیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اسپتالوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا فضلہ بھی سیور میں پہنچ جاتا ہے۔

لوگوں کی جانب سے گٹر اور نالیوں میں پھینکے جانے والے کچر میں موجود شیشے کا ٹکڑا یا سوئی وغیرہ سیورمین کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

سیوریج سسٹم میں موجود زہریلی گیسز کونسی ہیں؟

سیوریج گیس میں آرگینک اجزا موجود ہوتے ہیں ذا اُن کے آپس میں ملنے سے ہائیڈروجن سلفائیڈ، امونیا، میتھین اور کاربن مونوآکسائڈ جیسی بنیادی خطرناک گیسیں خارج ہوتی ہیں۔

گٹر سے خارج ہونے والی ان گیسز میں موجود صرف ہائیڈروجن سلفائیڈ ہی سڑے ہوئے انڈے کی بو دیتا ہے، جو کسی بھی عام انسان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

اگر سیوریج کی ان زہریلی گیسز کی سطح کم ہو تو یہ عام انسان کے لیے پھر بھی قابل برداشت ہوتی ہیں تاہم سیوریج لائنز، مین ہولز، گٹر وغیرہ میں ان کی سطح اس قدر زیادہ ہوتی ہیں جنہیں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی اگر کوئی شخص مسلسل اس کے زیر اثر رہے تو یہ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔

سیوریج سسٹم کی زہریلی گیسز کس طرح نقصان دہ ہوتی ہیں؟

ہائیڈروجن سلفائیڈ سیوریج گیسز میں بنیادی گیس ہے۔ تحقیق کے مطابق ہائیڈروجن سلفائیڈ جسم میں موجود آکسیجن سسٹم کے لیے زہریلی ثابت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مقدار میں اس کے زیر اثر آجائے تو یہ اس کے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتی ہے یا پھر اس کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

سیوریج گیسز میں شامل امونیا کی ایک مخصوص بو ہے، یہ اکثر کیمیکلز میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس گیس کے زیر اثر آجائے تو اس کی آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن ہو سکتی ہے جبکہ اس کی ضرورت سے زیادہ مقدار انسانی جان کے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہی۔ یہ بھی ہائیڈروجن سلفائیڈ کی طرح اعضاء کو نقصان اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔

میتھین اور کاربن مونوآکسائڈ دونوں گرین ہاؤس گیسز ہیں، جو ہائیڈروجن سلفائیڈ اور امونیا کی طرح زہریلی تو نہیں تاہم اس کی غیر ضروری مقدار انسانی صحت کے لیے نقصاندہ ہے جبکہ میتھین گیس کی زیادہ مقدار انتہائی آتش گیر ہے اور امونیا کے ساتھ ملکر یہ مزید خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

سیورمین گٹر کے اندر اِن گیسوں سے براہ راست تعلق میں آتے ہیں جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ گیسز جلد اور سانس کی بیماریوں کا باعث بھی بنتی ہیں، کچھ سینیٹری ورکرز کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے، کچھ کے بال وقت سے پہلے سفید ہو جاتے ہیں اور کچھ ہیپاٹائٹس اے اور بی جیسی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ لوگوں، اسپتالوں اور فیکٹریوں کی جانب سے گٹر اور نالیوں میں پھینکے جانے والا شیشے کا ٹکڑا، سوئی اور بلیڈ ہاتھ جیسا کچرا بھی ان کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔

کیا حفاظتی اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟

صفائی کے کام کے دوران سینیٹری ورکرز کے حادثات اور اموات کے بارے میں درست اعداد و شمار موجود نہیں۔ اگر سماجی تنظیموں کے دعوؤں اور میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کو دیکھا جائے تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

تاہم چند حفاظتی اقدامات سے ان کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اس میں حکومت کے ساتھ ساتھ آپ اور ہم ملکر بھی موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 

اگر ہم اپنے ارد گرد کا ماحول صاف رکھیں اور گھر، فیکٹریوں، اسپتالوں وغیرہ کا کچرا گٹر اور نالیوں میں پھینکنے کی بجائے انہیں صحیح طرح تلف کیا جائے۔

اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ سیورمین کو ضروری سامان کی مکمل کٹ (پی پی ای) دی جائے جس میں ہیلمٹ، سیفٹی بیلٹ، آکسیجن سلنڈر، بوٹ، ماسک اور دستانے شامل ہوں۔

خاص رپورٹ سے مزید