• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
27 رمضان المبارک 1366،اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جنم دن ہے۔ یہ بھی حقیقت کہ پاکستان کا ظہور 15 اگست 12بج کر ایک منٹ پر ہوا۔ اکتوبر 1948میں لیاقت علی خان کی کابینہ نے14اگست 1947کومملکت خداداد اسلامیہ کا یوم آزادی قرار دیا۔ باوجودیکہ پوری قوم 14 اگست پر یکسو ہوچکی، علمی اور تکنیکی بحث اس نکتے پر موجود رہے گی کیونکہ آزادی کا مژدہ 15 اگست 1947 رات 12 بجکر 1 منٹ پر سنایا گیا۔ آنے والی صدیوں میں مورخین ،محققین ، دانشور 15 اگست کو اجاگر رکھنے میں بخل سے کام لیں گے بھی نہیں۔ مغزماری جاری رکھیں گے۔ اپنا غوروفکر نکتہ دانی، دقیقہ رسی ، باریک بینی اتنی کہ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات 27 رمضان المبارک 1366جبکہ دن جمعۃ الوداع تھا۔ جب یہ سب کچھ تو27رمضان کو جنم دن تہوار منانے کے لئے منتخب کیوں نہیں ہوا؟ 19جولائی 1947 کو بادشاہ برطانیہ نے آزادی کی توثیق کی اور دستاویز پر دستخط ثبت فرمائے۔ اعلامیہ ماونٹ بیٹن نے کراچی پہنچ کر 14اگست کو دستور ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے پڑھ کر سنایا، ’’بادشاہ برطانیہ نے اٹھارہ جولائی 1947کو انڈین انڈی پینڈنس(آزادی) ایکٹ کی توثیق کرکے دو آزاد مملکتیں انڈیا اور پاکستان کو آزادی دینے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ مزیدیہ کہ ایکٹ آج رات 15 اگست 12 بجے سے نافذ العمل ہوگا‘‘۔ کیا معاملے کو اس زاویے سے بھی دیکھا گیا کہ آزادی عطیہ خداوندی، لیلۃ القدر کی دعائوں کے ترلوں حیلوں پر حجت ہی تو قائم ہوئی۔
اسٹینلے والپرٹ: (Jinnah of Pakistan) نے عظیم قائد کو عظیم الشان خراج تحسین پیش کیا ۔ آج ضرب المثل بن چکا ہے۔ ’’معدودے چند لوگوں نے تاریخ کا دھارا بدلا، معدودے چند سے بھی کم نے دنیا کا نقشہ تبدیل کیا اور شاید ہی کوئی ہو جس کے سر پہ قوم کے لئے ریاست کی تشکیل کا سہرا بندھا ہو‘‘، مختصراََ ایک معجزہ ہی تو تھا۔ اے اہل وطن ،وطن عزیز کا شب قدر و جمعۃ الوداع کو جنم، شق القمر سے کم معجزہ نہیں ہے۔ تحریک پاکستان کے وعدے وعید تھے بھی بلندوبانگ۔ عظیم قائد کی آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ ’’پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے۔ پاکستان، اسلام کی لیبارٹری کے طور پر دنیا کے سامنے ایک مثال بنے گا‘‘۔ جس ریاست کی بنیاد ہی دین اسلام ہو، جنم دن لیلۃ القدر اور وہ بھی شب جمعہ (الوداع)،27 رمضان سے بڑھ کر کوئی اور دن کیسے یوم آزادی قرار دیا جا سکتا ہے ؟ حکیم الامت نے جب اسلامی فکر کی نئی تشکیل Reconstruction of Religious Thoughts in Islam) (کے لئے معرکۃ الٓارا سات خطبات مرحمت فرمائے تو فکرونظر کا سمندر کوزے میں بند کرگئے۔ ’’جب تک فرد معاشرے کا اور معاشرہ مذہب کا حصہ نہیں بنے گا، مطلق حقیقت کو سمجھنے کے لئے اس کی استعداد محدود رہے گی۔ جبکہ مطلق حقیقت تک رسائی عقل محض کے بس کی بات نہیں۔ جس کائنات کے سروں کے تعین میں عقل ساتھ چھوڑ جائے، نت نئے جدید فلسفے ایجاد ضرور ہوں گے اور مفید بھی رہیں گے مگر مطلق حقیقت سے دور رہیں گے۔ چنانچہ حقیقت اٹل، مذہب کا سہارا لئے بغیر مطلق حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف مذہب کا اجتماعی تصور، معاشرے اور قوم کو تشکیل دیتا ہے۔ جبکہ مذہب کا لب لباب ایمان ہے۔ مذہب فقط اداراتی معاملہ ہے نہ خالی خیال نہ احساس وعمل۔ مذہب ایک مکمل انسان بلکہ معاشرے کا اظہار ہے۔ چنانچہ معاشرے میں مذہب کی مرکزی حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا‘‘۔ پیرومرشد کے پرپیچ، دقیق، مدلل، فلسفیانہ خطبوں کی روشنی میں تصور پاکستان کا ڈھانچہ اور اسٹرکچر تعمیر ہوا۔ جس میں نظریاتی ریاست اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی پابند تھی۔ عظیم قائد نے یہی بات گرہ سے باندھی اور نظریہ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اقبال کا ترانہ بانگ درا تھا بھی یہی کچھ، کہ ’’قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں،’’کچھ ‘‘بھی نہیں‘‘۔بدقسمتی کہ جس قوم کے لئے ملک حاصل کیا، اب اس ملک کو ایک قوم کی تلاش ہے۔ قوم بنتی بھی کیسے؟ قوم کی قیادت گندی نسل کے بددیانت ، بدکردار زاغوں کے قبضے میں چلی گئی، دین بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ بھولے بھالے عوام کو یہ سمجھنے ہی نہ دیا گیا کہ ’’ان کا اللہ، نبیؐ ، کتاب ، حرم پاک، نفع، نقصان سب کچھ ایک ہے‘‘۔ ؎کچھ بڑی بات تھی! ہوتے جو مسلمان بھی ایک؟
27رمضان المبارک کو یوم آزادی نہ منانا، قدرت کا منہ چڑھانا ہی تو ہے۔ حرج ہی کیا تھا کہ اسلامی کیلنڈر نافذ کر دیا جاتا۔ 14اور 15اگست کا قضیہ بھی پاک رہتا جبکہ ہر سال 27رمضان المبارک پر یکسوئی، اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہدوپیمان کی تجدید پر بھی اکساتی۔ یہ تھوڑا سانحہ ہے کہ ایک وقت مسلم قوم وجہ آزادی، آج درجنوں قومیتوں کے بکھیڑوں ،جھگڑوں میں گم ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو قبیلے، قابلیتیں، ذاتیں، شکلیں مخلوق کی باہمی پہچان اور تعارف کا ذریعہ بنائی تھیں، آج وجہ نزاع بن چکیں۔ سب نے برابر ہونا تھا، کسی قومیت ،فرقہ ،گروہ کو کسی پر برتری نہ تھی۔ برتری کا تعین اعمال حسنہ نے کرنا تھا۔ مملکت اسلامیہ کی ایجاد تاریخ انسانی اور اصول سیاست کی کسی کسوٹی پر پورا نہیں اترتی ہے۔ عطیہ خداوندی اور ایک معجزہ ہی تو ہے۔ آزادی کی گھڑی تھی بھی شُبھ، مسلمانوں کی کثیر تعداد عبادت الہی میں ماتھے، گھٹنے ، ایڑیاں رگڑنے میں مصروف و مشغول تھی۔ استغفارات مناجات، خواہشات ، دعائیں، آہیں، سسکیاں، ہچکیاں آسمانوں کو چیر رہی تھیں۔ رمضان کا آخری عشرہ مبشرہ، بڑی تعداد اعتکاف بیٹھی، سجدے، التجائیں ،منت سماجت معافی تلافی میں زمین آسمان ایک کر رہی تھیں۔ ذات باری تعالیٰ نے سورۃ القدر میں اس رات کی دین اور قرآن میں قیمت ، فوقیت کی اہل ایمان کو بشارت دے رکھی تھی۔
پاکستان کا قیام یہی تو راسخ کرگیا کہ 1366 کی 27 ویں رمضان ہی شب قدر تھی۔ صدحیف! قدر کی رات کو جنم لینے والی ریاست کی ہم نے قدر نہ کی۔ شاید ہم اہل ہی نہ تھے۔ 1947 اور 1948 میں یوم آزادی 15 اگست کو منایا گیا تھا۔ دونوں موقعوں پر عظیم قائد کا آزادی کے حوالے سے قوم کے نام پیغام بھی نشر ہوا۔ 14 اگست کا فیصلہ اکتوبر1948 میں کابینہ کے اجلاس میں ہوا ،وجہ بھارت سے منفرد اور ممیز مقام رکھنا تھا۔ کاش پہلی کابینہ ان جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے اسلامی کیلنڈر نافذ کرجاتی۔ 14 اور 15 اگست کے دونوں دن 27 رمضان المبارک کے اندر جذب رہتے۔ بکھیڑا ، جھگڑا ہونا ہی نہیں تھا۔ 27 رمضان کی موجودگی آنے والی نسلوں کو سوچنے سمجھنے، غوروفکر کی دعوت بھی دیتی۔ پاکستان کا مطلب و مقصد کیا ہے؟ منزل کے تعین میں کنفیوژن رہنا نہیں تھا۔
دو رات پہلے قیام اللیل کے سلسلے میں ایک مسجد میں پڑائو رہا۔ ہزاروں مسلمانوں کے جلو میں رگڑتے ماتھے، گڑگڑاتی دعائیں، سسکیوں بھری آہیں، اُمت مرحومہ کے لئے مناجات، ایک عجیب پراثر ماحول اور منظر پیش کررہی تھیں۔ انمٹ نقوش چھوڑ رہی تھیں۔ اپنے چشم تصور میں 27 رمضان، 1366گھوما۔ گمان اغلب رہا ایسی ہی التجائیں رہی ہوں گی۔ تب ہی تو ایسا معجزہ رونما ہوا۔ پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ! پر موقوف ریاست شب قدر کی برکتوں کا نتیجہ ہی تو تھا۔ کیا حکمرانوں سے گزارش کی جاسکتی ہے، کہ 27رمضان المبارک کو یوم آزادی مقرر فرما دیں۔ جہاں ہر سال 27رمضان المبارک میں اللہ تعالی سے تجدید ایفائے عہد کا موقع ملے گا وہاں دو تہواروں کی چھٹیاں بھی اکٹھی ہو کر،دین دنیا کے مزے کو دوبالا کر جائیں گی۔ 27 رمضان المبارک سے 3 شوال تک 7/6 دن اکٹھی چھٹیاں یکسوئی سے عبادت، جشن آزادی دھوم دھام سے منانے سے لے کر عید تہوار تک،علاوہ ازیں ملک کے طول وعرض میں پھیلے عوام الناس اپنے اپنے گھروں میں یا اپنی پسند کی جگہ پر اپنے پیاروں، دلاروں کے ساتھ بھرپور طریقے سے تہوارین منا پائیں گے۔ بکھری ہوئی ایک ،دو تین چھٹیاں ہر تہوار کا مزہ کرکرہ کر جاتیں ہیں۔ سال میں کبھی تو ایک موقع آئے جب 6/8 چھٹیاں اکٹھی مل جائیں۔ امریکہ نے تقریباََ سارے تہوار ہفتہ اتوار کے ساتھ جمع کرکے طویل ویک اینڈز بنالئے ہیں۔ Thanks Giving ، ایسٹر وغیرہ کو کئی دنوں کی چھٹیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کرسمس سے نیو ائیر تقریباً10 دن پورا امریکہ بند ملے گا۔ لوگ پلاننگ کے ساتھ موثر طریقے سے اپنی چھٹیاں انجوائے کرتے ہیں۔
مسلم مملکت کے لئے 27رمضان المبارک بمع عید الفطر دو آتشہ، کہ نظریاتی ا’منگ اور تہواریں اُمڈ اُمڈ، اُٹھ اُٹھ ساتھ ساتھ رہیں گے۔ قوی امید کہ حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگے گی، باقی رہے نام اللہ کا، کہ دوام ایک ہی ہستی کو ہے۔
تازہ ترین