• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا افغانستان کے اندر آپریشن، TTP سے ملکر پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث حافظ گل بہادر گروپ ہدف رہا، دفتر خارجہ

اسلام آباد / کابل ( نیوز ایجنسیز / جنگ نیوز) پاکستان نے انٹیلی جنس بنیاد پر دہشت گردوں کیخلاف افغانستان کے اندر آپریشن کیا ۔ دفتر خارجہ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ملکر پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں ملوث حافظ گل بہادر گروپ ہدف رہا، افغانستان میں اقتدار میں رہنے والوں میں سے کچھ عناصر سرگرم طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، افغان حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ خوارج دہشت گردوں کا ساتھ دینے کی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے ،ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ اور اس کی قیادت حوالے کی جائے۔ آپریشن کے بعد افغان فورسز نے سرحدی علاقے پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت ؍ اہلکار زخمی ہوگئے ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کے خاتمے تک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں بھی آپریشن کیا ، انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر صحرا عرف جانان سمیت 8دہشت گرد مارے گئے۔دوسری جانب افغان عبوری حکومت نے تصدیق کی کہ خوست اور پکتیکا میں فضائی کارروائی کی گئی جس میں 8افراد مارے گئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے صبح پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ جاری بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن کا بنیادی ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید ہوئے، تازہ ترین حملہ 16مارچ 2024 کو شمالی وزیرستان میں میر علی میں ایک سیکورٹی پوسٹ پر ہوا اور اس میں سات پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر عبوری افغان حکومت کو بارہا اپنے سنگین تحفظات سے آگاہ کیا ہے، یہ دہشت گرد پاکستان کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں اور پاکستانی حدود میں دہشت گردانہ حملوں کے لئے مسلسل افغان سرزمین کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اس لئے اس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے بات چیت اور تعاون کو ترجیح دی ہے، ہم نے بارہا افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اور موثر کارروائی کریں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے پائے، ہم نے ان سے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے اور اس کی قیادت پاکستان کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے لوگوں کا بہت احترام کرتا ہے تاہم افغانستان میں اقتدار میں رہنے والوں میں سے کچھ عناصر سرگرم طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، ایک برادر ملک جو افغانستان کے عوام کے ساتھ مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ کھڑا ہے ، اس کے خلاف اس طرح کا رویہ ان کی تنگ نظری کو ظاہر کرتا ہے، انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں افغانستان کے عوام کے لئے پاکستان کی طرف سے دی جانے والی حمایت کو نظر انداز کیا ہے، ہم اقتدار میں موجود ان عناصر سے درخواست کرتے ہیں کہ معصوم پاکستانیوں کا خون بہانے والے خوارج دہشت گردوں کا ساتھ دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح انتخاب کریں۔ ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ علاقائی امن و سلامتی کے لئے اجتماعی خطرہ ہیں، ہم ٹی ٹی پی کی طرف سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے میں افغان حکام کو درپیش چیلنج کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں، اس لئے پاکستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حل تلاش کرنے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لئے کام جاری رکھے گا۔

اہم خبریں سے مزید